کویت کی مسجد میں خود کش حملہ,27 افراد ہلاک


6577232-3x2-700x467

کویت کی مسجد میں  خود کش حملہ، 27 افراد ہلاک

کویت کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش حملے کے نتیجے میں 27  افراد ہلاک اور200 سے زائد زخمی ہو گئے۔ کویت کے ضلع سوابر کی امام الصادق مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی کہ اس دوران خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق اور 200 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ یہ خودکش حملہ تھا جب کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوور نماز کے دوران ہی مسجد میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

کویت کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزرات داخلہ نے خودکش حملہ آور کی شناخت سلیمان عبدالمحسن القعبہ کے نام سے کی ہے۔

150628122908_kuwait_mosque_saudi_bomber__439x549_afp

1471294_854043031351215_436488978081429541_n

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت مسجد میں 2 ہزار سے قریب لوگ موجود تھے جن میں سے کئی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

11667281_854042984684553_1633634492831348531_n
کویتی پارلیمنٹ کے ایک رکن خلیل الصالح نے بتایا ہے کہ ایک خودکش حملہ آوور جس کی عمر 30 سال سے کم تھی، نے خود کو دھماکے اڑایا۔

11012476_854043101351208_3469519614454163891_n
خلیل الصالح کے مطابق انہوں نے کئی افراد کو خون میں لت پت مسجد کے فرش پر پڑے دیکھا ہے۔کویتی اخبار الجریدہ کے مطابق خودکش حملہ آوور نے امام الصادق نامی مسجد کو نشانہ بنایا اور اس واقعے میں  27 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

10399996_854043071351211_6464151221135689298_n
کویت کی سرکاری نیوز ایجنسی کونا نے بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی ہے لیکن اس حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔دولتِ اسلامیہ نےجو شعیہ مسلمانوں کو بدعتی قرار دیتی ہے، مسجد پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

11231805_854043094684542_711232651247783498_n
دہشتگردی اور بم دہماکے خلاف اسلام ہیں ۔بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے داعش کے سفاک دہشت گرد اسلام کے کھلے دشمن ہے اور کویت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے . داعش دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ماہ رمضان میں مسجد پر داعش دہشت گردوں کا حملہ اسلامی اور انسانی اقدار کیخلاف ہے۔ ظالم دہشتگردوں کو مسجد، جو اللہ کا گھر ہوتی ہے کی حرمت کا بھی خیال نہ ہے؟

150321YemenMosqueattack-jpg
قران میں ارشادہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے ۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے ۔
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 114 )
مسجد اللہ کا گھر ہے ۔ مسجد میں اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے ۔
اورمسجد کی اہمیت وخصوصیت کے بارے میں اللہ کے رسول فرماتے ہیں :
أحب البلاد إلى الله مساجدها
اللہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
( مسلم ، کتاب المساجد ، باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح وفضل المساجد ، حدیث : 1560 )
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ {التوبہ18}
قرآن کریم میں مساجد کی تعمیر کو اہل ایمان کی صفت قرار دیا گیا ہے:
”انما یعمر مساجد اللّٰہ من آمن باللّٰہ و الیوم الآخر و اقام الصلوٰة و اتی الزکوٰة و لم یخش الا اللّٰہ… الخ۔“ (التوبہ:۱۸)
مساجد بنانے والے اور ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے‘ نبی آخر الزمان‘کی ‘زبانی ”اللہ کے پڑوسی‘ اللہ کے اہل‘ اللہ کے عذاب کو روکنے کا سبب اور اللہ کے محبوب“ کا خطاب پانے والے ہیں۔
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے
مسجد کو شریعت میں اللہ تعالی کا گھر کہا گیا اور اسکی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ۔ دہشتگردوں کو چاہئیے کہ مساجد جو اسلام میں ایک تقدس کی جگہ ہے اس کو برباد نہ کریں۔
مساجد پر خود کش حملے ، مساجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کی دہشتگردوں کی کھلی اور ناپاک سازش وشرارت ہے اور کوئی راسخ العقیدہ مسلمان اس طرح کی شیطانی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ میں صرف سجد ضرار کی تباہی کا حکم خدا کی طرف سے آنحضرت صلعم کو آیا تھا ۔ مساجد اسلام کو زندہ و تابندہ رکھنے میں بڑی ممد و معاون ہیں اور مساجد کی تباہی جیسی غلیظ حرکتوں سے اسلام اور کویت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
داعش کے دہشتگرد طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، مسلمانوں پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔ دہشتگرد مسجدوں کی جو کہ اللہ کے گھر ہیں، بے حرمتی کر رہے ہیں۔

Advertisements