تیونس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی


150626133613_sousse_resort_tunis_640x360_afp

تیونس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

شمالی افریقی ملک تیونس کے ایک ساحلی تفریحی مقام سوسہ کے 2 ہوٹلوں پر دہشت گرد حملے میں غیرملکیوں سمیت کم از کم 39 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔داعش کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں مسلح شخص کی شناخت ابو یحییٰ القیراوانی کے نام سے کی گئی ہے، "جو خلافت کا سپاہی” تھا اور جس نے "جہادی گروپ” کے دشمنوں کو نشانہ بنایا۔

558e2cd1d7927

4bhbda2ce008535nz_620C350
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے تیونس کے وزیراعظم حبیب اسد کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کو تیونس کے ساحلی تفریحی مقام پر ’ہوٹل امپیریئل مرحبا‘ کے سامنے ہونے والے اس حملے میں 38 افراد ہلاک ہوئے جبکہ وزرات صحت نے 38 افراد اور ایک حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کی۔حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم 36 افراد زخمی بھی ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں میں برطانیہ کے ساتھ ساتھ جرمنی، بلغاریہ اور فرانس کے شہری بھی شامل ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے ابتداء میں کم از کم 15برطانوی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم انھوں نے مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا، جبکہ آئرلینڈ کی حکومت نے بھی ایک آئرش خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

97947a393ee2b9813d352d0f97fa200d_M
حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک دہشتگرد حملہ ہے جس کے دوران مرحبا نامی ہوٹل کو ہدف بنایا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا تاہم انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ حملہ آور ایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔

150629001041_seifeddine_rezgui_640x360_bbc_nocredit
مقامی افراد نے بتایا کہ دہشت گردوں نے دوپہر کے وقت ساحلی مقام پر حملہ کیا جب ساحل پر سیاحوں کا کافی رش تھا۔
http://www.dawnnews.tv/news/1023068
داعش دہشتگرد گروہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس حملے کو غزوہ تیونس سے تعبیر کیا ہے- داعش دہشتگرد گروہ نے تیونس کے عوام کے نام اپنے پیغام میں اس قسم کے مزید حملے کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ واضح رہے کے داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر اپنے جہالانہ افکار و نظریات کی بناپر شام اور عراق میں دسیوں مساجد، مزارات اور تاریخی مقامات کو مسمار کرچکے ہیں-
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ داعش قاتلوں اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور ایک اسلام دشمن تنظیم ہے۔عورتوں اور بچوں کا قتل جہاد نہ ہے بلکہ دہشتگردی ہے۔حالت جنگ میں بھی عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت ہے۔
تیونس میں غیر ملکی سیاحوں کا قتل ملک کو بین الاقوامی برادری سے الگ تھلگ کروانے اور ملکی معیشت کو سیاحت کی مد میں ہونی والی آمدن سے محروم کرکے ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی ایک مذموم اور ملک و اسلام دشمن داعش کی کاراوائی ہےاور یہ تیونس میں سیاحت کا قتل ہے۔ سیاح تیونس کے مہمان ہیں اور مہمان کو قتل کرنا کسی کلچر اور اسلامی شریعہ و تعلیمات کے منافی ہے۔
دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں. اسلام نافذ کرنے کا دعوی کرنے والے دن رات اسلامی اصولوں و شعار کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے۔

Advertisements