آپریشن ضرب عضب آخری مرحلہ میں داخل


365106-Zarbeazb-1433878608-362-640x480

آپریشن ضرب عضب آخری مرحلہ میں داخل

پاک فوج آئندہ ہفتوں میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کوآخری دھکا لگانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اب آپریشن ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ پاک فوج کے مطابق شمالی وزیرستان اور فاٹا میں طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کے بڑے گڑھ میں ایک سال قبل جو آپریشن شروع کیا گیا تھا اسکا 90 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے۔ مقامی افراد اور سکیورٹی فورسز کے مطابق اب وادی شوال میں فوج اپنی پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ یہ اہم علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہ تحریک طالبان کا مرکز ہے۔

index

آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2700 سے زائد عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں جبکہ انکے 800 سے زائد ٹھکانے تباہ کئے گئے ہیں۔ آپریشن سے متعلقہ ایک سینئر فوجی اہلکار نے بتایا کہ فوج زمینی کارروائیاں شروع کرنے سے قبل اس آپریشن کو تیز تر کر رہی ہے، فضائیہ کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔ اس آپریشن کو فیصلہ کن اور حتمی دھکا لگایا جا رہا ہے۔ بمباری سے سخت ٹارگٹس کو آسان (سوفٹ) اہداف میں منتقل کیا گیا ہے کیونکہ شوال سے مزاحمت کا اندیشہ ہے۔

663142-PakistanArmyAFP-1390599242-705-640x480
اس عسکری کارروائی سے براہ راست وابستہ ایک اعلیٰ فوجی اہلکار بتایا ہے کہ اب سپاہی حتمی زمینی پیشقدمی کی تیاری میں ہے لیکن اس سے قبل فضائی کارروائی کی جائے گی، ’’ہم فضائی بمباری کی مدد سے مشکل اہداف کو آسان بنائیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ شوال میں زمینی کارروائی کے دوران جنگجوؤں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہو گا۔

w460
عینی شاہدین نے بھی شوال میں فوجی دستوں کی نقل و حرکت کی تصدیق کی ہے۔ اسی تناظر میں کچھ قبائلی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ جنگجو حکمت عملی کے تحت سرحدی علاقوں سے پسپا ہو کر افغانستان میں پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک قبائلی رہنما عجب خان نے بتایا، ’’روزانہ کی بنیادوں پر دو درجن جنگجو اس علاقے سے فرار ہو رہے ہیں۔ کم ازکم دو سو جنگجو ابھی حال ہی میں افغانستان جا چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ جنگجوؤں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مورچے بنا لیے ہیں اور وہ کسی فوجی کارروائی کے نتیجے میں سخت جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
مقامی قبائلی عجب خان نے بتایا کہ روزانہ قریباً دو درجن سے زائد عسکریت پسند علاقے سے نکل رہے ہیں۔ حال ہی میں 200 عسکریت پسند افغانستان چلے گئے۔

taliban-chief-makes-last-ditch-bid-to-assert-authority-1399760943-6834
ضرب عضب نے دہشتگردوں کے مواصلاتی رابطے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ابتدا میں ہی توڑ دیے تھے۔ مزید فوج نے دہشتگردوں کے انتظامی ڈھانچے کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا، اور دہشت گرد بیرونی قوتوں سے ملنے والی کمک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ آپریشن کی کامیابی سے ریاست کولاحق خطرات کم ہوتے چلے گئے۔
سب سے بڑی کامیابی امن و امان کی صورتحال ہے جو کہ ماضی کی نسبت اب بہت بہتر ہوچکی ہے اور یہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ہی ہے۔ اس آپریشن میں شدت پسندوں کو اُن کے ٹھکانوں سے نکال کر ماربھگایا گیا، اُن کے ٹھکانے تباہ کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے، امن وامان کی بہتر صورت حال سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔خیبر پختونخوا کے محکمہ پولیس نے رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال کے پہلے چار ماہ میں گزشتہ تین سال کے مقابلے میں اسی مدت کے دوران رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی نسبت نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں دہشت گردی کے 85 واقعات رونما ہوئے جبکہ 2014 میں اسی عرصے کے دوران 183، 2013 میں 173 اور 2012 میں 134 واقعات رونما ہوئے تھے۔
فوج نے اس ایک سال میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر 9 ہزار سے زائد آپریشن کئے ہیں۔ایک ہزار سے زائد شدت پسند اور اُن کے سہولت کاروں کو ملک بھر سے گرفتار کیا گیا ہے۔ 2763 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ اِن کی خفیہ کمین گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 873 خفیہ ٹھکانے تباہ کئے گئے ہیں۔ ضرب عضب میں 253 ٹن کا بارودی مواد بھی برآمد کرکے تحویل میں لیا گیا ہے۔
ہمیں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے سااتھ ساتھ اس آپریشن کے لاکھوں متاثرین کو بھی ان کے گھروں میں آباد کرنا ہے جو بڑا مشکل اور صبر آزما کام ہو گا۔ ۔ جنوبی وزیرِستان میں آپریشن کو پانچ سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، لیکن اب بھی بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے ہیں۔
سول اور فوجی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج تقریباً 12 لاکھ آئی ڈی پیز کی واپس آبادکاری ہوگا۔ پناہ گزین پرُامید ہیں کہ وہ جلد اپنے علاقوں میں، اپنے گھروں میں واپس جا سکیں گے جو دہشتگردی سے پاک و صاف علاقہ ہو گا۔
صرف طالبان کو مار بھگانا کافی نہیں ہے، بلکہ ان ایجنسیوں کو قومی دھارے میں لانا، اور انہیں ملک کے دیگر حصوں کی طرح سیاسی اور اقتصادی حقوق دینا بھی ضروری ہے۔ سکیورٹٰی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان علاقوں کے لوگوں کو قومی دھارے میں لائے بغیر کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عسکری کارروائی سے ملنے والی کامیابی صرف ایک حصہ ہے لیکن ان علاقوں سے بے گھر ہونے والوں کی مکمل بحالی اور ان کی اقتصادی ترقی کے بغیر مکمل کامیابی مشکل ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے آپریشن ضرب عضب کے ایک سال کو فتح کا سال قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔آپریشن ضرب عضب نے ایک سال کا سنگ میل عبور کرلیا،وزیردفاع خواجہ آصف نے اس سال کو فتح کا سال قرار دیدیا،ایک بیان میں خواجہ آصف نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب آخری مرحلے میں داخل ہوچکا۔ دہشتگردوں کے خلاف ایک سال میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، وزیردفاع کا کہنا تھا کہ قوم کے بہترمستقبل کیلئے اپنا آج قربان کرنے والے قابل احترام ہیں،قوم مسلح افواج کے شہیدوں کی احسان مند رہے گی،شہدا کے خاندانوں نے وطن کیلئے غیرمعمولی قربانیاں دیں،،،اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائے۔
دہشتگردی کے خاتمہ سے علاقہ و خطہ میں امن قائم ہوگا اور استحکام آئے گا۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور اسلام کے مقدس نام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گرد پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلام کا چہرہ بھی مسخ کر رہے ہیں۔
اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کاامیج خراب ہورہا ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق، کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئےہوتا ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔

Advertisements