داعش ، امت مسلمہ و عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرہ


islmc st

داعش ، امت مسلمہ و عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرہ
داعش دہشتگرد تنظیم نہ صرف مشرق وسطی بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی امن و سلامتی کے لئے بہت بڑا اور سنگین خطرہ ہے، داعش کا خاتمہ عالمی و خطے کےامن واستحکام کیلئے ضروری ہے ۔ لہذا اس لئےد اعش دہشت گردوں کے خلاف لڑائی نہ صرف خطے بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

150630090107_isis_640x360_ap_nocredit

اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل نے کہا ہے کہ غیر ملکی حما یت یا فتہ دہشتگرد گروہ داعش عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی حما یت یا فتہ دہشتگرد گروہ داعش جس نے شام و عراق میں قتل و غا رت کا با زار گرم کر رکھا ہے عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔ داعش نے روس کے مسلم اکثریتی علاقے شمالی قفقاز میں اپنا صوبہ قائم ہونے کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مطلب داعش یورپ میں قدم جمانے کی فکر میں ہے۔ اس تکفیری گروہ کا قلع قمع کرنے کیلئے بین الاقوامی برادری کی طر ف سے مشتر کہ کا روائی کی ضرو رت ہے ۔ بد نام زمانہ دہشتگرد گروہ داعش ،شام و عراق میں جنگی جرائم، انسانیت سوز مظالم ، یزیدی اقلیت کے قتلِ عام اور نسل کشی اور قتلِ عام جیسی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔

149613

داعش مسلم امہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے، امت مسلمہ کو داعش کے خلاف متحد ہونا ہوگا، مسلک کے اختلافات کی بنیاد پر خون ریزی کرنے والے اسلام کے دشمن ہیں اور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ انتہا پسندی عالم اسلام کے لئے زہر قاتل بن چکی ہے۔ داعش والے خوارج ہیں اور ان کا اسلام سے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ہیں۔ داعش کی طرف سے سعودی عرب اور کویت میں شیعہ مساجد پر اور تیونس میں سیاحوں پر  خودکش حملے خطرناک رجحان کا عکاس ہیں۔ محکوم شہریوں پر آئے روز کا ظلم، غیر شرعی اور انسانیت سوز سزائیں   اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ،  آزاد دنیا کے لئے بہت  بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
داعش کے جنگجو عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تاریخی نوادرات  اور ثقافت ہی کو تباہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ انھوں نے صوفیا اور علما کے متعدد مزارات کو بھی گرا دیا ہے۔
جب سے داعش نے موصل پر قبضہ کیا ہے اس کے بعد سے اب تک موصل، کرکوک اور اس کے مضافات میں 30 مزارات اور 9 مساجد کو دھماکوں سے شہید کیا جا چکا ہے۔ یہی نہیں، داعش نے شام اور عراق میں متعدد صحابہ کی آخری آرام گاہوں کو بھی بموں سے تباہ کر دیا۔ لیکن سب سے بڑے سانحات اس وقت ہوئے، جب داعش نے حضرت یونس، حضرت شیث، حضرت جرجیس اور حضرت دانیال علیہم السلام جیسے اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں کے مزارات تک کو شہید کر ڈالا۔ جامعہ الازہر نے ان وحشتناک اقدامات پر کہا کہ داعش نے ثابت کیا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دولت اسلامیہ کے پاس نہ صرف مختلف انواع کے چھوٹے اور بڑے ہتھیار موجود ہیں، ان ہتھیاروں میں ٹرکوں پر لگی ہوئی مشین گنیں، راکٹ لانچرز، طیارہ شکن بڑی توپیں اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں، ان کے پاس وہ ٹینک اور بکتربند گاڑیاں بھی موجود ہیں جو انھوں نے شامی اور عراقی فوجیوں سے چھینی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے پاس دو ارب ڈالر کیش کی شکل میں موجود ہیں، اس کا مطلب ہے کہ وہ اس وقت دنیا کا امیر ترین جنگجو گروہ ہے۔
داعش کو پاکستان و افغانستان کی کئی کالعد م تنظیموں کی حمایت حاصل ہے جن میں طالبان، جند اللہ، لشکر جھنگوی مبینہ طور پر پیش پیش ہیں ۔ اس سے قبل تحریک طالبان کے ترجمان سمیت اورکزئی، کرم، خیبر اور ہنگو ایجنسیوں کے طالبان کمانڈروں نے بھی داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرکے اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
افغانستاں و پاکستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ لمحہ فکریہ ہے. طالبان کی داعش میں شمولیت اور داعش کی پاکستان و افغانستان میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں یقینا سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان و افغانستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہان پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث ہیں۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دہنسنے سے خطرہ ختم نہ ہو جائے گا۔ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے مظالم اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔
پاکستان و افغانستان کو چاہئے کہ وہ مغربی ممالک کی طرح ، نوجوانوں کو جہاد کی غرض سے بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے اور ملک میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ مستقبل قریب میں افغانستان و پاکستان بھی داعش کی سرگرمیوں کا گڑھ بن جائے۔

داعش ،القاعدہ کا باغی گروہ ہے جو آپس میں چند ہزار ڈالروں کی تقسیم کے معاملے پر ایک دوسرے سے جدا ہوا۔ داعش کا شمار دنیا کی سرفہرست جہادی تنظیموں میں کیا جانے لگا اور آج یہ تنظیم، القاعدہ سے بھی زیادہ طاقتور تصور کی جارہی ہے۔ داعش کا قیام اْس وقت عمل میں آیا جب القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وفات کے بعد عراق میں القاعدہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی جنہیں ابودعا بھی کہا جاتا ہے، نے 2011ء میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد اس تنظیم کی بنیاد رکھی اور کسی کی نظروں میں آئے بغیر خاموشی سے ہزاروں القاعدہ اور غیر ملکی جن کا تعلق پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چیچنیا، یمن اور مصر سے بتایا جاتا ہے، کو تنظیم میں شامل کرکے اْنہیں عراق اور شام کے محاذ پر بھیجا۔

داعش سلفی اور وہابیت کی انتہا پسند شاخ ہے۔ د اعش دہشت گردوں نے اسلام کے پانچوں مکاتب فکر میں سے کسی ایک کو بھی قبول نہیں کیا ہے جبکہ چار مکاتب تو سنی مسلمان ہیں جب یہ چاروں کو ہی نہیں مان رہے تو پھر کس طرح سنی مسلمان کہلوانے کے حق دار ہیں۔ اسلام کے بالکل بر عکس اصول اور قواعد بنا لئے ہیں ، جیسا کہ ان کے اصولوں کے مطابق شیعہ اور عیسائی خواتین کی بے حرمتی اور آبرو ریزی جائز ہے ، اسی طرح انسانوں کے جگر نکال نکال کر کھانا بھی ان کے نزدیک حرام نہیں ہے،ان کے نزدیک جہاد النکاح جیسی لعنت بھی جائز ہے جس میں اپنے جسم کی بھوک کی خاطر خواتین کا استعمال اور پھر تیس منٹ بعد طلاق دے دیا جانا۔
داعش اور ان کے ساتھ اتحاد میں موجود دیگر دہشت گرد گروہ کسی طور سے بھی سنی مسلمان نہیں ہیں،بلکہ یہ خوارج ہیں اور اسلام کے عین خلاف کاروائیوں میں ملوث ہیں،انہوں نے اسلام کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ ۔مردہ انسانو ں کے جگر نکال کر کھانا یہ پیغمبر اسلام(ص) کی تعلیمات کا نہیں بلکہ اسلام دشمن ہندہ کی تعلیمات ہیں،اور اس عمل کو مسلمان معاشروں میں قیامت تک حرام اور گناہ سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جان اینڈریو کہتے ہیں کہ اس طرح کے جہادی نام نہاد گروہوں میں لڑنے والے افراد یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ شاید وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں لیکن در اصل وہ دشمن کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں خود بھی علم نہیں ہوتا۔ان کاکہنا تھا کہ داعش کا رویہ بالکل غیرا سلامی ہے،انہوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد دہشت گردی اور جرم کو فلم بندی کرتے ہیں اور مزے سے نشر کرتے ہیں جو کہ خود ایک غیر اسلامی فعل ہے،وہ انتہائی فخرکرتے ہیں اپنے جرائم اور ظالمانہ کاروائیوں پر ، اور یہ واقعاً اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات میں ایسا کہیں نہیں ملتا ہے۔
داعش کی ایسی درجنوں ویڈیوز موجود ہیں جن میں داعش کے دہشت گرد مرے ہوئے سپاہیوں کے جگر نکال نکال کر کھا رہے ہیں،یہ وہی کام ہے جو مسلمانوں کی دشمن ہندہ نے اسلام کے اوائل ادوار میں کیا تھا،انہوں نے داعش کے دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نہ تو پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت پر ہو اور نہ ہے صحابہ کرام کی سیرت پر۔اسی طرح کی ایک اور ویڈیو میں ایک خاتون کو اللہ اکبر کے نعرے لگا کر آبرو ریز کیا جا رہا ہے کیا یہ اسلام ہے؟ ایسا ہر گز نہیں اسلام ان شیطانی کاموں کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔
مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر نے شام اور عراق میں اپنی الگ سے ریاست قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے تکفیری افکار و نظریات کو خلاف اسلام قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ “داعش ایک خونخوار اور انسان دشمن تنظیم ہے، اس کے جرائم کا دین اسلام کی تعلیمات سے دور دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔”
نائجیریا کےمفتی اعظم الشیخ ابراہیم صالح الحسینی کے جامعہ الازھر میں منعقدہ کانفرنس کے دوران دیے گیے لیکچر کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے بھی دہشت گردی کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ ’’داعش‘‘ کے جنگی جرائم کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جس نوعیت کے ہتھکنڈے داعشی استعمال کر رہے ہیں وہ کسی مسلمان کے شایان شان نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسند تنظیمیں بالخصوص اسلامی خلافت کی دعویدار داعش نے خود کو اسلام کا باغی گروپ ثابت کیا ہے جو صرف لوٹ مار، قتل وغارت گری اور کشت و خون پریقین رکھتی ہے۔ تکفیری نظریات کو عام کرتی اور بے گناہ انسانوں کا خون بہاتی ہے۔ ایک مسلمان کے خلاف اعلان جنگ بدعتی خوارج کے نظریات ہو سکتے ہیں لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں اپنے مسلمان بھائی کےخلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں۔
اسلامی محقق اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر قبلہ ایاز نے کہا کہ شریعت اور اسلام کے احکامات کے مطابق الداعش اور اس کے پیرو کار خوارج ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو نظام اور/یا اسلام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔
اسلام سے متعلق داعش کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر داعش اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ داعش کا نام نہاد ، جہاد مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور داعش دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ داعش قاتلوں اور موت کے سوداگروں کا ایک گروہ ہے۔
داعش ،القاعدہ، بوکوحرام و طالبان، سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، سب مسلمانوں اور عالمی امن و خطے کے امن کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں اور ان تمام تنظیموں میں دہشتگردی و سفاکی کا عمل مشترکہ ہے۔یہ تمام دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور تباہی و بربادی ان کا طرع امتیاز ہے اور قتل و غارت ان کا وصف ۔
طالبان و داعش دونوں میں ایک قدر مشترکہ ہے ،وہ ہے خونخواری و بے رحمی اور بے گناہوں مسلمانوں کا ناحق خون بہانا۔ داعش اور طالبان کو بنانے والے ایک ہی ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ دارانہ فسادات کروانا چاہتے ہیں. طالبان اور داعش جیسی تنظیموں کے باعث مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔طالبان و داعش ،دونوں کے اپنے خلیفہ یا امیر المومنین ہیں۔ مسلم امہ میں بیک وقت دو امیر کیسے ہو سکتے ہیں؟ ابوبکر بغدادی اور ملا محمد عمر۔ دو امیروں کا مطلب امت مسلمہ میں افراتفری ،فتنہ اور تفرقہ ہو گا۔ آج کی دنیا مٰں کہیں بھی دو حکمران نہ دیکھے یا پائے جاتے ہیں کیونکہ حاکمیت ناقابل تقسیم ہوتی ہے۔ ایک کمبل میں دو فقیر تو سو سکتے ہیں مگر ایک نیام میں دو تلواریں نہ سما سکتی ہیں۔
امت مسلمہ کو ان قاتلوں اور ٹھگوں کی مکاری و دہوکہ دہی سے ہوشیار رہنا ہو گا۔

Advertisements