افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات


373753-TalibanWeb-1436331372-504-640x480

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان  امن مذاکرات

پاکستان کی ثالثی میں افغان حکومت اور تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مری میں ختم ہوگیا ہے، جہاں دونوں فریقین نے دوبارہ ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ترقی کی طرف قدم بڑھانے کے معاملے پر اپنا موقف پیش کیا۔

index
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بدھ کو اپنے ایک مختصر پیغام میں کہا "افغانستان میں قیام امن اور بحالی کی کوششوں کے لیے پاکستان ، افغان حکومت اور تحریک طالبان کے نمائندوں کے مابین مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے”۔
قاضی خلیل اللہ نے اس سے قبل بتایا کہ امریکا اور چین کے نمائندے بھی بطور مبصر مذاکرات میں شریک ہوئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شرکاء نے افغانستان میں قیام امن اور بحالی لانے سے متعلق اپنے نظریات اور تجاویز پیش کیں۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار قیام امن کے لیے ہر پارٹی کو خلوص اور پورے عہد کے ساتھ اس عمل کا حصہ بننا ہوگا۔
قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ شرکاء نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
شرکاء نے افغانستان اور خطے میں امن لانے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا اور امن اور بحالی کی فضا قائم کرنے کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

images
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے کام کرنے کی خواہش پر افغان حکومت اور تحریک طالبان افغانستان کا شکریہ ادا کیا۔
قاضی خلیل اللہ نے کہا "ہم نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے خدمات پراقوام متحدہ سمیت اپنے تمام پارٹنرز کا شکریہ ادا کیا”۔
باہمی اتفاق سے مذاکرات کا اگلا دور اب رمضان المبارک کے بعد منعقد کیا جائے گا۔
منگل کو آفیشلز کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کا ایک وفد افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کے لیے اسلام آباد پہنچا ہے، اگرچہ طالبان وفد کے شرکاء کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی تاہم ایک ذریعے نے بتایا کہ اسے طالبان کے تمام حلقوں کی نمائندگی حاصل ہے۔

150216112733_abdullah_640x360_bbc_nocredit
افغان صدر اشرف غنی کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ’اعلی سطحی افغان امن کونسل کا ایک وفد طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچا ہے‘۔
اس کونسل کو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
اشرف غنی کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کر رہے ہیں۔
تاہم ہاشمی نے بات چیت کے عمل کی طوالت، زیر بحث موضوعات اور مذاکرات میں طالبان کی شمولیت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا۔
مذاکرات میں پاکستان، امریکا اور چین کے حکام بھی شریک ہوئے جنہوں نے ان کے انعقاد میں مدد کی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی قوتیں بھی ان مذاکرات کی حمایت کررہی ہیں۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ حصے لینے والے ممالک کی حیثیت صرف سہولت کاروں ہی کی نہیں، اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کوئی ڈیل ہوجاتی ہے تو یہ ضامن کا کردار بھی ادا کریں گے۔
افغان وفد کی سربراہی ڈپٹی وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کی جبکہ دیگر اہم رہنماؤں میں صدر اشرف غنی کے مشیر حاجی دین محمد اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے نمائندے محمد نطیقی شامل تھے۔
دوسری جانب افغان گروپ کی سربراہی افغان دور میں اٹارنی جنرل رہنے والے ملا عباس نےکی، جو طالبان سربراہ ملا عمر اور طالبان شوریٰ کے اراکین کے کافی قریب خیال کیے جاتے ہیں۔
حالیہ کچھ مہینوں میں طالبان اور افغان حکام کے درمیان ملک سے باہر کچھ غیر رسمی ملاقاتیں ہوئی ہیں ، تاہم اس مذاکراتی عمل سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نظر نہیں آئی۔
طالبان نے گزشتہ مہینے تسلیم کیا تھا کہ وہ ایک افغان وفد کے ساتھ ناروے میں غیر رسمی بات چیت کر رہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ مئی میں قطر میں ہونے والی ایسی ہی غیر رسمی ملاقاتوں میں طالبان وفد نے عہد کیا تھا کہ وہ خواتین کی تعلیم اور ان کے کام کرنے کے حق کی حمایت کریں گے۔
خیال رہے کہ طالبان نے حکومت کے ساتھ بھرپور مذاکرات شروع کرنے سے پہلے غیر ملکی فوجوں کے افغانستان سے مکمل انخلاء کی شرط عائد کی تھی۔
امریکی اتحادی فورسز نیٹو نے دسمبر میں عسکریت پسندوں کے خلاف جنگی مشن ختم کر دیا تھا، تاہم مقامی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے لیے کچھ غیر ملکی فوجی دستے اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔
http://www.dawnnews.tv/news/1023555

news-1436939719-3204_large

افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملاعمر نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونیوالے امن مذاکرات کی حمایت کردی اورقیام امن کے لیے مذاکرات کا جائز قراردیدیا۔
عیدکے موقع پر جاری ہونیوالے پیغام میں ملاعمرنے کہاکہ مذاکرات کا عمل قانونی ہے اور ان مذاکرات کا مقصد افغانستان سے قبضے کا خاتمہ ہے ۔انھوں نے مزید کہا ’اگر ہم مذہبی اصولوں کو دیکھیں تو ان میں دشمنوں کے ساتھ امن مذاکرات منع نہیں ہیں۔ اس لیے ہماری سیاسی کوششوں کا مقصد افغانستان میں قبضے کو ختم کرنا ہے اور ملک میں اسلامی نظام لانا ہے۔

http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150715_mulla_omar_peace_talks_rh

دفتر خارجہ نے پاکستان کی میزبانی میں ہونیوالے افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کو ’’بریک تھرو‘‘ قرار دیا۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پہلی بار فریقین نے براہ راست مذاکرات کئے، پاکستان نے ان مذاکرات میں سہولت کارکاکردار ادا کیا، بات چیت میں ماحول بہت اچھا اور موافق رہا اور فریقین نے اتفاق کیا کہ وہ رمضان کے بعد دوبارہ ملاقات کریں گے، فریقین مذاکراتی عمل آگے بڑھانے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں۔

پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات سے خطے میں پائیدار امن آئے گا۔ خطے میں امن قائم ہونے سے افغان پناہ گزینوں کی عزت سے واپسی کا سازگار ماحول پیدا ہوگا۔افغان حکومت اور تحریک طالبان افغانستان کے درمیان مذاکراتی عمل کا دوسرا مرحلہ رمضان کے بعد اتفاق رائے سے ہوگا ۔سرکاری ذرائع کے مطابق افغان حکومت اور افغان امن کونسل کے اعلیٰ حکام نے افغان حکومت کی نمائندگی کی۔مختلف افغان گروپ کے نمائندہ وفد کی سربراہی ملا عباس ستنک زئی نے کی ، وفد میں قاری دین محمد حنیف اور مولوی جلیل شامل تھے جبکہ طالبان کی جانب سے ملا عبدالجلیل کی سربراہی میں 4 رکنی وفد شریک تھا۔
مذاکرات کو چین کے شہر ارومچی میں گذشتہ دنوں منعقد ہونے والے مذاکرات کا تسلسل یا دوسرا راؤنڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فروری میں کابل کے دورے میں افغان حکام اور طالبان کے درمیان رابطوں کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن کافی تاخیر کے بعد چین میں گذشتہ دنوں یہ پہلا رابطہ ہوا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے پچھلے ہفتے میڈیا بریفنگ میں بھی کہا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور مصالحت کے عمل میں مدد کر رہا ہے جو کہ افغانوں کی قیادت اور افغانوں کا اپنا عمل ہے۔

افغان مذاکرات کاروں نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور میں افغانستان سے خون خرابے کو ختم کرنے پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔حکومت کے مذاکرات کار دین محمد کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ بات چیت کا مقصد لڑائی کو ختم کرنا ہوگا۔دین محمد کے مطابق ملاقات میں حقانی نیٹ ورک کا ایک نمائندہ بھی شامل تھا۔ اس گروپ پر حالیہ سالوں میں افغانستان میں متعدد حملوں کا الزام ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘کسی بھی لمحے مذاکرات کا آغاز کرنا آسان نہیں ہوتا کیوں کہ دونوں اطراف کے اپنے اپنے مطالبات ہوتے ہیں تاہم یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی اس لیے ہم اسے مثبت پیشرفت سمجھتے ہیں۔حکمت خلیل کرزئی نے کہا کہ طالبان مذاکرات کاروں نے بات چیت کے دوران غیر ملکی فوجیوں، طالبان قیدیوں کی رہائی اور ان کی قیادت کو اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے جیسے معاملات اٹھائے۔نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کہا کہ مذاکرات میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ‘

ماضی میں طالبان نے مذاکرات کے لیے سخت شرائط رکھی تھیں جن میں تمام غیر ملکی فوجیوں کا انخلا بھی شامل تھا۔

پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں افغان حکام کی پہلی مرتبہ براہ راست طالبان کمانڈرز کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کا مقصد 13 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔

مری مذاکرات میں افغان حکام نے طالبان سے فوری طور پر سیزفائر کا مطالبہ کیا ہے جب کہ طالبان نے سیزفائر کیلیے افغانستان میں ’’متحدہ قومی حکومت‘‘ کے قیام اور اس میں طالبان کی شمولیت کے حوالے سے پاکستان اورچین کی جانب سے ضمانت دیے جانے کی شرط عائدکی ہے،پاکستان اور چین کی مصالحتی کوششوں سے ہونے والے مذاکرات میں افغان طالبان نے مستقبل کی افغان حکومت میں طالبان کی صف اول کی قیادت کو شامل کرنے کامطالبہ کیاجبکہ افغان حکام نے طالبان کی تیسرے درجے کی قیادت کی حکومت میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

افغانستان کی وزارت خارجہ نے کابل میں جاری ایک بیان میں ان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قیام امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے امید ہے کہ یہ مذاکرات پائیدار صلح کی راہ ہموار کریں گے۔ بیان میں پاکستان کی میزبانی کا بھی تعریف کی گئی ہے۔

یہ مذاکرات فریقین کے درمیان  ایک اہم پیشرفت ہے اگر ان مذاکرات میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے امور طے پا جاتے ہیں تو اس سے بات چیت کا عمل یقیناً آگے بڑھے گا جس کے پورے خطے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

رستم شاہ مہمند  نے کہا ہے کہ12 سال سے طالبان بات چیت کے لئے بالکل تیار نہ تھے اب ان کے مویقف میں تبدیلی آئی ہے جو خوش آئند بات ہے۔

قران حکیم کی سورۂ انفال میں ہدایت کی گئی ہے ’’اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے‘‘یعنی اللہ کے نزدیک صلح و آشتی اتنی پسندیدہ چیز ہے کہ دشمن سے دھوکے کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کے راستے کو ترجیح دینے کو کہا گیاہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، حتی الامکان خونریزی کو روکنا چاہتا ہے اور کوئی دوسری صورت باقی نہ رہنے کی شکل ہی میں مسلح جنگ کی اجازت دیتا ہے۔
اگر مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو افغان حکومت کے اس فیصلہ پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن ہمیں زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئیے اور ان حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے خون خرابہ ختم ہو گا اور ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے اور افغان طالبان قومی سیاسی دھارے میں بھی آ سکتے ہیں اور پر امن افغانستان ترقی کرے گا اور خطے میںامن و استحکام آئے گا ۔مگر طالبان کو بھی امن کی اس خواہش کو افغانستان کی کمزوری نہ سمجھنا چاہئیے۔

افغان طالبان نے ایک قدرے مبہم بیان میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے اپنی پالیسیوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں لائے ہیں۔

افغانستان میں ہونے والی سیاسی اور تزویراتی تبدیلیاں  پاکستان  پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔  پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ افغانستان میں  امن قائم ہو کیونکہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ، پاکستان  کے مفاد میں ہے لہٰذا امن مذاکرات کا آغاز پاکستان کی سنجیدگی اور خلوص نیت   کو ظاہر کرتا ہے۔

طالبان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئیےکیونکہ تشدد و دہشت گردی سے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ ملایا جاسکتا اور نہ ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی تشدد سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا اور پر امن حل نکالا جانا ممکن ہے.
دنیا بھر میں آج تک صرف اور صرف پر امن جمہوری تحریکیں ہی کا میابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ طالبان سے مزاکرات کے معمولات نہایت سخت اور پیچیدہ ہیں اور یہ کو ئی آسان کام نہ ہے اور نہ ہی کسی کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے جس سے الجھے ہوئے مسائل کا حل چٹکی بھر میں ہو جائے گا۔مذاکرات تعطل کا شکار بھی ہو سکتے ہیں لیکن مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش جاری رہنی چاہئے ۔مستقل مزاجی اور مصمم ارادہ سے ہر کام ممکن ہےاور مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔

150630090107_isis_640x360_ap_nocredit

 طویل خانہ جنگی کے بعد طالبان کا مذاکرات کے لئے تیار ہونا ایک اچھا شگون ہے۔طالبان کا مذاکرات میں تیار ہونے کی وجوہات میں پاکستان کا دباؤ اورپاکستان کا مدد سے ہاتھ کھینچنا، افغان سکیورٹی فورسز کا مستحکم رہنا اور دولت اسلامیہ فیکٹر اہم وجوہات ہیں۔ طالبان کے نزدیک دولت اسلامیہ ،طالبان کی سیادت کو بہت بڑا خطرہ ہیں جس کی موجودگی میں طالبان کا افغان حکومت کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنا ،ایک اچھی بات ہوگی کیونکہ طالبان جنگجو، افغان طالبان کو چھوڑ کر دولت اسلامیہ میں شامل ہو رہے ہیں۔ طالبان بھی طویل تنہائی کے بعد اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔
طالبان سے ہونے والے مذاکرات نہایت پیچیدہ اور صبر آزما ہونگے کیونکہ فریقین میں بہت سی بدگمانیان پائی جاتی ہیں اور نہ ہی کسی فوری بریک تھرو کی امید رکھنی چاہئیےمگر طالبان کی طرف سے اب تک ملنے والے اشاروں اور حکومتی ارادوں سے ایسا لگتا ہے کہ اس بار امن مزاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

قارئیں آپکی افغان امن مذاکرات اور ان مذاکرات میں اب تک ہونے والی پیش رفت  کے بارے میں کیا رائے ہے؟

Advertisements