مذہبی منافرت پھیلانے پر مسجد کے خطیب کو قید و جرمانہ


news-1436471135-4781_large

مذہبی منافرت پھیلانے پر مسجد کے خطیب کو قید و جرمانہ
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ہارون لطیف نے اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے مقدمہ میں ملوث مسجد کے خطیب کو 14سال قید اور 80ہزارروپے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا ہے ۔

mastung-blast-r01670

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تھانہ نارنگ منڈی پولیس نے مقامی مسجد کے خطیب مولانافضل الرحمن کے خلاف اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کرنے اورعلاقے میں مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں چالان پیش کررکھا ہے۔ عدالت میں چالان آنے پر باقاعدگی سے سماعت ہوئی جس پرعدالت نے جرم ثابت ہونے پر مولانا فضل الرحمن کو 14سال قید اور 80ہزارروپے جرمانے کی سزا کا حکم سنا دےاہے ۔
http://dailypakistan.com.pk/lahore/10-Jul-2015/243975

1422126600_event.jpg._3
یہ ایک اچھا اور قابل تحسین فیصلہ ہے جس کی رو سے نفرت ، فرقہ واریت اور دہشتگردی کی آئیڈیالوجی کے پرچار کرنے والوں سوداگروں اور بیمار ذہنوں کو پابند سلاسل کر کے فتنہ کو ابتدا سے ہی ختم کیا جا سکے گااور نفرت اور دہشت اور فرقہ واریت کے سوداگروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے۔پاکستان موجودہ حالات میں کسی صورت بھی فرقہ ورانہ تشدد و فسادات کا متحمل نہ ہو سکتا ہے۔

APTOPIX Pakistan
اسلام میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والوں کی سرکوبی کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ملک کی سلامتی ،سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے لیے بے حد خطرناک ہے۔
اسلام رحمت اور درگزر کا دین ہے .اسلام میں مذہبی تعصب اور منافرت کی کوئی گنجائش نہیں، نفرت پھیلانے سے سوسائٹی میں تفرقہ و انتشار پیدا ہو تا ہے جو اسلام کی روح کے منافی ہے۔ شرانگیز تقریریں سوسائٹی کے ماحول کو پرا گندہ کرتی ہیں اور لوگوں کو لاقانونیت کی طرف مائل کرتی اور اکساتی ہیں جو کہ معاشرہ کے پر امن ماحول لئے مضر ہیں۔اللہ کی خاطر ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنا ہے، اسلام مذاہب کا احترام کرتا ہے، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر تفرقے سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے، اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں اور یہ  اسلام کی روح کے خلاف ہے۔

پاکستان میں آجکل فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں اضافہ کا رجحان ہے جس کی حوصلہ شکنی ہونا معاشرہ اور ملک  کی خدمت اور پاکستان کے عظیم تر مفاد میں ہے۔ دہشتگردگروپس کو طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئیے۔

Advertisements