لیلۃ القدر کی فضیلت


lailatulqadr

لیلۃ القدر کی فضیلت
لیلۃ کے معنی رات کے ہیں اور قدر کے معنی ہیں عظمت و شرف ‘ تو اس رات کو شرف حاصل ہوا ہے کیونکہ اس میں نزول قرآن مجید ہوا ہے ۔لیلۃ القدررمضان کے آخری دس راتوں میں سے ایک رات کانام ہے جس میں اللہ تعالیٰ سال بھرکی تقدیرلکھتے ہیں. لیلۃ القدرایک لمحہ نہیں ہے بلکہ پوری کی پوری رات ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(سلام ھی حتی مطلع الفجر)(سورۃ القدرآیت نمبر5(
ترجمہ:سلامتی ہے وہ رات فجرکے نکلنے تک۔ . اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لیلۃ القدر کی فضیلت کے بیان میں پوری سورت نازل فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے :
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِِo وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِِo لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍٍo تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍٍo سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِo
القدر، 97 : 1. 5
’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہےo اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہےo اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیںo یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے۔

24-LailatulQadr
حرمین شریفین میں رمضان المبارک کی ستائیسیوں شب (لیلۃ القدر) کے موقع پر لاکھوں فرزندان توحید نے تراویح و قیام الیل میں شرکت کی۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریفؐ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ خانہ کعبہ کا طواف و عمرہ کرنے والوں کی بھی بڑی تعداد یہاں پہنچی تھی۔ اس وقت بڑے رقت آمیز مناظر دیکھنے میں نظر آئے اور ہر آنکھ اشک بار اپنے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی کی طلب گار تھی۔ لوگ گڑ گڑا کر اللہ سبحان و تعالیٰ سے ’’اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی‘‘ ورد کرکے اللہ کے سامنے سربسجود تھے، جبکہ بڑی تعداد میں فرزندان توحید اعتکاف کی سعادت بھی حاصل کررہے ہیں۔ حرم شریف اور مسجد نبوی شریفؐ کے امام نے بھی بڑی رقت انگیز دعا کرائی۔ ہر ہاتھ فضا میں بلند اللہ کے حضور طلب گار تھے، ایسی معافی جس کے بعد گناہ نہ ہوں، صحت و عافیت اور بے شمار دعائیں کی گئیں۔

image.php

nbnn
لیلۃ القدر کی فضیلت میں کتبِ حدیث بہت سی روایات مذکور ہیں۔ ذیل میں چند ایک احادیث کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ؐ نے لیلۃ القدر کو رمضان المبارک آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو (ترمذی 98)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ يْمَانًا وَّاحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
بخاری، الصحيح، کتاب صلاة التراويح، باب فضل ليلة القدر، 2 : 709، رقم : 1910
’’جو شخص لیلۃ القدر میں حالتِ ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرتا ہے، اُس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔

index

10561773_680391435363033_5796833930748127245_n
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کی آمد پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’یہ ماہ جو تم پر آیا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا وہ ساری خیر سے محروم رہا۔ اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہو۔‘‘
ابن ماجہ، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل شهر رمضان، 2 : 309، رقم : 1644
ایسے شخص کی محرومی میں واقعتا کیا شک ہو سکتا ہے جو اتنی بڑی نعمت کو غفلت کی وجہ سے گنوا دے۔ جب انسان معمولی معمولی باتوں کے لئے کتنی راتیں جاگ کر گزار لیتا ہے تو اَسّی (80) سال کی عبادت سے افضل بابرکت رات کے لئے جاگنا کوئی زیادہ مشکل کام تو نہیں!
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
’’شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو۔‘‘
بيهقی، شعب الإيمان، 3 : 343، رقم : 3717
لیلۃ القدر میں خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے تین سو دروازے کھلے ہوتے ہیں جو بھی دعا مانگو قبول ہوتی ہے وہ کریم ذات کسی کو بھی خالی نہیں لوٹاتی اس رات خاص کر یہ دعا ضرور مانگنی چاہیے اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی یَا کَرِیْمُ۔
توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور عجزو انکساری سے رو رو کر دعا کرنی ہے۔

Advertisements