عید الفطر:خوشیوں کا تہوار


index

عید الفطر:خوشیوں کا تہوار

عید کی آمد آمد ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عید کی تیاریاں بڑے زور و شور سے کی جا رہی ہے۔ ہر سال پاکستان میں عید الفطر پورے مذہبی جوش و جذبے اور نہائیت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا تی ہے،مختلف شہروں میں نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جن میں پاکستان کی سلامتی، بقا اور خوشحالی کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

55a3c26f5ea58

55a3c2657a54d

55a3c26bf1363

55a3c26b770ff

index

عیدین کی نماز کا طریقہ

Pakistani Muslims share Eid greeting after offering Eid al-Fitr prayers at the historical Badshahi mosque, Sunday, Oct. 14, 2007 in Lahore, Pakistan. Eid al-Fitr marks the end of Muslim’s holy fasting month of Ramadan. (AP Photo/K M Chaudary)

نماز عید کے روح پرور اجتماعات میں علما اور خطیب امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی پر زور دیتے ہیں اور دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی خصوصی طور پر مذمت کرتے ہیں کیونکہ اسلام میں دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اسلام امن و محبت اور اخوت کا درس دیتا ہے ۔

bgrfd_fa_rszd

1409296940_icon
عیدالفطر کا مقصد لوگوں کےدرمیان محبت کو بڑھانا ہے۔عید الفطر کا یہ یہ تہوار شکر, احسان اور خوشی کا دن ہے۔عید کے خوشیوں بھرے تہوار کے موقع پر ہر گھر میں خواتین مختلف قسم کے میٹھے اور نمکین پکوانوں کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں،اور اپنے گھر والوں اور گھر آنے والوں مہمانوں کی تواضع انہی لذیذ پکوانوں سے کرتی ہیں۔

HALWA

1402058409_img4304.jpg._3

1431683513_img3528.jpg._3
رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن خاص طور سے غریبوں، مسکیوں اور ہمسایوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی، اور عید کی خوشی میں شریک کرنے کیلئے صدقہ فطر کا حکم دیا تاکہ وہ نادار جو اپنی ناداری کے باعث اس روز کی خوشی نہیں منا سکتے اب وہ بھی خوشی منا سکیں۔ ہمیں غریبوں ‘یتیموں ‘مسکینوں اور بیواؤں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے تاکہ رب کی رحمتیں ہمارا مقدر بنیں۔
اما م ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ’’عید ، اللہ کی جانب سے نازل کردہ عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔رسول اکرم کا ارشاد ہے:’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے‘‘۔حضرت ابن عبا س سے روایت ہے کہ نبی محترم نے صدقہ فطر کو مساکین کے کھانے کے لئے مقرر کیاہے۔جو شخص اس کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرے تو وہ مقبول صد قہ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ عام صدقہ شمار ہوگا(سنن ابی داؤد)لہٰذا گھر کے تما م زیر کفالت افراد ،ملازمین اور بچوں کی طرف سے عید الفطر کی صبح نماز عید سے قبل صدقہ فطر ادا کر دینا چاہیے جس کا بہترین مصرف آپ کے آس پاس وہ غریب و مسکین خاندان ہیں جن کو دو وقت کو روٹی بھی میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ عیدکی لذتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔نہ ان کے پاس کپڑے خریدنے کے لیے پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی مادی ذرائع جنہیں استعمال میں لاتے ہوئے یہ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکتے۔

Advertisements