افغان طالبان نے جنگ بندی کی اپیل کر دی


2012_08_07_049

افغان طالبان نے جنگ بندی کی اپیل کر دی

عیدالفطر کے موقع پر ملا معتصم آغا کی طرف سےطالبان نے جنگ بندی کی اپیل کر دی ہے۔امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد طالبان نے پہلی مرتبہ جنگ بندی کی بات کی ہے۔

images

ادہر صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ مذاکرات کا آئیندہ دور 15 دنوں میں متوقع ہے۔طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات و مسائل کی تحریری فہرست مہیا کریں۔ طالبان کوئی باہر کے لوگ نہیں، افغان ہیں اور بھائی ہیں۔صدر غنی نے کہا کہ ہر مسئلہ کا حل مذاکرات میں ہے۔طالبان کےس اتھ براہ راست مذاکرات بڑی کامیابی ہے۔
http://daily.urdupoint.com/news/2015-07-17/international-news-204479.html
http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?363848-Afghan-Taliban-offer-ceasefire-during-Eid-holidays

news-1436939719-3204_large
افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملاعمر نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونیوالے امن مذاکرات کی حمایت کردی اورقیام امن کے لیے مذاکرات کا جائز قراردیدیا۔
عیدکے موقع پر جاری ہونیوالے پیغام میں ملاعمرنے کہاکہ مذاکرات کا عمل قانونی ہے اور ان مذاکرات کا مقصد افغانستان سے قبضے کا خاتمہ ہے ۔انھوں نے مزید کہا ’اگر ہم مذہبی اصولوں کو دیکھیں تو ان میں دشمنوں کے ساتھ امن مذاکرات منع نہیں ہیں۔ اس لیے ہماری سیاسی کوششوں کا مقصد افغانستان میں قبضے کو ختم کرنا ہے اور ملک میں اسلامی نظام لانا ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150715_mulla_omar_peace_talks_rh

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی حمایت پر طالبان رہنما ملا عمر کے مشکور ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی کا عید پر اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات ہی ملک سے خونریزی کے خاتمے اور امن کا واحد راستہ ہے، طالبان سے مذاکرات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کی حمایت پر طالبان رہنما ملا عمر کے مشکور ہیں، یہ بات اہم ہے کہ طالبان سیاسی عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

150216112733_abdullah_640x360_bbc_nocredit
قارئین یاد رہے کہ اس سے پہلے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے افغانستان اور دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمانوں کو ماہ رمضان کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ اگر مخالفین امن مذاکرات کے خواہاں ہیں تو اس کے لئے اپنے عزم کا اظہار کریں- انہوں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ بے گناہ عام شہریوں کے قتل عام اور دہشت گردانہ حملے بند کریں- عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ اس سال ماہ رمضان کی آمد ایسے حالات میں ہو رہی ہے کہ افغانستان میں ہر روز بم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کا قتل ہورہا ہے- اس سے پہلے افغانستان کی علما کونسل نے بھی طالبان سے رمضان میں جنگ بندی کی اپیل کی تھی- ادھر طالبان نے یہ اپیل مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھیں گے.
مگر جنگ بندی کی موجودہ پیشکش خوش آئیند اور بڑی کامیابی اور بریک تھرو ہے۔یہ ایک اہم پیشرفت ہے. ابھی تک یہ معلوم نہ ہو سکا ہے کہ طالبان کے موقف میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟

اگر ان مذاکرات میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے امور طے پا جاتے ہیں تو اس سے بات چیت کا عمل یقیناً آگے بڑھے گا جس کے پورے خطے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

طالبان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئیےکیونکہ تشدد و دہشت گردی سے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ ملایا جاسکتا اور نہ ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی جنگ، خودکش حملوں، دہماکوں ،بے گناہوں مرد ،عورتوں اور بچوں کا قتل عام  سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا اور پر امن حل نکالا جانا ممکن ہے ۔
دنیا بھر میں آج تک صرف اور صرف پر امن جمہوری تحریکیں ہی کا میابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ اسلام کا طریقہ بھی یہ ہی ہے اور اسلام امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے۔

طالبان سے مزاکرات کے معمولات نہایت سخت اور پیچیدہ ہیں اور یہ کو ئی آسان کام نہ ہے اور نہ ہی کسی کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے جس سے الجھے ہوئے مسائل کا حل چٹکی بھر میں ہو جائے گا۔مذاکرات تعطل کا شکار بھی ہو سکتے ہیں لیکن مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش جاری رہنی چاہئے ۔مستقل مزاجی اور مصمم ارادہ سے ہر کام ممکن ہےاور مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔
قارئیں آپکی افغان طالبان کی جنگ بندی کی موجودہ پیشکش اور امن مذاکرات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں کیا رائے ہے؟

Advertisements