آخری دہشت گرد كے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی


150101143314_gen_raheel_sharif_640x360_afp_nocredit

آخری دہشت گرد كے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے جاری آپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہورہے ہیں، اب ہماری توجہ دہشت گردوں کو ملنے والی رقوم، ان کے تمام وسائل کو بند کرنے، مالی مدد فراہم کرنے والوں، سہولت کاروں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف کارروائی پر ہوگی، مسلح افواج کیلئے قوم کی حمایت اور اعتماد ایک بڑا اثاثہ ہے ہمیں سونپے گئے مشن کی تکمیل کیلئے آج ہماری قوم ہمارے پیچھے متحد کھڑی ہے اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

images

365106-Zarbeazb-1433878608-362-640x480

ان خیالات کا اظہار انھوں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اگلے مورچوں پر تعینات فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جنرل راحیل شریف نے عید ان فوجی جوانوں اور بے گھر افراد کے ساتھ منائی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور شہری علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جاری آپریشن کے مطلوبہ نتائج حاصل ہورہے ہیں۔ اب ہماری توجہ دہشت گردوں کو ملنے والی رقوم، ان کے تمام وسائل کو بند کرنے، مالی مدد فراہم کرنے والوں، سہولت کاروں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف کارروائی پر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کیلئے قوم کی حمایت اور اعتماد ایک بڑا اثاثہ ہے ہمیں سونپے گئے مشن کی تکمیل کیلئے آج ہماری قوم ہمارے پیچھے متحد کھڑی ہے اور ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے۔ملکی دفاع کیلئے عظیم قربانیاں دینے والے شہدا اور زخمیوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عید کے موقع پر ہم انہیں کبھی نہیں بھلا سکتے۔بعد میں بری فوج کے سربراہ نے بنوں میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے کیمپ کا دورہ کیا اور ان کی مکمل بحالی کے منصوبے کیلئے فوج اور قوم کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

index

جنرل راحیل شریف کو آپریشنل کمانڈرز نے آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
http://dailypakistan.com.pk/front-page/21-Jul-2015/247250

TaharakTalibanPakistan
دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا موجودہ قومی قیادت کی اولین ترجیح ہے ٗ دہشت گردی کو کافی حد تک کچلا جا چکا ہے اور ساری قوم وطن عزیز کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کرنے والی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔دہشت گردوں کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور بہت جلد ان کا نام و نشان پاکستان بھر سے مٹا دیا جائے گا ۔ آپریشن ضربِ عضب میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی قربانیوں کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کیا جائے اور ان کو کسی بھی جگہ دم لے کر تازہ دم ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ دہشت گرد تنظیموں کو باہر کے ملکوں سے جو مالی رقوم ملتی ہیں ان کے سوتوں کو بھی خشک کیا جا رہا ہے اور مزید یہ بھی کہ اندرون ملک ان کی امداد کرنے والوں، حمایت کرنے والوں اور ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنے والوں کی گردنیں بھی ناپی جا رہی ہیں۔پاک فوج كے سربراہ جنرل راحيل شريف نے كہاہے كہ دہشت گردوں کے لئے اب چھپنے کی كوئی جگہ نہيں اور اب شہری علاقوں ميں بھی دہشت گرد عناصر كے خلاف آپريشن جاری رہے گا اور ہم انشاءاللہ اپنے مشن سے پيچھے نہيں ہٹيں گے۔
جنرل راحيل شريف کا کہنا تھا کہ مٹھی بھر دہشت گرد اب فرار کی راہ پر ہیں مگر انہیں چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی، آخری دہشت گرد كے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حكومت اور پاک فوج كی ہرممكن كوشش ہے كہ متاثرين شمالی وزيرستان كو جلد از جلد بحفاظت اپنی علاقوں كو واپس بھيجا جائے شمالی وزيرستان ميں اُنہوں نے آپريشن ضرب عضب ميں حاصل ہونے والي كاميابيوں اورغير معمولی پيش رفت پرپاک فوج كے جوانوں اور متاثرين شمالی وزيرستان کی ملکی سلامتی کے لئے قربانيوں كو سراہتے ہوئے کہا کہ مادر وطن کی حفاظت کےلیے اپنے گھروں سے دور رہنا قابل فخر فوجی روایت ہے۔
سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردی كے خلاف پاک فوج كو پوری قوم كی حمايت حاصل ہے جوكہ ہمارے لئے سب سے بڑا اثاثہ ہےاور ہم انشاءاللہ اپنے مشن سے پيچھے نہيں ہٹيں گے اور قوم کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔
دہشتگردی کے خاتمہ سے علاقہ و خطہ میں امن قائم ہوگا اور استحکام آئے گا۔ ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اس حد تک تو کامیاب نظر آرہا ہے کہ تحریک طالبان کے جنگجو بکھر گئے ہیں اورلگتا ہے انکے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی تک بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے ہیں اور وہاں آپریشن بھی جاری ہے لہذا اسے مکمل کامیاب آپریشن نہیں کہا جاسکتا۔
آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ملک میں عمومی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور بڑے بڑے حملوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
ضرب عضب آپریشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے اہداف واضح ہیںاور آپریشن ضرب عضب کا مقصد پاکستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام لانا ہے۔
چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کاامیج خراب ہورہا ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق، کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئےہوتا ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان اور دوسرے دہشتگرد قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔

Advertisements