خودکش دہماکہ میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق


924385-afghanistansuicideattackx-1437556513-782-640x480

خودکش دہماکہ میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق

افغان صوبے فریاب کے ڈسٹرکٹ المار کی ایک مارکیٹ ،جو خریداروں سے بھری ہوئی تھی ،میں بدھ کے روز ایک خود کش بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

www.usnews.com
افغانستان کے صوبے فریاب کے ضلع المار کی مارکیٹ میں ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد جاں بحق جب کہ 38 زخمی ہوگئے۔ صوبے کے گورنر عبدالستار باریز کا کہنا تھا دھماکے میں افغان فوجی بھی ہلاک ہوا اور 38 افراد زخمی ہوگئے جب کہ حملہ آور کی عمر 20 سے 25 سال کے درمیان تھی اور اس نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی۔
صوبے کے پولیس چیف کے مطابق خفیہ اطلاع کے ذریعے خودکش حملہ آور کے علاقے میں داخل ہونے کی اطلاع مل چکی تھی جس کے بعد علاقے میں ایک چیک پوسٹ بھی قائم کی گئی تھی تاہم پولیس کی کارروائی سے قبل ہی حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس کےمطابق تاحال دھماکے کی ذمہ داری کسی تنظیم یا گروپ نے قبول نہیں کی۔
http://www.express.pk/story/377436/

Afghanistan-06b1e-7943

گذشتہ کئی ماہ سے طالبان کی جانب سے افغان فورسز کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں اب تک سینکٹروں پولیس اور فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں امریکی اور نیٹو فورسز کے افغانستان سے انخلاء کے بعد طالبان کی جانب سے رواں سال اپریل میں موسم سرما کی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

150722100441-afghan-market-bombing-exlarge-169
طالبان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا نام ’عزم‘ رکھا گیا ہے اور اس میں افغان فورسز، سرکاری افسران اور انٹیلیجنس حکام کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق 20 افراد جان بحق اور 34 زخمی ہو گئے ہیں۔

via

Afghans carry the body of a suicide attack victim at the hospital in Maymana, Faryab province, north west of Kabul, Afghanistan, Friday, Oct. 26, 2012.  A suicide bomber blew himself up outside a mosque in northern Afghanistan on Friday, killing dozens of people and wounding scores, government and hospital officials said. (AP Photo/Qawtbuddin Khan)

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں حرام ہیں۔ اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔طالبان اور دوسری  دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف لڑنے اور حیوانی خواہشات پر غلبہ پانے کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔
کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔
علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔
اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور اپنا ہی ملک تباہ کر رہے ہیں۔

بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندہن نہ بنایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔

Advertisements