افغان طالبان کے امیر ملا عمر ہلاک ہو چکے


11811351_958697770838961_3340756030496944153_n

افغان طالبان کے امیر ملا عمر ہلاک ہو چکے

افغانستان میں حکام کے مطابق افغان طالبان تحریک کے امیر ملا محمد عمر ہلاک ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک افغان طالبان نے اس دعوے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
افغان حکومت اور انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق گذشتہ کئی برس سے مسلسل روپوشی کی زندگی گزانے والے طالبان رہنما ملا عمر دو یا تین برس پہلے ہلاک ہو گئے تھے۔
ان اطلاعات پر افغان طالبان کے ترجمان سے بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں جلد ہی بیان جاری کیا جائے گا۔
ماضی میں بھی ملا عمر کی ہلاکت کی متعدد بار خبریں آ چکی ہیں۔
چند دن پہلے ہی عید الفطر کے موقع پر ایک پیغام میں ملا عمر نے ’افغانستان میں امن کے لیے بات چیت کرنا جائز‘ قرار دیا تھا تاہم انھوں نے پچھلے ہفتے پاکستان میں افغان حکومت اور طالبان رہنماؤں کے مذاکرات کا براہ راست کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سنہ 1996 میں ملا عمر کو ’امیر المومنین’ کا خطاب دیا گیا تھا۔
سنہ 2001 میں امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد سے ملا عمر منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ وہ ذرائع ابلاغ کو اپنا انٹرویو یا تصویر دینے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
گذشتہ کچھ عرصہ سے شدت پسند تنظیموں میں ملا عمر کے زندہ ہونے یا مرنے کے حوالے سے کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بالخصوص عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے سرگرم ہونے اور ابوبکر بغدادی کی جانب سے خلافت کے اعلان کے بعد سے یہ سوالات مزید زور پکڑنے لگے تھے۔
http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150729_taliban_leader_omar_dead_zz

news-1438160035-5629_large
افغان طالبان نے ملا عمر کی موت کی خبرکی تردید جاری کر دی ہے اور کہاہے کہ موت کی افواہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے پھیلائی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان نے ملا عمر کی موت کی خبر کی تردید وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں جاری کی ہے جس میں انہوں نے ملا عمر کے حیات ہونے کی تصدیق کی ہے ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل  میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ملا عمر 2یا 3سا ل قبل ہلاک ہو چکے ہیں لیکن افغان طالبان کی جانب سے تردید جاری کر دی گئی ہے ۔افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل اسلام آباد میں ہونے جارہاہے اور پاکستان دونوں کے درمیان ثالثی کا کر دار ادا کررہاہے ۔
http://dailypakistan.com.pk/international/29-Jul-2015/250139

افغان طالبان کمانڈر حاجی نوروز خان ترکئی نے کہا ہے کہ ملا عمر کے حوالہ سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

0,,18461569_303,00
افغان حکام نے طالبان کے سپریم لیڈر ملاعمر کی ہلاکت کا اعلان کردیا تاہم اس بارے میں طالبان کاموقف معلوم نہیں ہوسکاجبکہ امکان ظاہر کیاجارہاہے کہ ملاعمر کے بعد ملااختر کو افغان طالبان کا نیا سربراہ منتخب کیاجائے گا۔
افغان ٹی وی ’1نیوز‘ کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ ملاعمر کی ہلاکت کی تصدیق ایک سیکیورٹی اجلاس کے دوران کی گئی ۔ ملاعمر 2001ءمیں افغانستان میں امریکی حملے کے بعد سے روپوش تھے جبکہ ان کے سر کی قیمت 10ملین ڈالر مقرر تھی ۔
دوسری طرف بی بی سی کا کہناہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملاعمر کی ہلاکت کی تصدیق کردی اوراُنہیں اپنے ملک کے خفیہ ادارے نے رپورٹ دی ہے ۔
یادرہے کہ اس سے قبل طالبان سے علیحدہ ہونیوالے گروپ محاظ فدائی نے کہاتھاکہ ملاعمر دوسال قبل تنظیم کی اندرونی لڑائی کے دوران مارے گئے تھے تاہم عید الفطرکے موقع پر طالبان نے ایک پیغام شائع کیاتھا جس کے مطابق ملاعمر نے مذاکرات کی توثیق کردی جبکہ اس سے قبل اپریل میں کہاتھاکہ سوانح حیات شائع کی تھی اور کہاکہ ملاعمر زندہ اور خیریت سے ہیں ۔
ملاعمر کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق ایک ایسے وقت پر ہوئی جب افغان طالبان اورحکومت کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو متوقع ہے ۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل ملاعمر کے بھائی عبدالمنان کی زیرصدارت طالبان شوریٰ کا دودن قبل اجلاس ہواتھا جس میں نئے سربراہ سے متعلق غور کیاگیا، اجلاس میں ملااختر اور ملایعقوب کے ناموں پر غور کیاگیااور امکان ظاہر کیاجارہاہے کہ ملااختر کو ہی نیا سربراہ بنایاجائے گاتاہم سینئر صحافی حامد میر کاکہناتھاکہ طالبان کے اندر ہی ملااختر کی مخالفت بھی پائی جاتی ہے اورممکن ہے کہ ملااختر کے سربراہ بننے پر افغان طالبان میں بھی پاکستانی طالبان کی طرح اتحادنہ رہے ۔

افغان طالبان نے سابق امیر ملا عمر کی وفات کی تصدیق کر دی ہے ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ طالبان امیر ملا عمر کی وفات 2 ہفتوں قبل بیماری کے باعث ہوئی لیکن طالبان ترجمان کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کی وفات کہاں ہوئی ہے ۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ملا عمر ایک دن کے لیے بھی پاکستان نہیں گئے ۔

افغان طالبان نے اپنے سربراہ ملا عمر کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے نیا سربراہ منتخب کر لیا۔طالبان نے جمعرات کو ملا عمر کےا نتقال کی تصدیق کی تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ موت کب اور کیسے ہوئی۔طالبان نے ایک جاری بیان میں کہا ’ملا عمر کی صحت آخری دو ہفتوں میں خراب ہوئی اور وہ ایک دن کیلئے بھی پاکستان نہیں گئے‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’ملا عمر کی روح کے ایصال ثواب کیلئے تین روزہ سوگ منایا جائے گا‘۔

ملا اختر منصور اس سے قبل افغان طالبان کے نائب امیر تھے اور طالبان شوری کے معاملات چلا رہے تھے۔

افغان حکومت سے بات چیت کے حامی ملا منصور کو افغان طالبان رہنما گل آغا کی بھی حمایت حاصل ہے۔

سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ طالبان نے نئے امیر کے دو معاون بھی مقرر کئے ہیں۔

ان میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی جبکہ دوسرے نائب طالبان کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں۔

ملا عمر کی پیدائش 1960 میں ملک کے جنوبی صوبے قندھار کے ضلع خاكریز کے چاہِ ہمت نامی گاؤں میں ہوئی تھی۔
طالبان اپنے سپریم لیڈر کا ذکر ملا محمد عمر ’مجاہد‘ کے نام سے کرتے ہیں اور وہ ہوتك قبیلے کی شاخ تومزئي سے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان کے والد مولوی غلام نبی ایک ’معزز عالم اور سماجی شخصیت‘ تھے اور ملا عمر کی پیدائش کے پانچ سال بعد ہی وہ وفات پا گئے تھے جس کے بعد ان کا خاندان صوبہ ارزگان منتقل ہوگیا تھا۔ ملاعمر نےمختصر سی دینی تعلیم حاصل کی ، مجاہدین کے ہمراہ سویت یونین کیخلاف لڑے اور 1994ءمیں طالبان کی تشکیل میں مدددی جبکہ رپورٹ کے مطابق وہ شادی شدہ تھے اور ان کے دوبیٹے ہیں ۔
واضح رہے کہ 6 روز قبل افغانستان کے خبر رساں ادارے خامہ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ملا عمر کو طالبان کے ہی سینئر لیڈرز نے قتل کیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ملا عمر کو طالبان کمانڈر ملا محمد اختر اور گل آغا نے ہلاک کیا تھا۔
طالبان سے الگ ہونے والے ایک گروہ افغانستان اسلامی تحریک فدائی محاذ کی جانب سے اپنی ویب سائٹ میں جاری بیان میں ترجمان قاری حمزہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالبان کو 2 سال قبل قتل کیا جا چکا ہے۔
دوسری طرف طالبان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کچھ وقت میں موقف جاری کیا جائے گا۔
ملا عمر دو سال 4 مہینہ پہلے تپدق کے مرض سے انتقال کر گئے تھے، یہ بات ایک سابق طالبان وزیر اور سنٹرل لیڈرشپ کے ممبر نے ایکسپریس ٹریبون کو بروز بدھ بتائی۔ ان کو پاک افغان سرحد پر افغان سرحد میں دفن کیا گیا تھا۔ ملا عمر کے بیٹے نے اپنے باپ کی لاش کو شناخت کیا تھا۔ افغان حکومت کے حکام نے بتایا کہ پاکستان کی حکومت نے بھی یہ اطلاع بہم پہنچائی۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ملا برادار ،ملا عمر کےجانشین ہو نگے۔
http://tribune.com.pk/story/928571/afghan-taliban-leader-mullah-omar-is-dead/

0,,18461573_401,00
تحریک طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات ملا محمد عمر کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں اور افغان طالبان اور حکومت کے درمیان جنگ  ابھی جاری ہے ہے جس میں اب تک لاکھوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ایک ریسرچ اسٹڈی کے نتائج کے مطابق افغانستان میں تیرہ سالہ جنگ کے براہ راست نتیجے کے طور پر کم از کم چھبیس ہزار دو سو ستر افغان شہری ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد تیس ہزار کے قریب رہی۔ پروفیسر نَیٹا کرافورڈ کے مطابق آج افغانستان میں طالبان عسکریت پسند اپنے حملوں کے وقت اس بات میں کوئی تفریق نہیں کرتے کہ وہ افغان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں یا عام  بے گناہ شہریوں کو۔ اسی دوران وہاں شہری ہلاکتوں میں کمی کا 2008ء میں شروع ہونے والا رجحان اب دوبارہ کافی زیادہ ہو چکا ہے۔ ملا عمربے گناہ  شہری ہلاکتوں سے متعلق گاہے بگاہے رسمی بیانات جاری کرتے رہتے تھے مگر اس کا طالبان پر کوئی اثر ہوتا نہ دیکھا گیا ۔

news-1436939719-3204_large

 ملا عمر طالبان کا کمانڈر تھا اور طالبان کے لیڈر کی حیثیت سے بے بدل حیثیت رکھتا تھا۔ ملا عمر نے گوند کی طرح طالبان کو  شروع سے ہی متحد و مربوط رکھا اور مزہبی لیڈر کی حیثیت سے تمام طالبان اس کے وفادار رہے۔ ملا عمر کے جانشین کا تقرر ،طالبان کے اتحاد پر یقینا اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Advertisements