’امن مذاکرات کا عمل دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے‘


380275-mullahmansoor-1438418921-485-640x480

’امن مذاکرات کا عمل دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے‘

افغان طالبان تحریک کے نئے امیر ملا اختر منصور نے ایک آڈیو پیغام میں متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔اس سے پہلے بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق طالبان کے امیر ملا عمر کی موت کے بعد تحریک کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کی تقرری طالبان سپریم کونسل کی مشاورت کے بغیر کی گئی ہے۔
تیس منٹ کے آڈیو پیغام میں ملا اختر منصور نے کہا ہے کہ جنگجوؤں کو متحد رہنا چاہیے کیونکہ’ہمارے درمیان تفریق صرف دشمنوں کو ہی خوش کر سکتی ہے۔‘
سنیچر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا اختر منصور کا بیان صحافیوں کو پہنچایا ہے ۔
اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ’ طالبان اس وقت تک اپنا جہاد جاری رکھیں گے جب تک ملک میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی ہے۔

380752-afghantalban-1438589733-752-640x480

بعض طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے قریبی حلقوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملا منصور کی سربراہی زبردستی اُن پر تھوپ رہے ہیں کیونکہ ملا منصور امن مذاکرات کے حامی ہیں۔
تاہم ملا اختر منصور نے اپنے پیغام میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔
ملا اختر منصور کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے حامی ہیں لیکن اب بظاہر امن مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
اس سے پہلے طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ملا اختر منصور کو باضابطہ طور پر تحریکِ طالبان کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
طالبان کی جانب سے اس بارے میں جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نئے امیر کی نیابت کے لیے دو طالبان رہنماؤں کا انتخاب بھی کیا گیا ہے جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور دوسرے طالبان کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں۔
تاہم افغانستان میں شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے قریبی ذرائع کے مطابق گروپ کے سربراہ جلال الدین حقانی ایک برس قبل انتقال کر گئے تھے۔
بی بی سی پشتو کے نامہ نگار عنایت اللہ یاسینی کے مطابق طالبان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انھیں (ملا اختر منصور کو) تمام طالبان کی جانب سے سربراہ مقرر نہیں کیا گیا ہے جو کہ شریعت کے قوانین کے خلاف ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ طالبان اپنے شوریٰ اجلاس میں نئے سربراہ کا انتخاب کرے گی۔
خیال رہے کہ طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی نامعلوم مقام پر ہونے والے اجلاس میں طالبان کی رہبری شوریٰ کے اراکین اور جید علماء نے مشاورت کے بعد ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی ملا اختر منصور کو نیا امیر مقرر کیا ہے۔
بعض طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے قریبی حلقوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملا منصور کی سربراہی زبردستی اُن پر تھوپ رہے ہیں کیونکہ ملا منصور امن مذاکرات کے حامی ہیں۔
طالبان کا ایک گروہ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو تحریک کا سربراہ مقرر کرنا چاہتا ہے۔
طالبان کے ترجمان ملا عبدالمنان نیازی نے کہا ہے کہ ’ملا منصور کو منتخب کرنے والوں نے قواعد کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔اسلامی قوانین کے تحت جب امیر فوت ہو جاتا ہے تو شوریٰ کا اجلاس بلوایا جاتا ہے اور پھر نیا امیر مقرر کیا جاتا ہے۔‘
ملا عمر نے 20 سال تک تحریک طالبان کی قیادت کی.
جمعرات کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور ملا عمر کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ ملا عمر کا انتقال کب اور کہاں ہوا تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ’ان کی صحت آخری دو ہفتے میں بہت بگڑ گئی تھی۔‘
بیان میں ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ ملا عمر کا انتقال پاکستان کے شہر کراچی کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا۔
یہ پہلی مرتبہ ہے جب تحریک طالبان کی قیادت میں اختلافات منظر عام پر آئے ہیں اور ملا عمر کے بعد تنظیم کے لیے نئے امیر کا انتخاب مشکل ہو گیا ہے۔
تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے امیر کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا ہے۔ تاہم اس موقعے پر شوریٰ کے تمام اراکین موجود نہیں تھے۔انھوں نے کہا کہ افغان طالبان نے اس سوال پر بھی واضح جواب نہیں دیا کہ ان کے مخالف دھڑوں کے ساتھ امیر کے چناؤ پر بات ہوئی یا نہیں۔
ملا منصور کے حامیوں نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ عسکری کمانڈر قیوم ذاکر ان کی تقرری کے خلاف ہیں۔ قیوم ذاکر گونتاناموبے جیل میں قید تھے اور افغان صوبے ہلمند میں اُن کا کنٹرول ہے۔ مستقبل میں وہ طالبان کی قیادت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150801_taliban_split_after_mulla_omer_death_sr
افغان اُمور کے تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق رہبری شوریٰ کے کئی اہم اراکین نے ملا اختر کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ان اراکین میں ملا محمد رسول، ملا محمد حسن رحمانی اور ملا عبدالرزاق شامل ہیں۔ اس طرح طالبان میں قیادت کا بحران سامنے آرہا ہے۔
طالبان شوریٰ کے سینئر رکن ملا عبدالمنان نیازی کا کہنا ہے کہ تقرری کا فیصلہ صرف4 ، 5 کمانڈرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ ملا نیازی نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے 20سال تک قربانیاں دیں، ہم جانتے ہیں کہ کون شخص ہو سکتا ہے جو افغان روایات اور اسلامی اقدار کا علم رکھتا ہو، ملا منصور اختر نے ہماری تحریک میں کسی بھی قسم کا بڑا حصہ نہیں ڈالا۔ الجزیرہ کا دعویٰ ہے کہ ملا نیازی کا تعلق طالبان کی کوئٹہ شوریٰ سے ہے۔ ادھر بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملا عمر کی موت کے بعد تحریک کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کی تقرری طالبان سپریم کونسل کی مشاورت کے بغیر کی گئی ہے۔ طالبان کا ایک گروہ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو تحریک کا سربراہ مقرر کرنا چاہتا ہے۔ملا عبدالمنان نیازی نے کہا کہ ملا منصور کو منتخب کرنیوالوں نے قواعد کے مطابق فیصلہ نہیں کیا، اسلامی قوانین کے تحت جب امیر فوت ہو جاتا ہے تو شوریٰ کا اجلاس بلایا جاتا ہے اور پھر نیا امیر مقرر کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان اپنے شوریٰ اجلاس میں نئے سربراہ کا انتخاب کرے گی۔
ادھر ملا عمر کے خاندان نے بھی ملا اختر منصور کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ ملا عمر کے خاندان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر طالبان رہنما متفقہ امیر منتخب کرنے میں ناکام رہے تو وہ کسی گروپ کی حمایت نہیں کریں گے۔ بیان میں کہ گیا کہ امیرالمومنین نے ہمیشہ اتحاد اور افہام و تفہیم کی خواہش ظاہر کی تھی اور وہ بڑی حد تک تحریک میں اتحاد کو برقرار رکھنے میں کامیاب بھی رہے۔ نئے امیر کا اتفاق رائے سے انتخابات ملا عمر کو خراچ عقیدت اور انکی خواہش کا احترام ہو گا۔ نیا امیر اتفاق رائے سے منتخب کیا جاتا ہے تو اس کی اطاعت کریں گے لیکن اگر طالبان رہنما اتحاد کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تو ملا اختر منصور سمیت کسی کی حمایت نہیں کریں گے۔ملا اختر منصور کے مخالف طالبان دھڑے نے تحریک کا نیا سربراہ منتخب کرنے کیلیے شوریٰ یا کونسل قائم کی ہے۔ طاقتور رہبری کونسل کے ایک سینئر رکن نے کہا کہ کونسل ملا اختر منصور کو تحریک کی قیادت چھوڑنے کیلئے کچھ وقت دے گی اور اگر انہوں نے قیادت چھوڑنے سے انکار کیا تو کونسل نئے سربراہ کا انتخاب کرے گی۔ ملا عمر نے اپنی زندگی کے دوران تحریک کو متحد رکھا تاہم انکی موت کی تصدیق کے بعد افغان طالبان کو اختلاقات کا سامنا ہے۔
تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق نئے امیر نے اپنے حامیوں سے پہلے خطاب میں یہ باتین اپنے آئندہ کے لائحہ عمل و ارادوںسے متعلق تفصیل سے کی ہیں۔ ایک بات ملا اختر نے بڑی اہم کی ہے کہ وہ امن مذاکرات کے حق میں اس طرح نہیں ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ملا اختر ہی طالبان کے قائم مقام امیر تھے اور انہوں نے اپنی شوری سے مل کر افغان حکومت سے بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ۷ جو لائی کے مری مذاکرات ملا منصور کے کہنے پر ہوئی تھی۔ مگر اب ان کو احساس ہو رہا ہے کہ ان مذاکرات کی کافی مخالفت ہے، خاص طور پر طالبان کے کئی کمانڈر اور جنگجو مذاکرات کے حق میں نہ ہیں۔ ملا منصور نے ان لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اور مخالف دہڑے کو کمزور کرنے کے لئے ، شاید منصور نے یہ بات کی ہے۔ ملا منصور کے مخالفین کی صفوں میں کافی اتحاد ہے۔ دونوں فریق کو شش کر رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل کی جائے خاص طور پر شوری کے اراکین کی، علما کی اور اہم فوجی کمانڈروں کی۔ملا قیوم ذاکر نے کہا ہے کہ وہ ملا منصور کی مخالفت نہ کریں گے مگر ملا ذاکر نے ابھی تک ملا منصور نے ہاتھ پر بیعت نہ کی ہے۔ مخالف فریق ایک نئی کوشش میں ہے اور طالبان کے حامی علما جو کہ افغانستان و پاکستان میں ہیں ، سے مل رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ شوری بلانی چاہئیے اور علما فیصلہ کریں کہ کون امیر ہو گا،جیسا کہ ملا عمر کو امیر چننے کے وقت ہوا تھا۔ یہ علما کی شوری کا فیصلہ تھا اور سینکڑوں علما وہان اکٹھے ہوئے تھے۔ اس طرح ملا منصور دباو میں آجائیں گے کیونکہ علما کا جو فیصلہ ہو گا اس کو ماننا پڑے گا۔ طالبان کے درمیان اختلافات نظریاتی نہ ہیں بلکہ شخصی ہیں۔ یہ قیادت کا مسئلہ ہے۔ منصور کی شخصیت کے حوالہ سے بھی اختلافات ہیں۔ منصور کے قبیلہ اسحاق زئی درانی کے حوالہ سے بھی اختلافات و تحفظات ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ملا منصور اپنے قبیلہ کے لوگوں کی اہم عہدوںپر پہلے بھی تقرریاں کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔ نیز مذاکرات کے معاملہ پر بھی اختلاف ہے۔ طالبان جہاں بھی ہیں وہاں کی حکومتوں کا طالبان پر دباو ہے اور کافی لوگ ان پر اثر انداز ہیں اور ان کے لئے کافی مشکل ہے اور یہ دباو میں ہیں اور دباو میں آکر ان کو فیصلے کرنے پڑے ہیں۔ پاکستان، امریکہ اور چین یہ چاہئیں گے کہ ملا منصور ہی امیر رہیں کیونکہ یہ مذاکرات کے حق میں تھے۔ یا جو بھی امیر ہو وہ مذاکرات کے حق میں ہو۔ مذاکرات کا فیصلہ پہلے بھی متنازع تھا اور آئیندہ بھی ہو گا۔ ابھی تو امارت کی جنگ ہے کہ کون امیر ہو گا۔اختلافات کی وجہ سے معاملہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ امارت کا فیصلہ ہونے کے بعد مذاکرات کا معاملہ طے ہوگا۔
حالات بتا رہے ہیں کہ امن مذاکرات کا عمل فی الحال کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور پہلےطالبان افغانستان کی امارت کا فیصلہ ہو گا۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر طالبان دھڑے کسی ممکنہ فارمولے پر متحد نہ ہوئے تو امن مذاکرات پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ دیکھئے کہ طالبان کے نئے امیر ملا منصور اپنے مخالفین کو اپنے ساتھ کیسے ملاتے ہیں؟جو بھی ہو طالبان کو داعش فیکٹر کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔
آج کی دنیا میں مذاکرات کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس طرح ہی معاملات ،آپس میں بیٹھ کر باہمی افہام و تفہیم سے طے ہو سکتے ہیں۔جنگ کے بعد معاملات بہر حال سیاسی طور پر ہی طے ہوتے ہیں اور اس کےل ئے بہتریں پلیٹ فارم مذاکرات ہیں۔
صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعہ ہی افغانستان میں جاری موجودہ تشدد و دہشتگردی کا کوئی موزوں و دیر پا حل نکل سکتا ہے دونوں فریقوں کو زمینی حقائق کا مکمل ادراک ہونا چاہئیے اور ان حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیےکیونکہ مذاکرات کےذ ریعہ امن کی بحالی سے خون خرابہ ختم ہو گا اور ملک میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے اور افغان طالبان قومی سیاسی دھارے میں آ کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

Advertisements