داعش اور طالبان :پاکستان و افغانستان کےلئے بڑا خطرہ


553244c2569da

داعش اور طالبان : پاکستان و افغانستان کےلئے بڑا خطرہ
داعش اور طالبان، سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، سب مسلمانوں،پاکستان و افغانستان اورخطے کے امن کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں اور ان تمام تنظیموں میں دہشتگردی و سفاکی کا عمل مشترکہ ہے۔یہ تمام دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور تباہی و بربادی ان کا طرع امتیاز ہے اور قتل و غارت ان کا وصف ۔

149613
طالبان و داعش دونوں میں ایک قدر مشترکہ ہے ،وہ ہے خونخواری و بے رحمی اور بے گناہوں مسلمانوں کا ناحق خون بہانا۔ داعش اور طالبان مسلمانوں میں فرقہ دارانہ فسادات کروانا چاہتے ہیں. طالبان اور داعش جیسی تنظیموں کے باعث مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی ایک ملک اس سے نمٹ سکتا ہے یہ اس پورے خطے کا مسئلہ ہے ہم مل جل کر ہی اس کا خاتمہ کر سکتے ہیں غیر ریاستی عناصر کا خاتمہ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ہی ہو گا۔ داعش افغانستان کی سیاسی حکومت اور پاکستان کے لئے مشترکہ دشمن کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ دونوں کو مل کر اس برائی کو ابتدا سے ہی روکنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔

داعش پاکستان اور افغانستان پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے خاص طور پر اس وقت جب امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں، اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو داعش جنوبی ایشیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

55ba0d3dd2070

افغانستا ن میں داعش کی تنظیم اندازوں کے برعکس بڑی تیزی کے ساتھ ظہورپذیر ہوئی ہے اور بعض جگہوں پر تو اس نے افغان طالبان کو بھی پوری شدت کے ساتھ چیلنج کر دیا ہے ۔ داعش کو زیادہ پذیرائی پاکستانی سرحد سے متصل علاقوں میں مل رہی ہے ۔ جہاں داعش افغان طالبان کیلئے چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے ، وہاں پاکستانی طالبان کے ساتھ اسکے اشتراک کار کے اشارے بھی مل رہے ہیں جبکہ شاہداللہ شاہد اور کرم ایجنسی کے ٹی ٹی پی کے امیر حافظ فضل سعید پہلے ہی ابوبکر البغدادی کی بیعت بھی کر چکے ہیں ۔جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ داعش پاکستان میں اپنی تنظیم کو پھیلانے کیلئے سرگرم عمل ہو چکی ہے۔
پاکستان و افغانستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہان پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث ہیں۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دہنسنے سے خطرہ ختم نہ ہو جائے گا۔ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے مظالم اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔

ملا عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد افغان طالبان میں امارت کے مسئلے پر اختلافات پیدا ہو گئے اور وہ واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے ایک گروہ نے ملا اختر منصور کے ہاتھ پر بیعت کر کے انھیں اپنا امیر بنا لیا جب کہ دوسرا گروہ ملا عمر کے بیٹے کو امیر بنانے کے لیے سرگرم ہو گیا ۔ان اختلافات کے باعث مری میں شروع ہونے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور اس بات کا انتظار کیا جانے لگا کہ طالبان میں قیادت کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو تاکہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوسکے۔افغان طالبان میں اختلافات سامنے آنے پر بعض حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار بھی کیا جانے لگا کہ اگر یہ اختلافات جلد از جلد دور نہ کیے گئے تو داعش ان اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر لے گی۔افغان ‫‏طالبان‬ کی کمزور قیادت کے باعث،‫‏داعش‬ خطہ میں ظلم اور فرقہ واریت پھیلائے گا، نتیجتنا افغان جنگجووں اور ‏پشتونوں‬ آبادی کی بڑے پیمانے پر اموات ہونگی۔

 شریعت اور اسلام کے احکامات کے مطابق الداعش اور اس کے پیرو کار خوارج ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو نظام اور/یا اسلام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔
داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اُسے پاکستان و افغانستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے۔

Advertisements