کابل میں کار بم دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 400 زخمی


150807075631_kabul_blast_624x351_afp_nocredit

کابل میں کار بم دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک، 400 زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک زور دار کار /ٹرک بم دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چار سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ شہر کے شاہ شاہد علاقے میں ہوا۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امدادی کارکن کے حوالے سے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں جنھیں ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ بیشتر زخمی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔دھماکے کے نتیجے میں آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔

55c4017431a1b
سکیورٹی معاملات سے منسلک ایک اور شخص نے روئٹرز کو بتایا کہ حملے کا نشانہ ممکنہ طور پر ایک قریبی فوجی احاطہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

150707142111_kabul_blast_640x360_
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار خلیل نوری کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر افراد عام شہری ہیں اور علاقے میں دکانوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ بہت سی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔بی بی سی پشتو کے نامہ نگار خلیل نوری کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔

150807014850_kabul_bomb_attack_afp_624x351_afp
طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کیا ہے ۔

Mullah-Akhtar-Mohammad-Mansour2
خیال رہے کہ دن کے وقت کابل پولیس ٹرکوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دیتی۔
جمعرات کو افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر کے دارالحکومت پلِ علم میں ایک خودکش دھماکے میں تین پولیس اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق خودکش حملہ بارود سے بھرے ٹرک کے ذریعے کیا گیا۔
دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ تقریباً 500 میٹر فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی تھی اور طالبان رہنما ملا عمر کی ہلاکت کے بعد یہ ان کا پہلا حملہ ہے۔
پیر کے روز افغان طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالبان اراکین کو نئے سربراہ ملا اختر منصور کی بیعت لیتے دیکھایا گیا۔
طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘
http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150806_kabul_bombing_3_killed_sa
کابل کے پولیس سربراہ جنرل عبدالرحمان رحیمی نے بتایا کہ کابل کے گنجان علاقے شاہ شہید میں بارود سے بھرے ٹرک کو دھماکے سے اڑایا گیا، حملے میں متعدد مکان بھی تباہ ہوئے۔’ حملے کا مقصدقتل عام تھا۔ہلاک و زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں‘۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئےہوتا ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان  دہشتگرد قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اورطالبان دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام میں عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع اور خلاف شریعہ ہے۔ نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عام شہریوں،عورتوں اور بچوں کو ہلاک نہ کیا جائے۔

Advertisements