وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ خودکش حملے میں جان بحق


150816124410_shuja_khanzada_624x351_app

وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ خودکش حملے میں جان بحق
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکام کے مطابق اٹک میں صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں صوبائی وزیر داخلہ سمیت 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔حکومت پنجاب کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر سعید الٰہی نے اتوار کو ضلع اٹک کے گاؤں شادی خان میں شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر ہونے والے اس خودکش حملے میں صوبائی وزیر داخلہ کی ہلاکت کی تصدیق کی۔پنجاب پولیس کے مطابق اس دھماکے میں 13 دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

384060-image-1439755847-482-640x480
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار نے قبول کی ہے اور ایک بیان میں خودکش حملہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک دوسری تنظیم کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

150816115512_shuja_khanzada_attoc_kattack_624x351_afp
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس حملے میں ملوث افراد کو پکڑنے میں مدد کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

384060-image-1439755857-846-640x480
پنجاب پولیس کے سربراہ مشتاق سکھیرا کے مطابق پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ اپنے ڈیرے پر اپنے عزیز کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے ہوئے لوگوں سے مل رہے تھے کہ اسی موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اُنھوں نے کہا کہ دو خودکش حملہ آور تھے جبکہ دوسرا عمارت کے اندر موجود تھا تاہم پنجاب پولیس کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرا حملہ آور کہاں گیا۔
نھوں نے کہا کہ اس حملے میں شدت پسند کالعدم تنظیموں کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

384060-image-1439741341-370-640x480
ریجنل پولیس افسر راولپنڈی وصال فخر سلطان راجہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ شجاع خانزادہ کے ڈیرے میں جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت وہاں جرگہ ہو رہا تھا اور لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
چھت گرنے کے باعث صوبائی وزیر داخلہ سمیت درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔
پنجاب پولیس کے مطابق ملبے تلے افراد میں شجاع خانزادہ کی سکیورٹی پر مامور ڈی ایس پی حضرو شوکت شاہ بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مشینری بھی استعمال کی گئی۔
صوبائی وزیر داخلہ کے بھتیجے سہراب خانزادہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت 50 افراد ڈیرے میں موجود تھے۔

384060-image-1439741348-940-640x480
حکومت پنجاب نے وزیرِ داخلہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم، صدر اور برّی فوج کے سربراہ کی جانب سے بھی شجاع خانزادہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
وزیراعظم محمد نوازشریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں شجاع خانزادہ کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ بہادر پاکستانی قوم اور شجاع خانزادہ جیسے ہیروز کی قربانیاں بزدل دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گی اور ان کے آخری ٹھکانے تک ان کا پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کیاجائے گا۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان کی جانب سے ٹوئٹر پر شائع کیے گئے پیغامات کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ شجاع خانزادہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس سے پاکستان کا دہشت گردوں کے خلاف لڑنے اور اس عفریت کے خاتمے کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔
جنرل راحیل شریف کا یہ بھی کہنا تھا دہشت گردوں کی یہ بزدلانہ حرکتیں قوم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
صوبہ پنجاب کے انسداد دہشت گردی کے محکمے کے ایک اہلکار کے مطابق صوبے بھر میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کے جاری آپریشن کو تیز کرنے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ کو دھمکیاں زیادہ ملنا شروع ہوگئی تھیں۔
اُنھوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ میں کالعدم تنظیم کے رہنما ملک اسحاق اور دیگر تیرہ افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد صوبائی وزیر داخلہ کو مزید محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
اہلکار کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے آبائی علاقے میں کالعدم تنظیموں کے متحرک ہونے کے بارے میں بھی انسداد دہشت گردی کے محکمے کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد محکمے کے ذمہ داران افراد نے اس علاقے میں کارروائی کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا شروع کردیا تھا۔
اس ضمن میں صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کے حکام سے بھی ان تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ شجاع خانزادہ کا آبائی علاقہ صوبہ پنجاب کی آخری حدود میں واقع ہے جس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا کی حد شروع ہو جاتی ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150816_shuja_khanzada_dera_blast_attock_rh

150816115255_shuja_khanzada_attoc_kattack_640x360_reuters_nocredit
پنجاب پولیس نے صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر اٹک کے علاقے میں ہونے والے خود کش حملے میں کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس مشتاق کی جانب سے واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کی ہلاکت مظفر گڑھ میں لشکر جھنگوی کے چیف ملک اسحاق اور ان کے دو بیٹوں سمیت 13 افراد کی ہلاکت کی جوابی کارروائی ہے۔
آئی جی نے شجاع خانزادہ کی ہلاکت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کا حوصلہ اور ہمت ایسے حملوں سے پست نہیں ہوسکتے۔
وفاقی وزارت داخلہ کے ذارئع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ پر حملے میں کالعدم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔لشکر جھنگوی پاکستان میں القاعدہ کا چہرہ سمجھی جاتی ہے۔
شجاع خانزادہ کو کالعدم لشکری جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی ہلاکت کے بعد سے مبینہ طور پر سیکیورٹی خدشات تھے۔
صوبائی وزیر داخلہ شہید شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر دھماکے سے شہید ہونے والے 14 افراد کی شناخت ہو گئی ہے ۔نجی نیوز چینل دنیا نیوز کے مطابق دھماکوں میں شہید ہونے والوںمیں محمد عثمان،عبدلقیوم ،محمد زمان ،نوید مشتاق ،آصف خان ،محمد بشیر ،محمد اکرم،سردارغلام،غریب نواز ،محمد فیاض ،محمد اجمل ،نصیر خان ،امیر افضل اورحاجی زمرد خان شامل ہیں ۔
صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے وزیرداخلہ پنجاب کرنل ریٹائرڈ شجاع خانزادہ پر خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شجاع خانزادہ کی شہادت کو ملک و قوم کے لئے بڑا المیہ قراردیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ شجاع خانزادہ پر خود کش حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، شجاع خانزادہ تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے وزیرداخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کی شہادت کو قومی سانحہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اہل پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے امن پسند عوام کو شدید دکھ اورافسوس ہوا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ جنوبی پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے خلاف سرگرمیوں میں پیش پیش تھے اورحساس اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں ان پرحملے کا خدشہ ظاہرکیا تھا۔
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے۔ طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ پاکستانی طالبان اور لشکر جھنگوی خونریزی، قتل و غارت، عسکریت پسندی اور شدت پسندی چھوڑ کر اور ہتھیار پھینک کر امن و سلامتی کی راہ اختیار کریں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا بند کر دیں کیونکہ ان کا دہشت گردانہ طرزعمل اسلام کے بدنامی، پاکستان کی کمزوری اور ہزاروں گھرانوں کی بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستانی طالبان جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول(ص) کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں.
اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ طالبان اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں.
طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ ایک دہشت گرد گروپ کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور ہر شخص کو دہشت گردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ۔

Advertisements