شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی حملے


291525-fighterjets-1411887749-202-640x480

شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں فضائی حملے

پاک فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں شمالی وزیرستان میں 25 مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جس کے بعد رواں ہفتے ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 133 ہوگئی ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقامی افراد اتوار کی رات سے لگاتار بمباری رپورٹ کررہے ہیں۔حکام کے مطابق بمباری کے دوران 25 عسکریت پسند ہلاک جبکہ ان کے پانچ ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا۔ شمالی وزیرستان میں تازہ ترین فضائی حملوں کے نتیجے میں منگل کے روز کم از کم 18 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج نے ایک اعلامیے میں بتایا کہ یہ کارروائی وادی شوال میں کی گئی۔ریڈیو پاکستان کے مطابق جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا اور ان میں سے متعدد کو تباہ کردیا گیا۔ کل بھی پاک فوج نے ایک اعلامیے میں بتایا گیا تحا کہ شمالی وزیرستان میں فضائی حملوں کے دوران شوال اور گھرلمائی کے علاقوں کو ہدف بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 50 دہشت گرد مارے گئے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ فوج کے پاس علاقے میں دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر موجود ہونے کی اطلاعات تھیں جسے بری طرح نقصان پہنچایا گیا ہے۔ دوسری جانب ریڈیو پاکستان کے مطابق خیبر ایجنسی کے رجگال کے علاقے میں بھی فضائی کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں دو خودکش بمباروں سمیت 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

55d1daba9193a

140615094401_pakistan_airforce_624x351_getty

140928065502_pakistan_jets_640x360_paf_nocredit

اس سے قبل انٹیلیجنس ادارے کے دو عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ پیر کی صبح شمالی وزیرستان کے علاقوں زوئی ناری، لتاکا، مزیر مداخیل اور شوال کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 24 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔خبر کے مطابق جیٹ طیاروں کی شیلنگ سے عسکریت پسندوں کے چھ ٹھکانے بھی تباہ ہوئے۔وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان سمیت سات قبائیلی ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔

w460
اہلکاروں کے مطابق شوال اور دتہ خیل کے گھنے جنگلات میں واقع نالے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سمگلنگ کا راستہ ہیں اور یہاں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔

taliban-chief-makes-last-ditch-bid-to-assert-authority-1399760943-6834
اہلکاروں کے مطابق ان ٹھکانوں کو شدت پسند پاکستان کے اندر حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔دونوں اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیر کو شمالی وزیرستان میں صبح دس بجے فضائی حملے زوئے نری، لٹکا، میزر مداخیل اور شوال کے علاقے میں کیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ فضائی حملوں میں شدت پسند کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور اس کے نتیجے میں 24 شدت پسند مارے گئے جبکہ ایک اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی میں دو خودکش حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاع بھی ہے۔
پاکستان کی فوج نے گذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جو اب تک جاری ہے اور اس دوران فوج نے ایجنسی کے زیادہ تر حصے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے کچھ عرصے بعد خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔فوج کے مطابق شمالی وزیرستان سے شدت پسند بھاگ کر خیبر ایجنسی آ رہے تھے۔
دہشت گردی کو کافی حد تک کچلا جا چکا ہے اور ساری قوم وطن عزیز کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کرنے والی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔دہشت گردوں کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور بہت جلد ان کا نام و نشان پاکستان بھر سے مٹا دیا جائے گا ۔ دہشتگردی کے خاتمہ سے علاقہ و خطہ میں امن قائم ہوگا اور استحکام آئے گا۔ ضرب عضب نے دہشتگردوں کے مواصلاتی رابطے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ابتدا میں ہی توڑ دیے تھے۔ مزید فوج نے دہشتگردوں کے انتظامی ڈھانچے کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا، اور دہشت گرد بیرونی قوتوں سے ملنے والی کمک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ آپریشن کی کامیابی سے ریاست کولاحق خطرات کم ہوتے چلے گئے۔
سب سے بڑی کامیابی امن و امان کی صورتحال ہے جو کہ ماضی کی نسبت اب بہت بہتر ہوچکی ہےت اہم اب بھی دہشتگرد اکا دکا سافٹ ٹارگٹ پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اس حد تک تو کامیاب نظر آرہا ہے کہ تحریک طالبان کے جنگجو بکھر گئے ہیں اورلگتا ہے انکے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے کیونکہ ملکی سلامتی کا یہ دشمن بے چہرہ ہے اس لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لئے نا جانے کتنی قربانیاں دینا پڑیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک سکیورٹی اہلکاروں کے حوصلے ہر قربانی کے بعد مزید بلند ہوئے ہیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط عزم کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف متحرک ہو گئے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو بڑے پیمانے پر کامیابیاں ملی ہیں اور اس وقت شمالی وزیرستان کے بڑے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرالیا گیا ہے۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور اسلام کے مقدس نام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے نام پر دہشت گرد پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلام کا چہرہ بھی مسخ کر رہے ہیں۔
اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کاامیج خراب ہورہا ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق، کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔
سیکورٹی فورسز  تیزی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں اور ان کا صفایا کر رہی ہیں اور امید  ہے کہ پاکستان جلد امن کا گہوارہ بن جائے گا۔

Advertisements