وادی شوال میں فوج کا آپریشن و پیشقدمی


55d612238256f

وادی شوال میں فوج کا آپریشن و  پیشقدمی

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کے سلسلے میں شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں فوج کی زمینی کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے۔

385087-zarbazb-1440098458-313-640x480
پاکستانی فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا۔ فوج نے اب تک کی کارروائیوں میں ایجنسی کے زیادہ تر حصے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر عاصم باجوہ نے جمعرات کی شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ شوال میں زمینی آپریشن شروع ہو گیا ہے، آرمی چیف نے جلد ازجلد فوجی اہداف حاصل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

140915155307_asim_bajwa_ispr_640x360_bbc_nocredit

150820180708_shawal_operation_640x360_twitter_nocredit
آرمی چیف نے آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی فورسز کو مربوط رابطے قائم رکھنے کو بھی کہا ہے۔
ادھر سرکاری ریڈیو نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جمعرات کو شوال میں فضائی بمباری کے نتیجے میں 18 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے غلمئی میں 28 دہشت گرد مارے گئے۔
شمالی وزیرستان میں شوال ایک طویل وادی ہے جو وزیرستان سے افغانستان تک پھیلی ہوئی ہے اور پورے علاقے میں پاکستانی فوج کو تعینات کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تاہم ابھی دیکھنا یہ ہے کہ شوال آپریشن کی نوعیت کیا ہے۔
گذشتہ ماہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شوال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ابتدائی کارروائی کا پہلا مرحلہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔
آپریشن ضربِ عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر بتایا گیا کہ مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور اس عرصے میں سکیورٹی فورسز کے347 افسران اور جوان بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

941729-PAKarmytroopsbannuAP-1440090215-570-640x480
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شوال ایک طویل وادی ہے جو وزیرستان سے افغانستان تک پھیلی ہوئی ہے اور پورے علاقے میں پاکستانی فوج کو تعینات کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تاہم ابھی دیکھنا یہ ہے کہ شوال آپریشن کی نوعیت کیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ چند روز پہلے بھی یہ خبریں موصول ہوئی تھیں کہ فوج نے شمالی وزیرستان کی اہم چوٹیوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس سے متاثر دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے
رحیم اللہ یوسف زئی نے گذشتہ دنوں اٹک میں صوبائی وزیرِ قانون کی ہلاکت اور اس کے بعد ایم کیو ایم کے رکنِ قومی اسمبلی پر قاتلانہ حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں تو بدلے میں فوج کی کارروائیاں بھی ہوتی ہیں۔
رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں حالیہ پیش رفت امریکہ کے عدم اعتماد اور تحفظات دور کرنے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔
جمعرات کے روز ہی شمالی وزیرستان سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور تین شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔
مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپ جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ کے علاقے آسمان پنگا میں ہوئی جب شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی دو چوکیوں کو گھیرے میں لے کر فائرنگ شروع کر دی۔
اس سے متاثر دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے
رحیم اللہ یوسف زئی نے گذشتہ دنوں اٹک میں صوبائی وزیرِ قانون کی ہلاکت اور اس کے بعد ایم کیو ایم کے رکنِ قومی اسمبلی پر قاتلانہ حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں تو بدلے میں فوج کی کارروائیاں بھی ہوتی ہیں۔
رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں حالیہ پیش رفت امریکہ کے عدم اعتماد اور تحفظات دور کرنے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔
جمعرات کے روز ہی شمالی وزیرستان سے متصل قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور تین شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

55d1daba9193a
مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھڑپ جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ کے علاقے آسمان پنگا میں ہوئی جب شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی دو چوکیوں کو گھیرے میں لے کر فائرنگ شروع کر دی۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150820_nw_shawal_operation_hk
یہ اہم علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہ تحریک طالبان کا مرکز ہے۔ وادی شوال جا چکے ہیں جو کہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے۔ گھنے جنگلات اور غاروں کی صورت میں چھپنے کی قدرتی جگہیں دہشتگردوں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں۔ یہ علاقہ دہشتگردوں کے لیے محفوظ جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ شوال اور دتہ خیل کے گھنے جنگلات میں واقع نالے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سمگلنگ کا راستہ ہیں اور یہاں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم محمد نوازشریف سے ملاقات کی ہے جس میں ملک کے داخلی اور خارجی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی اس ملاقات میں آرمی چیف نے وزیراعظم کو ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سے آگاہ کیا۔ سانحہ صفورا چورنگی کے بعد کراچی کی سلامتی پر خصوصی بات ہوئی۔ آرمی چیف نے جنوبی وزیرستان میں بے گھر لوگوں کی بحالی کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔ وزیراعظم نے بے گھر لوگوں کی گھروں کو واپسی کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت انہیں مزید آسانیاں بہم پہنچائے گی۔ دونوں رہنمائوں نے قبائلی علاقے میں حالات معمول پر لانے کے لئے سیاسی قیادت کے متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ دونوں نے ضرب عضب آپریشن کو وادی شوال تک توسیع دینے پر بھی غور کیا ہے۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ حکومت بجٹ میں بے گھر افراد کی بحالی کے لئے خطیر فنڈ مختص کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس حوالے سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات وزیراعظم نے فوج کی قربانیوں اور اس کی کارکردگی کو سراہا۔ وزیراعظم نے دفاعی بجٹ کے لئے رقوم مختص کرنے کے حوالے سے بھی یقین دہانی کرائی۔
دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے کیونکہ ملکی سلامتی کا یہ دشمن بے چہرہ ہے اس لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لئے نا جانے کتنی قربانیاں دینا پڑیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو بڑے پیمانے پر کامیابیاں ملی ہیں اور اس وقت شمالی وزیرستان کے بڑے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرالیا گیا ہے۔
ضرب عضب آپریشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے اہداف واضح ہیںاور آپریشن ضرب عضب کا مقصد پاکستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام لانا ہے
آج انسانیت کو دہشت گردی کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔
دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ فعل حرام ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے.
’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبان احسان بنو، بے شک اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے. ۔ البقرة، 2 : 195
چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کاامیج خراب ہورہا ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق، کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
آپریشن ضربِ عضب میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی قربانیوں کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کیا جائے اور ان کو کسی بھی جگہ دم لے کر تازہ دم ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔
طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ ,القائدہ،داعش اور بی ایل اے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ دہشت گرد گروپوں کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔

Advertisements