قبائلی علاقوں سے ’عالمی جہادیوں کا خاتمہ‘


150502144423_pakistan_army_fata_624x351_afp

قبائلی علاقوں سے ’عالمی جہادیوں کا خاتمہ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال شروع کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تقریباً تمام قبائلی علاقوں سے ’عالمی جہادیوں‘ بالخصوص عرب اور وسطی ایشائی ممالک سے تعلق رکھنے والے اکثریتی شدت پسندوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے یا انہیں پاکستان کی سرزمین سے بے دخل ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ویسے تو کئی مقاصد تھے لیکن ایک اہم ہدف یہ بھی تھا کہ پاکستانی کی سرزمین سے غیر ملکی جنگجوؤں کا مکمل طورپر خاتمہ کیا جائے۔

150715133401_taliban_fighter_640x360_getty
ذرائع کے مطابق آپریشن سے پہلے ہی غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا اور انہیں دو ٹوک الفاظ میں آخری پیغام دیا گیا تھا کہ وہ یا تو پاکستانی علاقوں سے نکل جائیں یا پھر تیار ہوجائیں۔
گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے بھی شمالی وزیرستان میں کارروائیاں شروع ہوجانے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں بی بی سی کو کہا تھا کہ ضرب عضب کا بنیادی مقصد نہ صرف ایجنسی کو عسکری تنظیموں سے صاف کرنا ہے بلکہ پاکستان سے عالمی جہادیوں کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔

haqqani-network
پاکستان میں مختلف عالمی شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی آمد کا سلسلہ اکتوبر 2001 میں اس وقت شروع ہوا جب افغانستان پر امریکہ کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے کے چند ہفتوں بعد سینکڑوں کی تعداد میں شدت پسندوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کا رخ کیا۔
ان عسکریت پسندوں میں اکثریت القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عرب جنگجوؤں کی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکستان موومنٹ، چیچنیا، یورپ اور چین سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔
ابتدا میں یہ جہادی صرف جنوبی، شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی تک محدود رہے لیکن رفتہ رفتہ یہ پورے قبائلی علاقوں میں پھیل گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت تھی اور انہی کے دور میں غیر ملکیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
جہادی تنظیموں پر کام کرنے والے سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں پاکستان میں اب غیر ملکیوں جہادیوں بالخصوص عرب اور ازبک جنگجوؤں کا اثر رسوخ تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے شوال میں چند غیرملکی جنگجو ہوسکتے ہیں جبکہ دیگر تمام علاقوں سے ان کا مکمل خاتمہ کردیا گیا ہے۔
سمیع یوسفزئی کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے زیادہ تر عرب، ازبک اور چیچن شدت پسندوں نے پاکستان کے سرحد سے ملحق افغانستان کے صوبوں ننگرہار، زابل اور کنڑ کا رخ کیا ہے جہاں ان کے لیے روپوش رہنا نسبتاً آسان سمجھاجاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فوجی کارروائیوں کی وجہ سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سمیت زیادہ تر مقامی شدت پسند تنظیمیں کافی حد تک کمزور ہوگئی ہیں جس سے غیر ملکی جنگجوؤں کےلیے یہاں رہنے کی گنجائش بہت کم باقی رہ گئی ہے۔
حالیہ کاروائیوں کی وجہ سے بیشتر شدت پسندوں کو افغان علاقوں کی جانب بے دخل کیا گیا ہے یا وہ خفیہ مقامات پر روپوش ہیں ۔
ماضی میں یہ انتہا پسند تنظیمیں غیر ملکی جہادیوں کےلیے ڈھال کا کام کرتی رہی ہیں چاہے وہ پناہ کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے ان کی حفاظت کرنا مقصود ہو۔ تاہم حالیہ کاروائیوں کی وجہ سے بیشتر شدت پسندوں کو افغان علاقوں کی جانب بے دخل کیا گیا ہے یا وہ خفیہ مقامات پر روپوش ہیں۔
اعلیٰ سرکاری اہلکار یہ بھی کہتے ہیں کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد قبائلی علاقوں سے ملحق پاک افغان سرحد ڈیورینڈ لائن پر نگرانی کا عمل انتہائی سخت کردیا گیا ہے اور اس ضمن میں وہاں سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اب اس بات کو قطعی طورپر برداشت نہیں کریں گے کہ کوئی غیر ملکی جنگجو پہلے کی طرح دوبارہ سے پاکستان میں داخل ہو اور یہاں اپنے ٹھکانے قائم کرے۔

_84607958_gettyimages-155626966
شمالی وزیرستان افغانستان سے تعلق رکھنے والے حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کا بھی اہم گڑھ رہا ہے تاہم ضرب عضب کے بعد انہیں بھی اس علاقے سے بے دخل کیا گیا ہے۔ بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے بیشتر جنگجو افغانستان کے سرحدی علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ تاہم کچھ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک کے شدت پسند قبائلی علاقوں میں بھی دیکھے گئے ہیں تاہم اس ضمن میں مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہے۔
افغان حکومت کی طرف سے حالیہ دنوں میں پاکستان پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے اجلاس بدستور پاکستان میں منعقد ہورہے ہیں اور نئے امیر ملا منصور کی نامزدگی بھی کوئٹہ شہر میں ہوئی ہے تاہم پاکستان اس الزام کی سحتی سے تردید کرتا رہا ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150823_zarbe_azb_foreign_militants_rh
مبصرین کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان میں موجود ہیں۔ افغانستان کی حکومت یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث افراد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں  مگر پاکستان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

 شمالی وزیرستان حقانی نیٹ ورک و القائدہ ،ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور جہادیوں کا مسکن ہے۔ جہاں سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں میں باآسانی کاروائیاں کرتے ہیں ۔ القائدہ کے مرکزی لیڈر بھی اسی علاقہ میں روپوش ہیں۔ ایمن الظواہری پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہے۔ یہ علاقے دہشتگردی کا مرکز ہیں جہاں اسامہ بن لادن کی باقیات اس علاقے سے باہر کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ .تمام گروپس اگرچہ علیحدہ علیحدہ ہیں مگرمل کر کام کرتے ہیں۔ القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھاکہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر تےہیں۔
حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں سرگرم طالبان کا سب سے مضبوط، موثر اور تجربہ کار گروہ قرار دیا جاتا ہے جس سے منسلک جنگجووں کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق چار ہزار سے 10 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ گروہ کے بیشتر جنگجو افغان نژاد پشتون ہیں جب کہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض پاکستانی قبائلی اور عرب باشندے بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ مبصرین کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے لوگ پاکستان میں موجود ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی پیرانہ سالی کے باعث جلال الدین حقانی عملی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرچکے ہیں اور ان کی حیثیت اب روحانی پیشوا کی سی ہے۔ ان کی جگہ ان کے صاحبزادے سراج الدین حقانی نے سنبھال لی ہے جسے اپنے والد سے زیادہ شدت پسند قرار دیا جاتا ہے۔
حقانی نیٹ ورک کا بانی ،جلال الدین حقانی خوست،افغانستان کا رہنے والا ہے اور سلطان خیل میزائی ،زدران قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ افغانستان سے طالبان کی حکومت کے خاتمہ پر ہجرت کر کے شمالی وزیرستان میں آ گیا اور میران شاہ میں آباد ہو گیا جہاں جلال الدین حقانی نے مدرسہ منباء العلوم قائم کیا۔ افغانستان کے صوبہ خوست میں رہنے والے زدران قبائل حقانی نیٹ ورک کے حمایتی ہیں۔ حقانی نیٹ ورک ،القاعدہ تنظیم کا بھی حصہ ہے اور اپنے طور پر مسلح جدوجہد جاری رکھنے والی ایک خودمختار تنظیم بھی ہے۔ حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے”خوست کا پیالہ” کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔۔حقانی نیٹ ورک کا طالبان سے الحاق ہے۔ القائدہ سے تعلق رکھنے والا یہ گروپ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب پھیلا ہوا ہے۔ سراج الدین حقانی، جو خلیفہ بھی کہلاتا ہے، حقانی نیٹ ورک کا سربراہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مغرب، بھارت اور افغانستان میں ہونے والے ہائی پروفائل حملوں میں ملوث ہیں۔اس نیٹ ورک کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں افغان شدت پسندوں کا غلبہ ہے۔
حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی کی پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جائیدادیں ہیں۔انہوں نے سنہ انیس سو اسی کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیاں کیں۔ تاہم اس نیٹ ورک کی شاخیں پاکستانی سر زمین میں پائی جاتی ہیں اور بعض حلقوں کی طرف سے یہ قیاس آرائی بھی کی جاتی ہے کہ اس کے پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں مگر پاکستا ن ، اس بات سے انکاری ہے۔ “اگرچہ پاکستان اور مغرب میں متعدد افراد جلال الدین حقانی کو آئی ایس آئی کا اثاثہ سمجھتے ہیں لیکن پاکستان کی فوج اس کی تردید کرتی ہے۔” تاہم دفاعی تجزیہ نگاروں کو یقین ہے کہ حالیہ سالوں میں آئی ایس آئی کی حقانی نیٹ ورک پر گرفت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کچھ اعلیٰ ارکان جنوبی وزیرستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

حقانی نیٹ ورک یقیناً سب سے زیادہ خونی گروپ ہے ۔ افغانستان سے باہر انہیں بہت زیادہ حمایت حاصل ہے ۔ نظریاتی طور پر وہ کہیں زیادہ کٹر ہیں۔‘‘
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نظریے کے زور پر، حقانی نیٹ ورک کے لیے خود کش بمبار اور غیر ملکی جنگجو بھرتی کرنا ممکن ہو جاتا ہے جو ایسے حملے کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔
حقانی پاکستان میں مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ مین قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہیں اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں، اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ سوچنے کی بات ہے اور یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی حمایت میں اپنی سلامتی کو خطرہ میں ڈال دے؟
حقانی نیٹ ورک ، پشتون ولی کے اصولوں سے قصدا روگردانی کرتا ہے مگر طالبان کا حصہ ہیں۔ کابل میں ہونے والے اکثر دہماکوں کے ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کے لوگ ہیں جو ملک میں خودکش حملوں کے ذریعہ بد امنی اور تشدد پھیلا رہے ہیں اور پر امن شہریوں، بچوں اور عورتوں کی اموات کے ذمہ دار ہیں۔
غیر ملکی دہشتگردوں کا سرزمین پاکستان میں کیا کام ہے؟ جائیں وہ اپنے ملکوں کو اور اپنے ملکوں کو جہنم بنائیں۔ ہمیں اپنی سرزمین سے ان تمام ملکی و غیر ملکی جہادیوں کو جو ہمارے ملک اور دوست ملکوں میں دہشت گردی پھیلاتےہیں، کو دہشت گردی کرنے کی ہر گز اجازت نہ دینی چاہئیے اور ان دہشت گرد عناصرکو نکا ل باہر کرنا چاہئیے۔

معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔ بچوں کی ہلاکت ایک خلاف اسلام ،غیر انسانی اور ملا عمر کی ہدایت کے منافی فعل ہے جس میں ملا عمر نےبے گناہ افراد،عورتوں اور بچوں کے ہلاک کرنے کی ممانعت کی تھی۔ بے گناہ افراد، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

Advertisements