کابل خودکش دھماکہ، 12 افراد ہلاک


world-kabulattack_8-23-2015_195062_l

کابل خودکش دھماکہ، 12 افراد ہلاک

افغانستان کے شہر کابل میں نیٹو کے قافلے کے قریب خودکش کار بم دھماکہ ہوا ہے،جس میں انٹرنیشنل ملٹری فورس کے 3سویلین کنٹریکٹرز سمیت 12افراد ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت 66 زخمی ہوگئے ۔ افغان وزارتِ صحت کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 9 افغان شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

150822140659_kabul_attack_624x351_epa

ذرائع کی مطابق خودکش کار بم حملے کا نشانہ نیٹو فورسز کا قافلہ تھا، دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں داخل کردیا گیا ہے۔  ہفتہ کو افغان میڈیا کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ شام ساڑھے 4بجے کے قریب شنوزادہ اسپتال کے سامنے ہوا، جہاں غیر ملکی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان محکمہ صحت کے ترجمان وحید اللہ معیار کا کہنا ہے کہ خودکش کار بم دھماکے میں 11افغان اور ایک غیر ملکی ہلاک ہوا ہے، جبکہ 66افراد زخمی ہوئے ہیں۔

55d8a2b3287f4
زخمی ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں، تمام زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں بعض افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فورسز کا قافلہ گزرنے کے بعد ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کو اڑا دیا گیا۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان شدید پہنچا۔ دھماکہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی۔ دھماکے کے نتیجے میں 10سے زائد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس میں ایک اسکول بس بھی شامل ہے۔

385548-blast-1440256265-379-640x480.gif

55d9b7e869ce4
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے طالبان نے کہا ہے کہ وہ اس دھماکے میں ملوث نہیں ہیں۔ افغان ویب سائٹ خاما پریس کے مطابق طالبان کی جانب سے جاری ہونے والا بیان کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے کے فوری بعد سامنے آیا تھا۔طالبان نے مزید کہا ہے کہ طالبان جنگجو رہنما کی اجازت کے بغیر حملہ نہیں کرتے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل میں موجود اپنے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کی جانب سے دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاہم ر اقم کے خیال میں یہ حملہ حقانی نیٹ ورک کا کام ہے جو کہ پشتون ولی کے اصولوں سے قصدا روگردانی کرتا ہے مگر طالبان کا حصہ ہیں۔ کابل میں ہونے والے اکثر دہماکوں کے ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کے لوگ ہیں جو ملک میں خودکش حملوں کے ذریعہ  بد امنی اور تشدد پھیلا رہے ہیں اور پر امن شہریوں، بچوں اور عورتوں کی اموات کے ذمہ دار ہیں۔ طالبان کا یہ وطیرہ ہے کہ جس حملہ میں خواتین و بچے زخمی و قتل ہوں وہ اس حملہ سے انکاری ہو جاتے ہیں۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہے۔ امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔طالبان  انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔
جہاد کی غرض وغایت یہ ہے کہ فتنہ ختم کیا جائے ، امن کو قائم کیا جائے، جہاد، ظلم وبربریت اورانسان دشمنی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ اگر جہاد کی وجہ اور علت کفر ہوتی تو اسلام جنگ کے موقع پرغیر مسلم عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور راہبوں کوقتل کرنے سے منع نہ کرتا۔ اگر جہاد کا مقصد غیر مسلموں کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنا ہوتا تو صدیوں حکومت کرنے والے شاہان ہند کسی غیر مسلم فرد کو سرزمین ہندوستان پر سانس لینے کاحق نہ دیتے۔
طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسلام امن اور محبت کا دین ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔

دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔

اسلام میں معصوم و بے گناہ لوگوں ،عورتوں اور  بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی ممنوع اور خلاف شریعہ ہے۔ ملا عمر نے بھی طالبان کو  بے گناہوں،عورتوں اور بچوں کو ہلاک کرنے سے منع کیا تھا۔

Advertisements