پنجاب کی اہم ترین شخصیت کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے کا منصوبہ


news-1440574667-2362_large

پنجاب کی اہم ترین شخصیت کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے کا منصوبہ
حساس اداروں نے صوبے کی اہم ترین شخصیت، اسکے فیملی ممبرز، 4 وفاقی، 2 صوبائی وزراءاور دیگر وی وی آئی پی شخصیات، حساس اداروں، سرکاری و غیر سرکاری اہم عمارتوں، و غیر ملکی افراد کی رہائش گاہوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کیلئے قبائلی علاقوں سے 6 دہشتگردوں کی پنجاب میں داخلے کی اطلاع دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مذکورہ شخصیات اور مقامات کی سیکیورٹی سخت کرنے کیلئے مراسلہ جاری کیا ہے۔

ef984940147bf45d11967db09865e5f0_XL

مراسلے کے مطابق کالعدم تنظیم ”لشکر اسلام“ جس نے اٹک میں دہشتگردی کرنے کا دعویٰ کیا ہے نے مذکورہ منصوبے کیلئے 6 دہشت گردوں کو تربیت دے کر خودکش جیکٹس، بارود، اسلحہ سے لیس کرکے پنجاب میں داخل کردیا ہے اور آنیوالے دنوں میں دہشتگردی کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق حساس اداروں کی اطلاع پر آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے پنجاب کے آر پی اوز، سی سی پی اوز، ڈی آئی جی آپریشن لاہور، ڈی پی اوز اور دیگر افسران کو سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے اور دہشتگردوں کے حوالے سے سرچ آپریشن کے احکامات جاری کئے ہیں۔ آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ڈی آئی جی آریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف نے تمام ڈویژنل ایس پیز کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقہ جات میں رہائش پذیر وی وی آئی پی شخصیات کے رہائش گاہوں اور ان کی نقل و حرکت کے دوران سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کریں اور مزید نفری تعینات کی جائے۔ اخبار کے مطابق ان اطلاعات پر رائیونڈ اور ماڈل ٹاﺅن میں اہم ترین شخصیات کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی کو سخت کیا گیا ہے اور ہر آنے جانے والوں کو چیک کیا جارہا ہے۔ لاہور بھر میں سرچ آپریشن کے علاوہ مشکوک گاڑیوں اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر حیدر اشرف نے نے بتایا کہ تھانہ سطح کے علاوہ گشت کرنے والی تمام سرکاری گاڑیوں کو بھی اس مراسلہ کے بارے میں بتایا گیا ہے تاکہ وہ الرٹ رہیں۔ سرچ آپریشن کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز شہر کے داخلی و خارجی راستوں کا بھی وزٹ کرکے تعینات پولیس فورس کو سیکیورٹی کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔
http://dailypakistan.com.pk/lahore/26-Aug-2015/260494
طالبان، لشکر اسلام اور طالبان کے اتحادی و ساتھی دہشتگرد ایک سانپ کی مانند ہیں اور ڈنک مارنا ان کی جبلت ہے، چاہے سانپوں کی جتنی مرضی خدمت کی جائے یہ ڈنک مارے سے باز نہ آتے ہیں۔ یہ ملک کی اہم شخصیتوں کو ہلاک و دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم اتحکام میں مبتلا کرنا چاہئتے ہیں اس طرح اپنے آقاوں کی خدمت کر رہے ہیں ۔
چونکہ طالبان اور ان کے ساتھی دہشتگردوں کا ابھی مکمل قلع قمع نہ ہوا ہے اور ان سے ہر حالت میں خبردار و ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور ان سے کسی نیکی کی توقع کرنا فضول ہے۔ طالبان پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور جہاں بھی یہ سر نکالیں ان کا خاتمہ کرنا ہو گااور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔
تمام دہشتگرد بشمول طالبان ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں.
پاکستانی عوام اور مسلمانوں کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے اور بم دہماکے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔
یہ ہیں پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے والوں کے کرتوت و عزائم جو مختلف بھیس بدل کر اور اپنی اصلیت کو چھپا کر سادہ لوح پاکستانیوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔ طالبان نے قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔تحریک طالبان ایک مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے ۔طالبان اور ان کے ساتھیوں کے اسلام اوپاکستانی قوم کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ طالبان اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور انن کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام، مسلمانوںاور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Advertisements