معصوم بچوں اور خواتین کو مارنے کی اجازت نہیں دیں گے


386836-image-1440688291-206-640x480

معصوم بچوں اور خواتین کو مارنے کی اجازت نہیں دیں گے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیر ستان کے علاقے شوال میں پاک فوج کےجوانوں سے خطاب کیا ۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کو ہرگز معصوم بچوں اور خواتین کو مارنے کی اجازت نہیں دیں گے ،دہشتگردوں کا خاتمہ یقینی بنایا جائے ،انہوں نے کہا دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں کامیابیوں سے متعلق پاک آرمی کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔آرمی چیف نے جوانوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کو سہولت فراہم کرنے والوں کو بے نقاب کیاجائے ،خفیہ ٹھکانوں میں چھپے دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیاجائے۔

386836-image-1440688274-914-640x480
شوال دہشتگردوں کا گڑھ سمجھا جاتاتھا لیکن ایک ہفتے کے دوران ہی پاک فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیاہے اور اس دوران 203دہشت گردوں کو ہلاک کر دیاہے ۔یہ اہم علاقہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہ تحریک طالبان کا مرکز ہے۔ دہشتگرد دوسرے علاقوں بھاگ کر وادی شوال جا چکے ہیں جو کہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے۔ گھنے جنگلات اور غاروں کی صورت میں چھپنے کی قدرتی جگہیں ہیں اور دہشتگردوں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن بنا دیتی ہیں۔ یہ علاقہ دہشتگردوں کے لیے محفوظ جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ شوال اور دتہ خیل کے گھنے جنگلات میں واقع نالے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سمگلنگ کا راستہ ہیں اور یہاں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شوال ایک طویل وادی ہے جو وزیرستان سے افغانستان تک پھیلی ہوئی ہے اور پورے علاقے میں پاکستانی فوج کو تعینات کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تاہم ابھی دیکھنا یہ ہے کہ شوال آپریشن کی نوعیت کیا ہے۔

386836-image-1440688331-155-640x480
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ چند روز پہلے بھی یہ خبریں موصول ہوئی تھیں کہ فوج نے شمالی وزیرستان کی اہم چوٹیوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس سے متاثر دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے
رحیم اللہ یوسف زئی نے گذشتہ دنوں اٹک میں صوبائی وزیرِ قانون کی ہلاکت اور اس کے بعد ایم کیو ایم کے رکنِ قومی اسمبلی پر قاتلانہ حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں تو بدلے میں فوج کی کارروائیاں بھی ہوتی ہیں۔
رحیم اللہ یوسف زئی کے خیال میں حالیہ پیش رفت امریکہ کے عدم اعتماد اور تحفظات دور کرنے کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔
آپریشن ضرب عضب کا مقصد پاکستان اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام لانا ہے۔

secuirty_forces_0
آج انسانیت کوطالبان دہشت گردی کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔
طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں ۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور امن کے مقاصد کو آگے بڑہاتا ہے۔طالبان دہشتگردوں کو یہ علم ہونا چاہئیے کی اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ معصوم اور بیگناہوںمردوں، عورتوں اور بچوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور پاکستان اور امن کے دشمن ہیں ، ان کی اختراع وسوچ اسلام و پاکستان مخالف ہے ۔اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے۔ طالبان دہشتگرد پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔
اسلام میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی حالت جنگ میں بھی ممانعت ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: وُجِدَتِ امْرَاة مَقْتُولَة فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اﷲِ فَنهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ۔
حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کردیا گیا تھا۔ اس پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمادی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو جو ملکِ شام ایک مہم کے لیے روانہ ہوا تھا،انھیں اس قسم کی ہدایات دی تھیں کہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں ، کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائیں، کسی ضعیف بوڑھے کو نہ ماریں ، کوئی پھلدار درخت نہ کاٹیں، کسی باغ کو نہ جلائیں ( موٴطامالک : ۱۶۸)
طالبان دہشتگرد جو خوارج ہیں عورتوں اور بچوں کے قتل سے بھی باز نہ آتے ہیں۔

Advertisements