خیبر ایجنسی خود کش دھماکا، 3 افراد ہلاک


news-1347867284-2125

خیبر ایجنسی خود کش دھماکہ، 3 افراد ہلاک

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات فاٹا کی خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے بازار میں خودکش دھماکے میں خصہ دار فورس کے اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 56 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

news-1441085241-7066_large

388095-khuber-1441088658-454-640x480

دھماکے کے فوری بعد خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ فواد وزیر کا کہنا تھا کہ خود کش دھماکے میں خاصہ دار فورسز کے اہلکار سمیت متعدد افراد ہلاک جبکہ 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خود کش بمبار اسسٹنٹ پولیٹیکل آفس کو نشانہ بنانا چاہتا تھا تاہم سخت سیکیورٹی کے باعث اس نے خود کو عمارت کے گیٹ پر ہی بازار میں دھماکے سے اڑا لیا۔ دوسری جانب خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ شباب علی شاہ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ خود کش بمبار پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر میں داخل ہونا چاہتا تھا تاہم سخت سیکیورٹی کے باعث اس نے خود کو اس کے گیٹ پر ہی دھماکے سے اڑا لیا۔ خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کا کہنا تھا کہ خود کش دھماکے کے نتیجے ایک خاصہ دار اہلکار سمیت 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 16 خاصہ دار اہلکاروں سمیت 56 افراد زخمی ہوئے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1026043/

55e53c2d0c34c

pakistan-khyber-Sucide-attack-terrorism-militancy_9-1-2015_195981_l
تاہم جیو نیوز نے خبر دی ہے کہ خیبرایجنسی کے جمرود بازارمیں دو دھماکے ہوئے، پہلے خود کش دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور28 افراد زخمی ہوگئے،امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی اہلکار جمع ہونے پر دوسرا دھماکا ہوگیا۔زخمیوں میں خاصہ دار فورس کے اہل کار بھی شامل ہیں۔پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق جمرود بازار میں خاصہ دار فورس کے لائن آفیسر کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکاکیا گیا۔دھماکے میں ایک شخص موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ 5 خاصہ دار فورس کے اہل کار سمیت 28 افراد زخمی ہوگئے،زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ،دھماکوںکے بعد جمرود بازار کو بندکردیا گیا۔
http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=195981

55e5410a4c090
جمرود کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب خودکش حملے دو اہلکاروں سمیت چھ افراد شہید اور53زخمی ہوگئے ۔
پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق خاصہ دار فورس کی گاڑی معمول کی گشت پر نکل رہی تھی کہ پیدل خود کش حملہ آور نے قریب آکر خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے ۔ حکام کے مطابق 56زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کردیاگیاہے جہاں ایک اہلکار سمیت مزید تین افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے جبکہ ہسپتال میںایمرجنسی نافذ ہے ۔
http://dailypakistan.com.pk/national/01-Sep-2015/262747

خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر خودکش دھماکا،6 افراد جاں بحق

http://www.express.pk/story/388095/
ایجنسی ہسپتال میں موجود سرجن نے کہا کہ  دھماکے میں تین ہلاکتوں اور 30 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا مہتاب خان عباسی نے دھماکے میں شہید خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پولیٹکل انتظامیہ سے دھماکے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، انہوں نے زخمیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی امن و سلامتی میں خاصہ دار فورس کی قربانیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔طالبان دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔ طالبان کو سمجھنا چاہئیے کہ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی شریعہ کے مطابق بے گناہ لوگوں، عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندہن نہ بنایا جا سکتا ہے ۔

Advertisements