خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں 33 دہشتگرد ہلاک


55e6b3af45adf

خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں 33 دہشتگرد ہلاک
شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں فورسز کی فضائی کارروائی میں 33 دہشتگرد ہلاک اور ان کے 10ٹھکانے تباہ کردیےگئے،ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں شوال اور زوئی سیدگی کے علاقوں میں جیٹ طیاروں سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔

Pakistan-Waziristan-killed_9-2-2015_196114_l

کارروائی کے دوران ٹھکانوں میں موجود 18 دہشتگرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ان کے 5ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے۔ خیبرایجنسی کی وادی تیرہ میں بھی دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،کارروائی میں 15دہشتگرد ہلاک اور 5زخمی ہوئے،جبکہ ان کے 5ٹھکانےبھی تباہ کردیئےگئے،سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونیوالے دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم لشکر اسلام سے ہے۔
http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=196114

55d1daba9193a

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا ، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کرینگے،دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کیلئے نہیں بنا،دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

طالبان اور دیگر دہشتگردوں کی جاری دہشت گردی کو کافی حد تک کچلا جا چکا ہے ، طالبان اور ان کے ساتھی دہشت گردوں کے پاؤں اکھڑ چکے ہیں اور بہت جلد ان کا نام و نشان پاکستان بھر سے مٹا دیا جائے گا ۔ دہشتگردی کے خاتمہ سے علاقہ و خطہ میں امن قائم ہوگا اور استحکام آئے گا۔پاکستان میں ترقی اور خوشحالی آئے گی جس کا فائدہ پوری پاکستانی عوام کو پہنچے گا۔
ضرب عضب نےطالبان و دیگر دہشتگردوں کے مواصلاتی رابطے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ابتدا میں ہی توڑ دیے تھے۔ مزید فوج نے دہشتگردوں کے انتظامی ڈھانچے کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا، اور دہشت گرد بیرونی قوتوں سے ملنے والی کمک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ آپریشن کی کامیابی سے ریاست کولاحق خطرات کم ہوتے چلے گئے۔
سب سے بڑی کامیابی امن و امان کی صورتحال ہے جو کہ ماضی کی نسبت اب بہت بہتر ہوچکی ہےتاہم اب بھی دہشتگرد اکا دکا سافٹ ٹارگٹ پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
آپریشن ضرب عضب اس حد تک تو کامیاب نظر آرہا ہے کہ تحریک طالبان کے جنگجو بکھر گئے ہیں اورلگتا ہے انکے کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کو بھی نقصان پہنچا ہے مگر ابھی جنگ زدہ علاقوں کے پناہ گزینوں کی بحالی کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشتگردوں کی وطن دشمن و عوام دشمن دہشتگردانہ سرگرمیاں ایک عفریت کی صورت اختیارکرچکی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو 100ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و فارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔
کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟
ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔جہاد تو اللہ کے نام پر اللہ کی خوشنودی کے لئے کی جاتی ہے۔ جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔

Advertisements