طالبان دہشتگردوں کی آمدنی کے ذرائع


w460

طالبان دہشتگردوں کی آمدنی کے ذرائع
تحریک طالبان پاکستان ملک بھر میں خود کش بمباروں و دہشت گردوں، معاونت اور سہولیات فراہم کرنے والوں، ہمدردوں اور ساتھیوں کے ایک انتہائی مضبوط و منظم اور خطرناک نیٹ ورک چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کو طالبان کی اتحادی و ہم خیال دوسری جہادی تنظیموں بشمول القائدہ اور ان کے کارکنان کی عملی اعانت او ر مدد و حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس تمام نیٹ ورک کو چلانے اور افرادی قوت کی بھرتی وغیرہ کیلئے روپے و پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو طالبان لاتعداد غیر قانونی و غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ ذرائع سے اکٹھا و حاصل کرتے ہیں۔

taliban-chief-makes-last-ditch-bid-to-assert-authority-1399760943-6834
کالعدم تحریک طالبان کی ماہانہ آمدنی 120 کروڑ روپے سے زائد ہو گئی، آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بھتہ ہے، کراچی موزوں ترین مقام بن گیا۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 30 سے 35 ہزار مسلح افراد پر مشتمل کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ماہانہ آمدنی ایک ارب 20 کروڑ روپے سے زائد ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے ایک رپورٹ دی ہے جس میں ملا فضل اللہ کی سربراہی میں قائم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی اوسطا ماہانہ آمدنی 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ماہانہ بتائی گئی ہے، اس میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بھتہ ہے، اس حوالے سے کراچی موزوں جگہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منشیات کی تجارت اور اغوا برائے تاوان سے بھی کالعدم تحریک طالبان کو خطیر رقوم حاصل ہو رہی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہاہے کہ دہشت گردوں کیلئے سرمائے کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ منشیات کی آمدنی ہے اور دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی مسلسل کوششیں کی جائیں۔تفصیلات کے مطابق یہ بات وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ منشیات نہ صرف ہماری نسل بلکہ ملک کے لیے بدنامی کا باعث بھی ہے اس لیے اس کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں
بیت اللہ محسود اپنے شیطانی ،طالبانی نیٹ ورک کو چلانے پر تقریبا 45 ملین ڈالر سالانہ خرچ کیا کرتے تھے جس سے وہ ہتھیار و آلات اور گاڑیاں خریدتے اور زخمی دہشت گردوں کے علاج معالجہ اور ہلاک شدگان کے ورثا کو رقم ادا کرتے اور دہشت گردوں کو تنخواہین ادا کرتے تھے، جو کہ 17000 روپے ماھانہ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناجائز ذرایع سے اکٹھا کیا ہوا بہت سا روپیہ پیسہ باہر کے ملکوں میں کاروبار و منافع کیلیئے بھی لگائے رکھا۔ دوسرے طالبان لیڈرز جو روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہین وہ اس رقم کے علاوہ ہے۔
ایک اظلاع کے مطابق اب طالبان نے خودکش حملے کرنے والوں کی ادائیگی مین ۳ گنا اضافہ کر دیا ہے اور اب ان لوگوں یا ان کے لواحقین کو کو فی کس ۹۰ ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔
طالبان کے مالی وسائل کے لا تعداد ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر ان سے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے چندے وعطیات، زکواۃ ، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوا اور لوٹ مار و ڈاکہ زنی و بنک ڈکیتیاں جو طالبان ، بلیک نائٹ گروپ کے ذریعہ پاکستان بھر میں کرتے ہیں، اور بلیک نائٹ گروپ براہ راست حکیم اللہ محسود و ولی الرحمن کی نگرانی میں کام کرتا تھا، معروف کاروباری،غیر ملکی اور حکومتی افراد کا اغوا برائے تاوان ( شہباز تاثیر کو طالبان نے اغوا کر رکھا ہے)اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میں کاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم اور القائدہ سے ملنے والی رقوم شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی سامان اور ہتھیاروں کی چوری، عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہیں۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ 2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، 7 سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے 7000 سے لیکر 14000 ڈالر میں فروخت کئیے۔
تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور بلوچستان میں درآمد اور برآمدہونے والی منشیات سے بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔ وزیر اور محسود قبائل کے دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے پشتون نژاد باشندے درحقیقت ملک بھر میں اسلحے کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ وہ درہ آدم خیل اور اورکزئی ایجنسی میں تیار ہونے والے سستے اسلحے و غیر ملکی اسلحہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس کاروبار کا سارا منافع طالبان کو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں طالبان پاکستان کے دشمنون سے مدد لینے کو عار نہیں سمجھتے اور اس کا اعتراف خود حکیم اللہ محسود نے کیا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کی بیس فیصد آمدنی کا ذریعہ اغوا اور بینک ڈکیتیوں سمیت جرائم ہیں جبکہ وہ پچاس فیصد آمدنی عطیات اور بھتہ خوری اور بقیہ تیس فیصد منشیات کی تجارت سے حاصل کرتی ہے۔ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ ۲۰۰ ملین ڈالر سالانہ لگایا گیا ہے جو کہ طالبان کی آمدنی کی ریڑہ کی ہڈی کی حثیت رکھی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان افیون، ذمرد و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو کے غیر قانونی کاروبار اور اشیا ءکی سمگلنگ مین بھی ملوث ہین۔ طالبان کافی عرصہ سے صوبہ سرحد او فاٹا کے کچھ حصہ مین لکڑی کی تجارت کو کنٹرول کر رہے ہین اور جانوروں کی سمگلنگ سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہین۔قبائلی علاقوں میں سامان کی ترسیل قبائل کے ہی مرہون منت ہے،قبائلی اشیاء کی ترسیل پر مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر لوگ جو کاروبار سے منسلک ہیں وہ عسکریت پسند یا طالبان کے حامی نہیں ہیں تاہم جو راستے تجارت کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں وہ طالبان کے زیر کنٹرول ہیں جس کی عسکریت پسند راہداری وصول کرتے ہیں۔
طالبان اغوا برائے تاوان کی سیکڑوں وارداتیں سر انجام دے چکے ۔ بعض اوقات یہ خود کسی جرائم پیشہ گروہ سے ’’ہائی پروفائل شخصیت‘‘ مثلاً سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی یا مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے اغوا کراتے ہیں۔ کبھی مجرم خود اغوا کردہ شخصیت کو پاکستانی طالبان کے ہاتھوں بیچ ڈالتے ہیں۔انھیں پھر منہ مانگی قیمت ملے، تو اغوا شدہ رہائی کی نعمت پاتا ہے۔ پاکستانی طالبان عموماً اغوا برائے تاوان کے ذریعے سالانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں۔  جنوری 2014ء میں انہوں نے ملتان سے ڈپٹی سیکرٹری پارلیمان، معظم کالرو کو اغوا کیا۔ کالرو صاحب کو پھر تین ماہ تک ضلع کوہاٹ کے کسی مقام پر قید رکھا گیا۔ جب ان کے اہل خانہ نے پانچ کروڑ روپے بطور تاوان ادا کیے، تبھی معظم کالرو کو رہائی ملی۔

Advertisements