پاکستانی ڈرون براق کا پہلا حملہ، 3 اہم دہشت گرد ہلاک


Buraq

پاکستانی ڈرون براق کا پہلا حملہ، 3 اہم دہشت گرد ہلاک

پاکستان نے مقامی طور پر تیارکردہ ڈرون ’’براق‘‘ کے ذریعے پیر کو شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں شدت پسندوں کے ایک احاطے کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں 3 اہم دہشتگرد ہلاک کردیے گئے۔ پیر کے روزپاک افغان سرحد کے قریب وادی شوال میں ملکی ساختہ مسلح ڈرون نے دہشتگردوں کے کمپاؤنڈ کو کامیابی کے ساتھ لیزر گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا ، مقامی ذرائع کے مطابق حملے میں طالبان کا حامی جنگجونظام وزیر بھی مارا گیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے مرنے والے تینوں دہشتگرد ہائی پروفائل تھے۔

pakistan-drone-burraq-nescom

انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور پاک فوج کے انجینئرز کے تیار کیے گئے شاہکار ڈرون کو پہلی بار دہشتگردی کے خلاف جنگ میں استعمال کیا گیا. اے ایف پی کے مطابق مقامی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونیوالوں میں کالعدم تحریک طالبان سے منسلک ایک مقامی قبائلی نظام وزیر بھی شامل ہوسکتا ہے۔

news-1441876458-8744

وزیرستان ،خصوصا شمالی وزیرستان ،القاعدہ اور طالبان کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر کے دہشت گرد یہاں موجود ہیں۔ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہاں عرب ہیں،ازبک ہیں،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی” کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں”( ڈیلی ڈان) وہان القائدہ ہے،طالبان ہیں، پنجابی طالبان ہیں ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ان تمام غیر ملکیوں کا پاکستان میں کیا کام ہے؟یہ لوگ جائیں اپنے ملکوں کو اور پاکستان کو اپنی عنایتوں سے معاف ہی رکھیں؟

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ ڈرون دشوار گزار اور ایسے علاقے جہاں  پہنچنا محال و مشکل ہوتا ہے، وہان سے دہشتگردوں کو ختم کرنے اور نکال باہر کرنےکے لئے ایک موثر ہتھیار ہیں۔

بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا اور وہ صرف اپنے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔قتل و غارتگری و دہشتگردی میں ملوث لوگ انسانیت‘ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور وہ کسی طور پر بھی مسلمان اورانسان کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔

خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ بے گناہوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ افواج اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ ’براق یا فلائنگ ہارس‘ 2013ء میں پاک فوج کے سپرد کیا گیا جبکہ مارچ میں آرمی چیف جنرل راحیل کی موجودگی میں اس کا کامیاب تجربہ ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق پاکستان نے پہلی مرتبہ اپنے تیار کردہ ڈرون طیارے ’براق‘ کا استعمال کیا اور ڈرون کی یہ کارروائی کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ پاکستانی ڈرون ’براق‘ نے شمالی وزیرستان میں اپنے پہلے ہی حملے میں 3؍ اہم دہشت گردوں کو ہلاک کردیا .
رپورٹ کے مطابق پاکستان چوتھا ملک ہے جو ڈرون کی مدد سے زمین پر موجود اپنے ہدف کوصد فی صد صحیح نشانہ لگا سکتا ہے۔براق کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ20سے 22ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہدف پر عقاب کی نظر رکھتا ہے۔ ایک بار جو ٹارگٹ اس کے کیمرے میں’ لاک‘ ہوجائے اس کا بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے کیوں کہ فائر ہونے کے بعد اس میزائل کے لیے ہدف کے ساکت یامتحرک ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتااور اس میں نصب لیزر گائیڈیڈ میزائل "برق” اپنے ہدف کو بھسم کرہی دم لیتا ہے۔رواں ہفتے کے دوران 7ستمبر 2015ء کو اسی’براق‘ نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ”ضرب عضب“ میں پہلی مرتبہ وادی شوال میں 3دہشت گردوں کو نشانہ بناکر خود کو ہر طرح سے ’پیشہ وار‘ ثابت کیا۔
پاکستانی انجینئرزاور ماہرین نے 2009ء میں ڈرون طیارہ بنانے کی کاوشیں شروع کیں جو کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ یہ ڈرون 2013ء میں پاک فوج کے سپرد کیا گیا ہے اور یہ ہر قسم کے موسمی حالات میں منجمد یا حرکت کرنے والے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ، اے پی پی کے مطابق ملکی ساختہ مسلح ڈرون براق جسے فلائنگ ہارس کا نام دیا گیا ‘اس سال مارچ میں متعارف کرایا گیا ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون اور میزائیل گائیڈڈ کے فائر ٹیسٹ کے دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے اور انہوں نے اس تمام تجربے کا مشاہدہ کیا جب کہ اس کامیاب تجربے پر جنرل راحیل شریف نے انجینئرز اور سائنسدانوں کو مبارکباد بھی پیش کی۔اس موقع پر جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ڈرون اور لیزرگائیڈڈ میزائل کا تجربہ ایک تاریخی کامیابی ہے، ماہرین کی انتھک کوششوں سے دفاعی صلاحیت بڑھ گئی اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی نے پاکستان کو نئی صف میں کھڑا کردیا ہے اب پاکستانیوں کو اپنے اپنے شعبوں میں آگے بڑھنا ہے جب کہ ترجمان پاک فوج کے کہنا تھا کہ براق ڈرون اور لیزر گائیڈڈ میزائل کے تجربے سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ ہو اہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شوال میں کچھ عرصہ قبل زمینی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا جبکہ فضائی کارروائیوں کےذریعے بھی دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، لیزر گائیڈڈ میزائل سے لیس ڈرون طیارہ 20سے 22ہزار فٹ پر بلندی پر پرواز کرنےکی صلاحیت کا حامل ، اپنے ہدف پر عقاب کی نظر رکھتا ہے،مارچ میں ڈرون طیارے کے کامیاب تجربہ کے موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل بھی موجود تھے ۔

Advertisements