عیدالاضحی پر قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد


news-1442998691-5948_large

عیدالاضحی پر قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد

عیدالاضحی کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی۔

images

قربانی کی کھالیں جمع کرنے والوں میں پاکستانی طالبان ، جماعت الدعوة ،لشکر طیبہ ، لشکر جھنگوی, تحریک غلبہ اسلام، حرکت المجاہدین، انصار الامہ ،جیش محمد اور اہل سنت والجماعت جیسی کالعدم تنظیموں شامل ہیں جو کھالیں جمع کرنے کے بعد ٹینریز کو فروخت کر دیتی ہیں۔

n00206456-b
مگر قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں۔ جماعت الدعوة فنڈز جمع کرنے کیلئے فلاح انسانیت کی ڈھال استعمال کرتی ہے، جیش محمد الرحمت ٹرسٹ کے نام سے رسیدیں جاری کرتی ہے ، انصار الامہ الہلال ٹرسٹ کے نام سے کھالیں اکٹھی کرتی ہے جبکہ اہل سنت ال ایثار ویلفیئر ٹرسٹ کا نام استعمال کرتی ہے۔

42183-animalsphotofile-1351539499-507-640x480

ذرائع کے مطابق گزشتہ برس لگ بھگ دس ملین جانور قربان کئے گئے تھے اور ان کی کھالوں کی قیمت پاکستان روپے میں 35,000ملین بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گائے کی کھال کی قیمت 50ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں۔

55ba0d3dd2070

یہ تنظیمیں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتے ہیں۔اور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اور اپنی طاقت بڑہانے استعمال کرتی ہیں۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دہماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف  نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ کالعدم تنظیموں کے قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی پابندی پر سختی سے عملدرآمدیقینی بنایا جائے اوراس ضمن میں کوئی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے کھالیں جمع کرنے پر پابندی یقینی بنانے کیلئے ہر ضلع کی انتظامیہ اور پولیس حکام موثر اقدامات کریں اور پابندی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔

خواتین و حضرات ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ

کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں؟
یقیننا تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔

لہذا ہم سب کو چاہئیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کےلئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری

Advertisements

“عیدالاضحی پر قربانی کی کھالیں اور دہشتگرد” پر 2 تبصرے

  1. فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک اسلامی فلاحی تنظیم ہے، جو قدررتی آفات میں ہنگامی امدادی کاموں کے علاوہ طب، تعلیم، روزگار سمیت مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دے رہی ہے۔
    اس تنظیم نے بہت سے پروجیکٹس بھی ترتیب دیئے ہیں، جن میں واٹر پروجیکٹ بھی ہے۔ اس کا کام بلوچستان، سندھ و دیگر ایسے علاقے جہاں سے پانی دور دراز سے لایا جاتا ہے تاکہ ان کےلیے آسانی مہیا ہو۔ اس کی طرف سے ملک بھر میں ہسپتال بھی چل رہے ہیں، جن میں کراچی میں دی ماڈرن، مریدکے میں العزیز، گوجرانوالہ میں اماں عائشہ اور الدعوہ ریسکیو سینٹر سمیت دیگر ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ الدعوہ ریسکیو سینٹر دریائے نیلم کے پاس بھی قائم ہے، جس کا کام دریا میں ڈوبنے والوں کو نکالنا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل کیمپس بھی ہیں، جو فری کیمپنگ کرکے لوگوں کو آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔ جیل خانہ جات میں بھی یہ کام کرتے ہیں۔ ملک میں جو بھی وباء پھیلی ہو اس سے بچنے کے لیے فوری طور پر یہ بچوں کو احتیاطی تدابیر فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ عیادت کمیٹی ہے، اس کا کام مریضوں کی عیادت کرنا ہے۔ رمضان میں سحری و افطاری کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس تنظیم کی طرف سے لاہور،کراچی اور اسلام آباد میں ریسکیو سینٹر کام کررہے ہیں۔ یہ تنظیم ہزاروں افراد کو فوری طبّی امداد کی ٹریننگ دے چکی ہے۔ اس تنظیم کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  2. مجھے فلاح انسانیت سے متعلق آپ کی وضاحت سے اتفاق نہ ہے۔فلاح انسانیت، جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ سب ایک ہی چیز ہیں۔ فلاح انسانیت، جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کی طرح حماس بھی انہی لائنز پر کام کرتی ہے مگر اس سے حماس کے دہشتگرد ہونے کا تشخص متاثر نہ ہوتا ہے۔لشکر طیبہ دنیا کا سب سے مضبوط ، طاقتور اور خطرناک جہادی گروہ ہے۔ انڈیا خصوصا کشمیر کے علاوہ افغانستان کے کم از کم 10 صوبوں میں لشکر طیبہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان میں کابل، قندھار، کنار، نورستان، ننگرہار، واردک، پکتیا، لغمان اور خوست بھی شامل ہیں۔ لشکر طیبہ القاعدہ اور دیوبندی طالبان سے کہیں زیادہ خطرناک ہے-عارف جمال۔ جہادی گروہوں کے برعکس لشکر طیبہ ایک حقیقی عالمی تنظیم ہے جو اپنے جہادی انفرا سٹرکچر کی وسعت کے اعتبار سے اور اس کے اراکین ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔