پاکستان میں عیدالاضحیٰ


3845_big.gif._3

پاکستان میں عیدالاضحیٰ
پاکستان میں اس سال عیدالاضحیٰ 25 سٹمبر بروز جمعہ کو مذہبی جوش و خروش سے منائی جائے گی، مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحی کے دن جانور قربان کریں گے ۔ ملک بھر میں عید کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں، عید کے موقع پر عوام خصوصاً بچوں میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے جو کئی دن قبل قربانی کے جانور لاکر ان کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔

38546_03ککک

dddd

393641-image-1442885985-539-640x480

393641-image-1442886008-436-640x480aa
کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس حوالے سے خاصا جوش وخروش پایا جاتا ہے۔ کہیں خواتین خریداریوں کر رہی ہیں تو دوسری طرف مرد حضرات قربانی کیلیے چھریاں تیز کرانے اور قصائی ڈھونڈنے میں مصروف ہیں جبکہ ملک کے دیگر شہروں سے تلاش روزگار کیلیے آئے ہوئے لوگ بھی اپنے پیاروں کے ساتھ عید منانے کیلیے بے تاب نظر آتے ہیں۔

عید الضحی کی آمد آمد قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگی،مویشی منڈیاں خالی ،مال مویشوں کے مالکان سخت پریشان ، بعض کا کہنا کہ پورا سال محنت کر کے جانوروں کا پالتے ہیں اور اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے ۔ مویشی منڈیوں میں جانوروں کو خریدنے کے لیے آنے والا کا راستہ دیکھ دیکھ کر بیوپاری حضرات شام کو گھر اداس لوٹ جاتے ہیں کچھ کسان حضرات کا کہنا ہے کہ پورا سال ہم اتنی محنت کر کے جانوروں کی خوب خدمت خاطر کرتے ہیں لیکن ہم کو ہماری مرضی کا بھاؤ نہیں ملتا گاہک کم قیمت میں خوبصورت اور اچھا جانور ڈھونڈتے ہیں ۔قربانی کے جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہرہوگئیں۔ لاہور میں اچھے بکرے کی پیمت ۵۰ ہزار روے سے لیکر ۵۵۰۰۰ روے تک ہے اور گائے ۸۰۰۰۰ روپے تک بک رہی ہے۔دنبہ یا بکرا خریدنا غریب کے بس میں نہیں رہا جس کے باعث اجتماعی قربانی کارجحان بڑھ گیاہے ۔

کراچی میں بھی عیدالاضحیٰ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ بچوں اور بڑوں سمیت سبھی کا اِن دنوں ایک ہی مشغلہ ہے۔ سپرہائی وے پر قائم منڈی کے پھیرے لگانا اور قربانی کے لئے جانوروں کی خریداری کرنا۔

عید کی آمد کے ساتھ ہی کچھ نئے پرانے کاروبار بھی چمک اٹھے ہیں۔ جیسے چھریوں کی دکانیں، ان پر دھار لگانے والے کاریگروں، سجاوٹ کا سامان، جست کی انگیٹھیاں، کوئلے، لکڑی کی مڈڈیاں، گھنگھرو اور کباب کی سیکھوں کے کاروبار سے جڑے لوگوں کی مصروفیت بڑھ گئی ہے۔

شام ہوتی نہیں کہ گلیوں میں بچے جانوروں کو ٹہلانے اور ریس لگانے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ گلیوں میں اور شامیانوں کے نیچے بندھے جانوروں کی ساری ساری رات دیکھ بھال اور رت جگوں کا سماع۔۔دیدنی ہے۔بیکریوں کے باہر بکرے کی ران راسٹ کرانے کے بینرز لگے ہیں۔ لوگوں کو قصابوں سے ’اپائنٹمنٹ‘ نہیں مل رہا۔ گوشت رکھنے کے لئے چٹائیوں کی دکانوں پر بھی خریداروں کا رش ہے ۔ٹوکریاں اور شاپنگ بیگز کے بھی دام اور ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ دھنیا10روپے سے 15روپے فی گڈی فروخت کیا جا رہا ہے، ادرک 250روپے فی کلو، ٹماٹر80روپے سے 100روپے فی کلو، ہری مرچ چھوٹی 150روپے فی کلو، لہسن چھلاہوا200روپے فی کلواور لیموں 300روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔

70D51292-D6CA-4ED2-9D5A-564925E58A36_w900_r1_s

imagesسسس

ششششش

لوگ بچوں کو راضی رکھنے کیلئے منڈی مویشیاں کاچکر توضرور لگاتے ہیں مگر جانوروں کی قیمتیں آسمان پرپہنچنے کے باعث بالآخر اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالنے پر ہی اکتفا کرلیتے ہیں۔ مویشی منڈی میں نوجوان بھی بڑی تعداد میں جانوروں کے ساتھ موبائل فون سے سیلفی بناتے نظرآتے ہیں جو فیس بک پر اپنی تصاویر شیئر کرکے دوستوں میں اپنا تاثر قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Px14-031 ISLAMABAD: Sep14 - Sacrificial animals have arrived in the capital in connection to Eid ul Azha celebrations. ONLINE PHOTO by Muhammad Asim

186289-image-1381847788-801-640x480

HYDERABAD, PAKISTAN, SEP 14: Vendor selling sacrificial animal at a cattle market settled at Highway on the occasion of Eid-ul-Azha coming ahead, in Hyderabad on Monday, September 14, 2015. (Aftab Ahmed/PPI Images).

ادھر قصابوں نے بھی  اپنی چاقو چھریاں تیز کر کے عید قربان کے موقع پر شہریوں کی کھال اتارنے اورقربانی کے لئے اپنے من پسند دام وصول کرنے کے لئے شہروکینٹ میں اپنی تشہیرشروع کردی ہے ،جانور ذبح کرنے ، کھال اتارنے اور گوشت بنانے کے دام بڑھادئیے ہیں جبکہ اکثرقصابوں کے پاس عید کے پہلے دن کی بکنگ مکمل ہوگئی ہے۔

اااا
دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے ۔اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتا ہے ۔چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جسے سرِ عنوان بنا کر وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے۔

186289-image-1381847648-322-640x480

186289-image-1381847197-837-640x480
اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کر رہا ہوں ، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کر دوں گا۔
اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی مشروع کی ہے تاکہ اللہ نے اُن کو جو چوپائے بخشے ہیں ، اُن پروہ (ذبح کرتے ہوئے ) اُس کا نام لیں ۔پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے چنانچہ تم اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کر دو۔اور خوشخبری دو اُن لوگوں کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔‘‘ (الحج34:22)
یہ آیت بتاتی ہے کہ قربانی کی عبادت اپنی جان کو اپنے معبود کی نذر کر دینے کا علامتی اظہار ہے ۔ اس کے ذریعے سے بندہ اپنے وجود کو آخری درجہ میں اپنے آقا کے حوالے کرنے کا اعلان کرتا ہے ۔بندہ مومن کے یہ جذبات اس کے مالک تک پہنچ جاتے ہیں ۔جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ابدی رحمتوں کے لیے چن لیتا ہے ۔مزید براں دنیا میں بھی وہ ان جانوروں کا گوشت انھیں کھانے کی اجازت دے کر انھیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی جان مجھے دے کر بھی تم مجھے کچھ نہیں دیتے ۔ بلکہ دینے والا میں ہی رہتا ہوں ۔ یہ گوشت کھاؤاور یاد رکھوکہ مجھ سے سودا کرنے والادنیا وآخرت دونوں میں نقصان نہیں اٹھاتا۔
حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور تمام احناف کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ جس کا ثبوت مندرجہ ذیل حدیث مبارک سے ہو رہا ہے۔روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا قربانی واجب ہے ؟

حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور مسلمانوں نے قربانی کی اس نے پھر سوال کیا تو انہوں نے کہا کیا تم میں عقل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور مسلمانوں نے قربانی کی ۔(جامع الترمذی)

قربانی سنت ابراہیمی:حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ یہ قربانیاں کیسی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔آپ ﷺ سے پوچھا گیا ہمارے لئے ان میں کیا اجر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے آپ ﷺ سے پوچھا گیا اور خون کے بدلہ میں ؟آپ ﷺ نے فرمایا ہر خون کے قطرے کے بدلہ میں ایک نیکی ہے ۔ (ابن ماجہ جلد نمبردو م صفحہ نمبر233)
قربانی ہر اس عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہے یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے۔
یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا مال تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے۔
قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔
قربانی کے تین دنوں میں سے آخری دن بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔
جس کے پاس رہائش کے مکان کے علاوہ زائد مکان موجود ہے، خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، ضروری مکان کے لیے پلاٹ کے علاوہ پلاٹ ہیں، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں تو یہ شخص قربانی کے حق میں صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے۔
تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہیں اس کے مالک پر قربانی واجب ہوگی۔
عورت پربھی قربانی واجب ہے
اگر عاقل بالغ مقیم عورت صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنی چیزیں ہیں کہ ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو ایسی عورت پر قربانی واجب ہے۔
قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں، ایک حصہ آپنے اور اہل و عیال کیلئے رکھا جائے، دوسرا رشتہ داروں میں، تیسرا مساکین و فقراء میں تقسیم کرے۔ غریبوں کی مدد ضرور کی جائے اور ان کو تیسرا حصہ ضرور دیا جائے، بہترین عمل یہی ہے۔

دوستو اس عید قربان پر اپنے غریب ہمسائیوں،دوستوں رشتہ داروں اور ہموطنوں اور گریبوں کو نہ بھولئیے گا۔

Advertisements