افغان طالبان میں اختلافات


379632-mulllahakhtermansoor-1438292148-381-640x480

افغان طالبان میں اختلافات
افغان طالبان میں دہڑے بندیاں اور اختلافات اب سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں۔اٖفغان طالبان کے نئے سربراہ ملا منصور نے منگل کو عیدالاضحیٰ کے حوالے سے اپنے پیغام میں اتحاد پر زور دیا ہے تاہم مخالف دھڑے نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے نئی قیادت کے لیے ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔

11811351_958697770838961_3340756030496944153_n
طالبان کے اندر اختلافات اور تقسیم سے افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل ڈی ریل ہونے کا خطرہ ہے جبکہ داعش کو خطے میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔

55ba0d3dd2070
مخالف دھڑے نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملا عمر کے انتقال کے بعد تشکیل پانے والی قیادت غیر اصولی اور غیر منظم ہے۔بیان میں شوریٰ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ نئے سربراہ کا انتخاب کیا جاسکے۔طالبان ذرائع کے مطابق ملا منصور کے مخالفین بشمول کمانڈر عبدالقیوم ذاکر کی جانب سے یہ بیان دیا گیا ہے۔ادہرافغان علما پر مشتمل اس کمیٹی کے ترجمان عبداللہ منصور نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ جب تک فریقین میں سے کوئی دوبارہ رابطہ نہیں کرتا یا مدد نہیں مانگتا ہم اس وقت تک اپنی سرگرمیاں روک رہے ہیں۔‘

سابق امیر ملا محمد عمر کی موت کے بعد ان کے بیٹے ملا محمد یعقوب اور بھائی ملا عبدالمنان نے ابتدائی مخالفت کے بعد ملا منصور کی بیعت کر لی تھی۔مگر طالبان کے اندر بعض حلقے اب بھی ان کے طریقۂ انتخاب سے مطمئن نہیں ہیں۔اطلاعات ہیں کہ ملا اختر منصور کے مخالفین مذاکرات کی ناکامی کے بعد جلد نئی تنظیم کا اعلان کریں گے۔اس بارے میں عبدللہ منصور کا کہنا تھا کہ ’علما کا واحد ہدف اتفاق و اتحاد ہے لہٰذا وہ اس جیسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہوں گے۔

تحریک کو یکجا کرنے کے لیے جاری مہم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی کچھ اہم رہنماؤں کی جانب سے ملا منصور کی مخالفت کی جا رہی ہے اور انھوں نے اپنے ذاتی دھڑے بنا لیے ہیں جو طالبان قیادت کی منظوری کے بغیر کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘

ملا حسن رحمانی، ملا عبدالقیوم ذاکر، ملا محمد رسول، ملا عبدالرزاق اور حمد اللہ کا شمار ملا منصور کے مخالفین میں کیا جاتا ہے۔

Afghanistan
افغانستان میں ہر روز بم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ اور معصوم مرد ، عورتوں اور بچوں کا ناحق قتل ہورہا ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اس طرح ملک بجائے آگے بڑہنے کے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔
طالبان آپس میں متحد ہوکر امن عمل کا حصہ بن کر خودمختار اور متحد ہ افغانستان کے سیاسی نظام میں شامل ہوسکتے ہیں اور ملکی قومی دھارے میں شامل ہو سکتے ہیں یا پھر وہ لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں جس سے ان کا اپنا ملک غیر مستحکم ہوگا۔ اب یہ فیصلہ طالبان کو کرنا ہے کہ انھیں جنگ کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ملک کو نقصان پہنچانا ہے یا پھر افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کےر استہ پر گامزن کرنا ہے۔مزاکرات اور مسائل کا پر امن حل ہی افغانستان اور خطے میں تشدد ختم کرنے اور استحکام کا باوثوق طریقہ ہے۔ یہ مذاکرات افغانستان میں قیام امن کا سنہری موقع ہیں۔
طالبان کو احساس ہونا چاہئیے اور انہیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئیےکیونکہ تشدد و دہشت گردی سے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ ملایا جاسکتا اور نہ ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی جنگ، خودکش حملوں، دہماکوں ،بے گناہوں مرد ،عورتوں اور بچوں کا قتل عام سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔تشدد مسائل کا حل نہ ہے بلکہ مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا اور پر امن حل نکالا جانا ممکن ہے ۔دنیا بھر میں آج تک صرف اور صرف پر امن جمہوری تحریکیں ہی کا میابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ اسلام کا طریقہ بھی یہ ہی ہے اور اسلام امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے۔

Advertisements