افغانستان میں فٹ بال میچ کے دوران خودکش حملہ، 9 افراد ہلاک


news-1443378777-8285_large

افغانستان میں فٹ بال میچ کے دوران خودکش حملہ، 9 افراد ہلاک
افغانستان میں فٹ بال  میچ کے دوران خود کش حملے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوب مشرقی صوبے پکتیکا میں فٹ بال میچ کے دوران کئے جانے والے خود کش حملے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے ۔

CQEZkZCW8AAvtJ9

Attack-on-Afghan-310x200

دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرلاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جہاں بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے گاڑی گراو¿نڈ میں لے جا کر دھماکے سے اڑادی جب کہ حملہ آور کا اصل ہدف مقامی حکومتی عہدیدار تھے جو اس وقت میچ دیکھ رہے تھے۔
http://dailypakistan.com.pk/international/27-Sep-2015/271608

56083201780a9
وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے نو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم پکتیکا کے پولیس سربراہ زراور زاہد کے مطابق دس افراد ہلاک جبکہ بچوں سمیت 33 زخمی ہوئے۔

سولہ ہلاک اور 44 زخمی

http://www.pajhwok.com/en/2015/09/27/16-killed-44-injured-paktika-playground-blast?utm_source=dlvr.it&utm_medium=twitter

CP7UsRhUkAAlMhi

والی بال میچ کے دوران دہماکہ سے کم از کم دس ہلاک ہوئے جن میں 6 بچے شامل ہیں۔
افغان طالبان کےخودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیںمعصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں بے گناہمردوں ،عورتوں اور بچوں کو شہید کیا جائے ،ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہو گا ۔

عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
افغان طالبان جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف لڑنے اور حیوانی خواہشات پر غلبہ پانے کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔ افغان طالبان کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔

Advertisements