داعش کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے


151005113721_islamic_state_fighters_640x360_ap

داعش کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے

عراق کےکرد حکام کا کہنا ہے کہ داعش  شدت پسندوں نے شمالی عراق کے کرد پیشمرگا اہلکاروں پر مسٹرڈ ایجنٹ (زہریلی گیس) پر مشتمل مارٹر گولے داغے۔پیشمرگا امور سے متعلق وزارت کے مطابق 35 اہلکاروں کے خون کے نمونوں میں سلفر مسٹرڈ (مہلک گیس) کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ مسٹرڈ گیس جلد کو جلاسکتی ہے اور اس کے نظامِ تنفس پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت مسٹرڈ گیس پر پابندی عائد ہےاور کیمیکل کا استعمال جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے ۔

963128-IslamicStateAFP-1443247852-218-640x480

11sep15_bbc-d8afd8a7d8b9d8b4-daa9db8cd985db8cd8a7d8a6db8c01

کیمیائی ہتھیاروں کے ماہر ہمیش ڈی بریٹن گورڈن کہتے ہیں کہ کلورین گیس کا کام زیادہ تر دھماکوں کے ذریعے خوف پھیلانا اور افراتفری پیدا کرنا ہے۔ ’یہ نفسیاتی ہتھیار ہے جس کا مقصد نہ صرف ں عام شہریوں کو تشویش میں مبتلا کرنا ہے بلکہ عراقی فوجیوں کو بھی خوف زدہ کرنا ہے ۔

11sep15_bbc-d8afd8a7d8b9d8b4-daa9db8cd985db8cd8a7d8a6db8c03
کیمیائی گیس کا یہ واقعہ عراق کے شمالی علاقوں مکھمور اور گویر کے قریب اگلی سرحدوں پر پیش آیا۔کردستان کے علاقے کی سلامتی کونسل کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا کہ دولتِ اسلامیہ عراقی سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف غیر معیاری کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔
کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم کے ڈائریکٹر نے بھی اگست میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ممکنہ طور پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے متعلق ’شدید خدشات‘ کا اظہار کیا تھا۔

56063a32e3f47

11sep15_bbc-d8afd8a7d8b9d8b4-daa9db8cd985db8cd8a7d8a6db8c02
مبصرین کو یقین ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق اور شام میں کیمیائی ہتھیار تیار کرکے استعمال کر رہی ہے۔2 برس پہلے اقوام متحدہ کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے حکم کے بعد بھی ملک میں 60 سے زیادہ کیمیائی حملے ہوئے ہیں۔ داعش نے عراق اور شام میں مسٹرڈ کیمیکل کا استعمال کیا۔ دولت اسلامیہ نے اس کیمیکل کو خام حالت میں سفوف کی شکل میں استعمال کیا۔ مسٹرڈ کیمیکل کو یقیناًسفوف کی شکل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کو روایتی دھماکہ خیز مواد جیسا کہ گولے میں بند کر استعمال کیا جاتا ہے۔مبصرین نے کہا کم از کم چار مواقعوں پر دیکھا کہ شام اور عراق میں یہ استعمال کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے کیمیائی حملوں کے بارے میں تحقیقات شروع کی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس میں کون ملوث ہے کیونکہ کیمیکل کا استعمال جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ شام میں کیمیکل حملے کے متاثرین کی ایک ویڈیو کو دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا جس میں بے ہوش ہونے والے بچوں کو ہسپتال لایا جا رہا تھا جبکہ مردوں کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی اور وہ قے کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ویل چیئر پر ایک عمر رسیدہ خاتون کا انتقال ہو چکا تھا جبکہ ڈاکٹر متاثرین کو بچانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ داعش کے مسلح جنگجو، عراق کے علاقے ماخومور میں کرد پیشمرگہ لڑاکوں کے خلاف گندھک ملی گیس استعمال کرتے رہے ہیں. ۔ شام کے شمالی شہر مارع پر دولت اسلامیہ نے متعدد بار حملے کیے ہیں لیکن  دو حملوں کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے کیمیکل استعمال کیے۔اطلاعات کے مطابق مارع سے ملنے والے شواہد مزید تحقیقات کے لیے برطانوی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں۔ اس حملے میں کیمیکل استعمال ہونے کی علامات قدرے مختلف تھیں جس میں متاثرین کا جسم تکلیف دے چھالوں سے بھر گیا اور جھلسنے کے نشانات جسم پر پائے گئے۔
عراقی حکام نے  ایک ایسی ویڈیو فوٹیج دکھائی ہے جو ان کے خیال میں ثابت کرتی ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند سڑک کے کنارے ہونے والے بم دھماکوں میں کلورین گیس استعمال کرتے ہیں۔
ان ویڈیوز میں دکھائی دیتا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار صورتِ حال کو قابو میں رکھ کر جو دھماکے کرتے ہیں ان کے بعد نارنجی رنگ کا دھواں فضا میں پھیل جاتا ہے۔
حیدر طاہر جن کا تعلق عراق کے بم ڈسپوزل ٹیم سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں نے درجنوں ایسے دھماکہ خیر آلات ناکارہ بنائے ہیں جن میں کلورین گیس تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اب یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے کہ اب وہ ان بموں میں کلورین ڈال دیتے ہیں جنھیں وہ سڑک کے کنارے نصب کرتے ہیں۔‘
چھ ہفتے قبل طاہر حیدر کی ٹیم نے عراق کے شمال میں واقع تکریت شہر کے باہر غلطی سے دولتِ اسلامیہ کے بنے ہوئے ایک ہتھیار کو استعمال کر لیا۔ ’جونہی دھماکہ ہوا ہمارے گلے بند ہونا شروع ہو گئے اور ہمارے لیے سانس لینا دشوار ہو گیا۔ لگتا تھا کہ میرے کانوں پر بہت زیادہ دباؤ پڑ گیا ہے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ قریب ہی ایک فوجی ایمبولنس تھی جس میں موجود اہلکاروں نے ہمیں فوری طبی امداد دی۔
داعش دہشتگرد تنظیم نہ صرف مشرق وسطی بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی امن و سلامتی کے لئے بہت بڑا اور سنگین خطرہ ہے،بد نام زمانہ دہشتگرد گروہ داعش ،شام و عراق میں جنگی جرائم، انسانیت سوز مظالم ، یزیدی اقلیت کے قتلِ عام اور نسل کشی اور قتلِ عام جیسی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔

مسلک کے اختلافات کی بنیاد پر خون ریزی کرنے والے اسلام کے دشمن ہیں اور اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ انتہا پسندی عالم اسلام کے لئے زہر قاتل بن چکی ہے۔ داعش والے خوارج ہیں اور ان کا اسلام سے دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ہیں۔سعودی عرب اور کویت میں شیعہ مساجد پر خودکش حملے خطرناک رجحان کا عکاس ہں جبکہ داعش مسلم امہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام و عراق میں میں داعش جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہو ئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق داعش دہشتگرد گروہ قتل، اغوا، شہری علاقوں میں شیلنگ اور دوسرے کئی جنگی جرائم میں ملوث ہیں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

Advertisements