ایم این اے کے دفتر میں خود کش دھماکہ، 8جاں بحق، 10زخمی


561f2c9966f01

ایم این اے کے دفتر میں خود کش دھماکہ، 8جاں بحق، 10زخمی

ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف میں مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار امجد فاروق کھوسہ کے کیمپ آفس میں خود کش حملے کے نتیجے میں بلدیاتی الیکشن کے دو امیدواروں سمیت8افراد جاں بحق اور10سے زائد زخمی ہو گئے،امجد فاروق کھوسہ کیمپ آفس میں موجود نہیں تھے،جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے،ایک دستی بم بھی برآمد ہوا جبکہ 20سالہ بمبار کی لاش تحویل میں لے لی گئی،صدر اور وزیراعظم سمیت اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے واقعہ کی مذمت کی گئی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے تحقیقات کا حکم دے دیا،ادھرطالبان سے الگ ہونے والے گروپ جماعت الاحرار نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ۔

399004-blast-1444841219-976-640x480

151014130116_dera_ghazi_khan_mna_camp_office_blast_640x360_getty_nocredit

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ شریف میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی امجد فاروق کھوسہ کے کیمپ آفس میں دھماکہ بدھ کو دوپہر12بجے کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں 20سے 25افراد پنجاب کے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔

news-1444807819-5523_large

کیمپ آفس کو بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔دھماکے کے نتیجے میں 8افراد موقع پر جاں بحق اور10سے زائد زخمی ہوگئے ۔زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔چار شدید زخمیوں کو نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ 6 زخمی تحصیل ہیڈ کوآرٹر تونسہ میں زیر علاج ہیں ،تین کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ، جاں بحق افراد میں بلدیاتی انتخابات کے دو امیدوار بھی شامل ہیں ، جاں بحق افراد میں سے 5 کی شناخت ملک ضمیر ، محمد اختر ،محمد حسین ، زاہد علی اور محمد جعفر کے نام سے ہوئی ۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر زور دار تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ڈی پی او ڈی جی خان مبشر میکن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ سردار امجد فاروق کے کیمپ آفس پر خود کش بمبار نے خود کو اڑا لیا ، مبینہ خود کش بمبار کی عمر بیس سال لگتی ہے ، اس کے پاس دستی بم بھی تھے ، جائے وقوعہ سے دستی بم بھی ملا ، حملہ آور کی لاش تحویل میں لے لی گئی ، امجد فاروق کھوسہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ رات اسلام آباد آ گیا تھا ، مجھے کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں ملی ، جاں بحق ہونے والوں میں میرے قریبی دوست شامل ہیں ، دھماکے میں ضلع کونسل کے نامزد امیدوار ملک ضمیر بھی جاں بحق ہوئے ۔ ، کیمپ آفس میں لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں آتے ہیں ، دھماکا دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے ، انسان دشمنوں کے خلاف ہمارا عزم غیر متزل ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کر نے کی ہدایت کی ہے ۔وزیر اعظم میاں نواز شریف ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ دریں اثنا خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے منحرف گروپ جماعت الاحرار نے قبول کر لی ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/front-page/15-Oct-2015/279377

561f2e565f045

561f2f2a84418
جاں بحق ہوئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے.
بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے جماعت کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بتایا کے یہ حملہ مسلم لیگ ن کے خلاف ان کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

TaharakTalibanPakistan

140827130452_ehsan_ullah_ehsan_304x171_hasanabdullah_nocredit
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام ایک عالم گیر مذہب کے طور پر تمام عالم انسانیت کا احاطہ کرتا ہے اس لئے اس میں سب انسان مساوی سلوک کے حقدار ہیں ۔ اسلام رنگ،نسل اور ذات پات کی بنیاد پر کسی تفریق کا روادار نہیں ۔ آپﷺ نے اپنے عمل صالح سے یہ ثابت کیا کہ “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا .خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی  محسوس ہوئی مگر  دہشتگردی کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ   دہشت گردوں کا نیٹ ورک ابھی پوری طرح سے کچلا نہ گیا ہے  جسے ختم کرنے کے لیے ہمیں پہلے سے  زیادہ  کام کرنا   ہو گا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ  طویل اور صبر آزما جنگ ہے اور  چند دنوں میں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

Advertisements