افغان طالبان مشروط امن مذاکرات کے لئے تیار


index

افغان طالبان مشروط امن مذاکرات کے لئے تیار

افغان طالبان نے حکومت سے مذاکرات کی بحالی کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے غیرملکی فوج کے انخلاءکی شرط رکھ دی ہے اور ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کو ضروری قرار دیا ہے۔

news-1444992009-3926_large
طالبان نے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ ’ہم جنگ کو ختم کرنے کے لئے با معنی مذاکرات کے آغاز کے لئے تیار ہیں۔‘ طالبان نے ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔طالبان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ”قبضہ کسی کابھی ہواور کسی بھی صورت میں ہو اسے ختم ہونا چاہیے، افغانیوں کے مشورے سے اسلامی حکومت بنائی جائے اور ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت ختم ہونی چاہیے“۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ”ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب افغان شہریوں کو قبضے کے خاتمے اور غیرملکی فوجوں کی واپسی کے حوالے سے یقین دہانی کروائی جائے گی تو تمام مسائل باآسانی حل ہوجائیں گے“۔

56205e6e39551
یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ ان کی حکومت افغان امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کوششیں کرسکتی ہے۔

54e597fd1bbeb

379632-mulllahakhtermansoor-1438292148-381-640x480
وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھی کہا تھا کہ موسم سرما میں بغاوت میں ہونے والی کمی امن مذاکرات کی بحالی کے لئے موقع فراہم کرتی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ”ہم افغانستان میں امن اور تحفظ کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے اور ہم انٹرا افغان مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلے مرحلے کی میزبانی کی ہے اور اگر افغان حکومت چاہتی ہے تو ایک اور مرحلے کی میزبانی کے لئے بھی تیار ہیں، ‘ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس کی مدد سے افغانستان میں امن قائم ہوگا۔

طالبان نے اگرچہ مذاکرات شروع کرنے کے لئے غیر ملکی فوجوں کی واپسی کی شرط رکھی ہے لیکن امید کی جا رہی ہے اس سے صرف نظر کرکے مذاکرات شروع کر دئیے جائیں گے۔ ممکن ہے اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو، اگر ایسا ہوا تو تیسرا دور چین کے کسی شہر میں ہوسکتا ہے کیونکہ چین کو بھی مذاکرات میں گہری دلچسپی ہے۔ با معنی مذاکرات سے افغانستان میں جاری جنگ کو ختم کرنا ہی اصل بات ہے ۔ اس سے اٖفغان عوام کی ،جنگ کی وجہ سے مشکلوں اور صعوبتوں کا خاتمہ ہو جائے گا اورجنگکا خاتمہ یہ علاقائی امن کے لئے بھی ضروری ہے ۔درحقیقت افغانستان میں امن کا قیام جنگ سے نہیں مذاکرات سے مشروط ہے۔

طالبان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئیےکیونکہ تشدد و دہشت گردی سے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ ملایا جاسکتا اور نہ ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی جنگ میں، خودکش حملوں، دہماکوں ،بے گناہوں مرد ،عورتوں اور بچوں کا قتل عام سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔تشدد مسائل کا حل نہ ہے بلکہ مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا اور پر امن حل نکالا جا سکتا ہے۔دنیا بھر میں آج تک صرف اور صرف پر امن جمہوری تحریکیں ہی کا میابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ جنوبی افریقہ اور پاکستان کی آزادی بڑی مثالیں ہیں ۔ اسلام کا طریقہ بھی یہ ہی ہے اور اسلام امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے۔

طالبان کو بنا پیشگی شرائط کے امن مذاکرات شروع کرنے چاہئیں اور افغانستان کی ترقی و خوشحالی میں دوسروں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہئیے۔
صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعہ ہی افغانستان میں جاری موجودہ دہشتگردی کا کوئی موزوں و دیر پا حل نکل سکتا ہے دونوں فریقوں کو زمینی حقائق کا مکمل ادراک ہونا چاہئیے اور ان حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیےکیونکہ مذاکرات کےذ ریعہ امن کی بحالی سے خون خرابہ ختم ہو گا اور ملک میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے اور افغان طالبان قومی سیاسی دھارے میں آ کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مستقل مزاجی اور مصمم ارادہ سے ہر کام ممکن ہےاور مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔ امن و امان کی بحالی سے پر امن افغانستان ترقی کرے گا اور خطے میںامن و استحکام آئے گا ۔

 

Advertisements