کوئٹہ مسافر بس میں دھماکہ، 11 افراد ہلاک


151019180240_bomb_explosion_in_quetta_624x351_afp

کوئٹہ  مسافر بس میں دھماکہ، 11 افراد ہلاک

دہشت گردوں نے ایک بار پھر کوئٹہ کو اپنی مذموم سرگرمیوں کا ہدف بنا یا ہے ۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں دو بچوں سمیت 11 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔بس میں ہوا جس میں چالیس سے زائد مسافر سوار تھے ۔دھماکے کے بعد کوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔

975668-blast-1445275185-626-640x480

pakistan-blast

محرم الحرام کی وجہ سے کوئٹہ میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے اس کے باوجود دہشت گردی کارروائی کرگئے ۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی نے گفتگو کرتے ہوہے کہ دہشتگردوں نے عام مسافر بس کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے آخری دہشتگرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی ۔

5625d73f556b1
کوئٹہ سے کراچی جانے والی بس میں 40 مسافر سوار تھے، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق، دھماکے میں کم از کم 20  زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جن میں سے چھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

5625d73f353eb
ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارودی مواد بس کی چھت کے پچھلے حصے میں رکھا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے مسافر بس تباہ ہوئی۔واضح رہے کہ بس میں 70 مسافر سوار تھے۔ وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بم دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے ’صوبے کے دیرپا امن کے خلاف سازش’ قرار دیا۔
دھماکے کے بعد شہر میں سوگ کا سما ہے جبکہ سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز عبد الوحید خٹک کا کہنا تھا کہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ پانچ سے چھ کلو دھماکہ خیز مواد بس کی چھت کے پچھلے حصے میں رکھا گیا تھا۔

news-1445271095-9476_large
دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف، صدر ممنون حسین اور سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے .اسلام میں ایک بے گناہ کا قتل تمام انسانیت کا قتل تصور ہوتا ہے۔ چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور لشکر جھنگوی ، دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ طالبان ،لشکر جھنگوی, بی ایل اے ،بی ایل ایف اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرر ہے ہیں ۔

اسلامی شریعہ کے مطابق بچوں اور عورتوں کا ناحق قتل حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دہشتگردگروپس طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
القائدہ،لشکر جھنگوی،بی ایل اے اور دوسرے دہشت گرد ملک میں دہشت گردی کو پھیلا رہے ہیں اور عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔لشکر جھنگوی ایک دیو بندی عقائد رکھنے والا، فرقہ ورانہ ,سفاک ا ور بے رحم ,جہادی گروپ ہے، لشکر جھنگوی کو القائدہ کا فرقہ ورانہ چہرہ بھی کہا جاتا ہے ۔
فرقہ ورانہ تشدد پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ یہ لوگ بدامنی و فرقہ ورانہ تشدد کی آگ بھڑکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)
دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ملک میں امن کا دور دورہ ہوگا اور خوشحالی و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جس کے ثمرات تمام پاکستانیوں کو پہنچیں گے۔

Advertisements