باجوڑ دھماکے میں امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک


5638486e68c38

باجوڑ دھماکے میں امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک

باجوڑ ایجنسی میں ریمورٹ کنٹرول دھماکے میں امن لشکر کے سربراہ کو ملک محمد یونس ہلاک اور ان کے دو بیٹے زخمی ہوئے۔پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق باجوڑ کی تحصیل سالار زئی میں گلے شاہ کے قریب دہشت گردوں نے ریموٹ کنڑول بم سے گاڑی کو نشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق نامعلوم شرپسندوں نے سڑک کے کنارے بم نصب کر رکھا تھا، دھماکا عین اس وقت ہوا جب قبائلی رہنما ملک محمد یونس کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھے۔

w460fff
اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خار محمد علی نے ملک محمد یونس کی ہلاکت کی تصدیق کی.
دھماکے میں ملک محمد یونس ہلاک اور ان کے 2 بیٹوں سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔
ڈان نیوز کے مطابق زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا۔ خیال رہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں 7 قبائلی ایجنسیاں ہیں، ان میں باجوڑ ایجنسی، خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔

556bf28a592afaaa
ان علاقوں میں طویل عرصے تک عسکریت پسند پناہ گاہیں قائم کیےہوئے تھے، مگر پاک فوج کے آپریشن کے بعد بڑی حد تک عسکریت پسندی پر قابو پا لیا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران کئی قبائل نے پاک فوج کی حمایت میں لشکر قائم کیے جو عسکریت پسندوں کے خلاف فوج کی معاونت کرتے تھے، ان مسلح جھتوں کو امن لشکر کا نام دیا گیا تھا۔محمد یونس بھی اسی طرح کے ایک لشکر کے رہنما تھے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1028795/
مقتول قبائلی سردار کا شمار باجوڑ ایجنسی کے اہم مشران میں ہوتا تھا اور وہ اکثر اوقات شدت پسندوں کی کھل کر مخالفت کرتے رہے ہیں۔
باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں سے حکومتی حامی قبائلی مشران اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے حکومت کا ساتھ دینے والے قبائلی مشران اور عمائدین میں ایک مرتبہ پھر سے شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
باجوڑ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران کسی قبائلی ملک پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے پہلے اتوار کو ماموند تحصیل کے علاقے میں ایک حکومتی حامی قبائلی ملک کو ہلاک کیاگیا تھا۔
ایجنسی میں پچھلے چند مہنوں کے دوران حکومتی حامی قبائلی مشران اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات بڑھے ہیں۔
ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں جس سے عام لوگوں اور حکومتی حامی مشران میں پھر سے خوف و ہراس بڑھتا جارہا ہے۔
طالبان جان بوجھ کر قبائلی سرداروں کو قتل کر کے دہشتگردی پھیلا رہے ہیں اور قیادتی بحران و خلا پیدا کر کے انتشار پھیلا رہے ہیں۔
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپﷺ نے اپنے عمل صالح سے یہ ثابت کیا کہ “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔
دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا،عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ جہاد تو اللہ کی راہ میں اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے کی جاتی ہے اور جہاد شروع کرنے کا اختیار صرف قانونی حکمران کو ہوتا ہے، جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی دہشتگرد گروپ یا گروہ کوایسا اختیار حاصل ہے۔ لہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔
اسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے۔پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔

Advertisements