طالبان اور داعش کے خلاف احتجاج


0,,18842476_401,00

طالبان اور داعش کے خلاف احتجاج

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزاروں افراد نے صدارتی محل کے باہر شیعہ ہزارہ برادری کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا. ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 7 افراد کی تشدد زدہ لاشیں افغانستان کے صوبے زابل سے برآمد ہوئیں، قتل ہونے والوں میں 3 خواتین اور ایک بچی بھی شامل ہیں۔قتل ہونے والے افراد کی نماز جنازہ کے بعد ہزاروں افراد نے تابوت اٹھائے احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے طالبان اور داعش کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف نعرے لگائے۔

0,,18842472_303,00

مظاہرین نے سبز رنگ کے کپڑے میں ملبوس ہلاک شدگان کے تابوت اٹھا رکھے تھے اور طالبان مخالف بینروں کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ مظاہرین کا صدارتی ہاؤس کی طرف مارچ کرتے اور نعرے لگاتے ہوئےکہنا تھا، ’’طالبان جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور حکومت ان کا ساتھ دے رہی ہے۔‘‘مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو نشانہ بنانا اب معمول کا حصہ بن چکا ہے اور انہیں زیادہ تر ان علاقوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو افغان طالبان کے زیر کنٹرول ہیں۔مظاہرین صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کے استعفی کا مطالبہ کر رہے تھے، طالبان اور داعش کو اس اندوہناک قتل کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف نعرے لگائے۔

151111150655_kabul_protests_640x360_reuters
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم بدلہ چاہتے ہیں، کیونکہ جنہوں نے آج ہمارے لوگوں کو قتل کیا ہے وہ کل دوسروں کو بھی اسی طرح قتل کریں گے۔ہزارہ برادری کے لوگوں کی قتل کی افغان حکومت، امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت کی گئی۔ہزارہ برادری کے لوگوں کی قتل کی افغان حکومت، امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نکولس ہیسم کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کے قتل کا یہ واقعہ جنگی جرائم کے برابر ہے، جن کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کابل میں شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سات افراد کی ہلاکت کے بعد قاتلوں سے انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے۔

بدھ کو افغان صدر اشرف غنی نے قوم سے براہراست خطاب میں کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ، طالبان یا کسی اور شدت پسند گروہ پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اُن کے خلاف  کارروائی کرے گی۔

151111144011_kabul_protests_640x360_epa

داعش دہشتگرد اور خارجیوں کی تنظیم ہے،اسکی تعلیمات کا قران اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں،بیگناہوں کا خون بہانا ،قران اور اسلام کی بنیادی آئیڈیالوجی کے خلاف ہے۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف لڑنے اور حیوانی خواہشات پر غلبہ پانے کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔

unlawful

qatl-e-nahaq

imagesساسا

طالبان اور داعش دونوں ایک ہی تھیلے کے بینگن ہیں۔ دونوں قیدیوں کے سر کاٹتے ہیں،ان کو زندہ جلاتے ہیں اور بموں سے اڑاتے ہیں۔دونوں کفر کے راستے پر گامزن ہیں۔۔دونوں بے گناہ اور معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ دونوں مسجدوں کو بموں سے اڑاتے اور نمازیوں کو شہید کرتے ہیں۔ دونوں مفسد فی الرض ہیں۔ داعش خوارج قاتلوں اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔
اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے.
داعش اور طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: وُجِدَتِ امْرَاة مَقْتُولَة فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اﷲِ فَنهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ۔
حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کردیا گیا تھا۔ اس پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمادی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو جو ملکِ شام ایک مہم کے لیے روانہ ہوا تھا،انھیں اس قسم کی ہدایات دی تھیں کہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں ، کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائیں، کسی ضعیف بوڑھے کو نہ ماریں ، کوئی پھلدار درخت نہ کاٹیں، کسی باغ کو نہ جلائیں ( موٴطامالک : ۱۶۸)

قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔

Advertisements