پاکستان میں داعش کی موجودگی؟


56063a32e3f47

پاکستان میں داعش کی موجودگی؟

پاکستان نے خود ساختہ دولت اسلامیہ (داعش) کی ملک میں موجودگی کے امکانات مسترد کر دیے۔سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں کسی کو داعش کے ساتھ روابط قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چوہدری نے کہا کہ پاکستان داعش سمیت کسی بھی انتہا پسند تنظیم سے لاحق تمام خطرات سے نمنٹے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ’پاکستان اپنی عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے۔داعش سمیت کسی قسم کی انتہاپسندی کو پاکستان میں نہیں آنے دیں گے،داعش ایک دہشتگرد گروپ ہے،پاکستان دہشت گردی کے خلاف مہم کا ارادہ رکھتا ہے۔اعزازچودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی دم توڑ رہی ہے،عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے،دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قیادت اور عوام متحدہیں۔

963128-IslamicStateAFP-1443247852-218-640x480

396451-raheelsharif-1443906012-534-640x480
اس سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے داعش کو القاعدہ سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو داعش سے وابستگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے مگرپاکستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے اور حکومت اس حوالے سے مستعد بھی نظر آتی ہے کہ داعش کے ممکنہ خطرے سے بچائو کیلئے بھرپور کارروائی کی جائے ۔
عراق اور شام میں کاروائیوں کے بعد مبصرین دولت اسلامیہ کو پاکستان اور افغانستان کے لیے بڑا خطر ہ قرار دے رہے ہیں اور اسکی وجہ خطے میں پہلے سے موجود تربیت یافتہ عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی بتاتے ہیں ۔افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیاں ماند پڑ جانے سے طالبان سمیت کئی گروپ امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے منتظر ہیں ان میں سے بعض کے بارے کہا جاتا ہے کہ انکا دولت اسلامیہ کا ساتھ دینے کے امکانات موجود ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کی جانب سے افغان مہاجر کیمپوں میں تشہیری مہم خطرے کی گھنٹی ہے مصنف اور تجزیہ نگار عقیل یوسفزئی نے بتایا”ان تنظیموں کی آپس میں نظریاتی ہم آہنگی کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ جو تنظیم عراق میں پوری دنیا کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے ان کے ڈانڈے نہ صرف طالبان کے ساتھ ملائے جاسکتے ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ انکی تشکیل میں انکی مشاورت بھی شامل ہوگی۔ اس وقت اطلاعات یہی ہیں کہ یہ لوگ گلوبل جہادی سرگزمیوں میں کام کرچکے ہیں ۔ القاعدہ کے ساتھ بھی انکے رابطوں کا کہا جاتا ہے اوریہ لوگ کوشیش کریں گے کہ دسمبر2014 ء کے بعد اپنے نظریاتی یا تنظیمی ڈھانچے کو حملوں کی شکل میں سامنے لائیں“ ۔
پاکستان میں جہاد کی حمایتی گروپوں کی تعداد 56 بتائی جاتی ہے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 25 عملی طور پر میدان میں ہیں ۔ عسکریت پسندی نے جہاں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام کوبُری طرح متاثر کیا ہے وہاں بلو چستان بھی اسکی زد میں ہے آنیوالے دنوں میں بلوچستاں کی صورتحال کے بارے میں بلوچستان کے صحافی اور تجزیہ نگار مالک اچکزئی نے بتایا ”اگر داعش آجاتا ہے تو خطے میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی ایک نیا کروٹ لے گی ۔بلوچستان کے حالات بھی خیبر پختونخوا،فاٹا اور کراچی کی طرح خراب ہونگے ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے حالات مزید خراب ہونگے اور اسکے اثرات عام آدمی پر پڑیں گے۔“
بلوچستان کی صوبائی حکومت نے وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کرکے الدولۃ اسلامیہ(آئی ایس آئی ایس) یا داعش نامی عسکریت پسند تنظیم کا اثررسوخ بڑھنے کا انتباہ دیا ہے۔
یہ ‘سیکرٹ انفارمیشن رپورٹ’، 21اکتوبر کو ارسال کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہنگو اور کرم ایجنسی میں دس سے بارہ ہزار تک کی بڑی تعداد میں اپنے حامیوں کو بھرتی کرچکی ہے۔

بلوچستان کے داخلہ اور قبائلی امور کے محکمے کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے”قابل اعتبار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ داعش نے لشکر جھنگوی(ایل ای جے) اور اہل سنت والجماعت(اے ایس ڈبلیو جے) کے کچھ عناصر کو پاکستان میں خود سے ہاتھ ملانے کی پیشکش کی ہے جبکہ اس عسکریت پسند تنظیم نے دس رکنی ایک اسٹرٹیجک پلاننگ ونگ بھی قائم کیا ہے”۔
رپورٹ کے مطابق داعش نے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کے جواب میں خیبرپختونخوا میں فوجی تنصیبات اور حکومتی عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ وہ شعیہ برادری کو بھی ہدف بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بلوچستان حکومت نے اپنے صوبے اور خیبرپختونخوا میں سیکورٹی اقدامات اور نگرانی کے عمل کو بڑھانے کے مطالبہ کیا ہے تاکہ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کی جاسکے۔
اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید محتاط اور لشکر جھنگوی کے اراکین کی نگرانی کے عمل کو بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب شاہد اللہ شاہد سمیت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چھ اہم کمانڈرز نے آئی ایس کے ساتھ منسلک ہونے کا اعلان کیا ہے۔
سابق طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق اس کے ساتھ اورکزئی ایجنسی میں ٹی ٹی پی کا سربراہ سعید خان، کرم ایجنسی کا طالبان سربراہ دولت خان، خیبرایجنسی سے ٹی ٹی پی کا سربراہ فتح گل زمان، ٹی ٹی پی پشاور چیف مفتی حسن اور ہنگو کے طالبان کمانڈر خالد منصور نے داعش کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے۔
سیکیورٹی ماہر ڈاکٹر اعجاز حسین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو آئی ایس سے خطرے کا سامنا ہے تاہم داعش کو ایک حقیقی خطرہ بننے میں وقت درکار ہوگا وہ بھی اس صورت میں جب ٹی ٹی پی سمیت دیگر مرکزی گروپس سے علیحدہ ہونے والے افراد کو کامیابی سے اپنے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہوئی تو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سیکورٹی ادارے داعش کے نقش قدم کو چیک کرنے میں ناکام رہے تو یہ مستقبل میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے
اس سے پہلے حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ سے تعلق کے شبے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے داعش کی حمایت میں کی گئی چاکنگ سے تعلق کے شبے میں پولیس نے کچھ گرفتاریاں کی ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے گرفتار افراد کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ چالکنگ کے پیچھے چھپے عوامل اور مقاصد جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے باضابطہ طور پر داعش کے حوالے سے گرفتاریوں کا اعتراف کیا ہے، اس سے قبل گرفتاریوں کی کچھ اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں لیکن یہ زیادہ تر غیر آفیشل ذرائع سے سامنے آئی تھیں۔
تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں نے اکتوبر میں داعش میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اس کے سربراہ ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ٹوئٹر پر پیغام میں گرفتاریوں کا خیر مقدم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری سے میرا پاکستان میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے دعویٰ درست ثابت ہو گیا، ہمیں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
داعش پاکستان اور افغانستان پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے خاص طور پر اس وقت جب امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں، اگر اس کو کنٹرول نہ کیا گیا تو داعش جنوبی ایشیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔پاکستان میں داعش دہشت گرد تنظیم کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظرپاکستانی حکومت نے اس فتنے کوملک میں پرورش پانے سے روکنے کے لیے نئی حکمت عملی بنالی ہے، نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کی پاکستان میں موجودگی کی حقیقت سے مسلسل انکار کے بعد بالآخر پاکستان کے بعض حکومتی عہدیداروں نے تسلیم کرلیا کہ کچھ پاکستانی دہشت گردوں کے اس سفاک تنظیم سے روابط ہیں۔
اگرچہ امریکہ نے عراق اور شام میں متحرک دولت اسلامیہ کے خلاف کاروائی کا عندیہ دیا ہے لیکن پاکستان اور افغان حکومت کی جانب سے ممکنہ خدشات کا راستہ روکنے کی لیے اقدامات نظر نہیں آتے ۔ خطے میں کئی گروپس خلافت کے قیام کی لیے متحرک ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ خطے میں موجود القائدہ اور طالبان سے زیادہ خطرناک ہے اور اگر انہیں مقامی لوگوں کا کندھا مل گیا تو یہاں ایک مرتبہ پھر خونریزی ہوگی۔
اس سے قبل سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں تاہم پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں جنگجو تنظیم کا خطرہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی کی رپورٹس ہیں اور افغان حکومت سے کہا ہے کہ داعش کو اپنی سرزمین پر آگے بڑھنے سے روکا جائے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں دہشتگرد گروہ داعش کا نام اس ملک کے مختلف شہروں کی دیواروں پر آنے کے بعد، اب ذرائع ابلاغ اور حکومت کی سطح پر بھی لیا جارہا ہے اور اس حوالے سے مختلف خدشات بھی ظاہر کیئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسماعیلی کمیونیٹی کے افراد کی بس پر ہونے والے وحشیانہ حملہ کی ذمہ داری بھی کہ جس کے نتیجے میں تقریبا چار درجن سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، دہشتگرد گروہ داعش نے قبول کی ہے جبکہ بعض دیگر دہشتگرد گروہوں کی جانب سے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کیئے جانے کی خبریں میڈیا پر آچکی ہیں۔
یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ افغانستان میں بہت سے طالبان گروپوں کے داعش سے مضبوط رابطے ہیں اور یہ گروپ پاکستان میں بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں، اس کا ایک بڑا ثبوت سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گرد ہیں جن کے داعش سے تعلقات ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ داعش پاکستان میں قدم جما رہی ہے، اس لئے حکومت کو اس کے قدم جمانے اور مضبوط ہونے سے قبل ہی اس کے وجود کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اس تنظیم سے وابستہ یا ان کی مدد کرنے والوں اور سہولت کاروں کو کسی صورت بھی معاف نہ کیا جائے اور اس فتنے کو سر اٹھانے سے قبل ہی کچل دیا جائے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے داعش کی موجودگی سے انکار کرنا ملک اور قوم کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے عید الاضحی کے موقع پر بھی ایک پیغام میں داعش کے مقاصد کی مکمل حمایت کاا ظہار کیاتھا۔ یہ بیان بھی شاہد اللہ شاہد کی طرف سے خبررساں ادارے رائٹرز کو بھیجا گیا تھا۔اردو، پشتو اور عربی میں جاری کیے گئے اس بیان کے الفاظ تھے ’’ہمارے بھائیوہمیں آپ کی کامیابیوں پر فخر ہے۔ ہم آپ کے غم او ر خوشی میں آپ کے ساتھ ہیں۔موجودہ مشکل حالات میں ہم آپ سے صبر اور استحکام کی اپیل کرتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب آپ کے تمام دشمن آپ کے خلاف متحد ہو چکے ہیں۔خدارا، آپسی دشمنیاں پس پشت ڈال دیں۔دنیا کے تمام مسلمانوں کو آپ سے بہت امیدیں ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کو مجاہدین اور حد ممکن معاونت فراہم کریں گے ‘‘۔
پاکستانی شدت پسندوں کی طرف سے داعش کی حمایت کے یہ اعلان محض ہمدری کے زبانی بیان تک محدود نہیں، محکمہ داخلہ سندھ کی طرف سے رینجرز اور پولیس کے لکھے گئے ایک خط میں جو انکشاف کئے گئے ہیں وہ واقعی چونکا دینے والے ہیں۔نو اکتوبر کو لکھے گئے اس خط کو پندرہ اکتوبر کے روزنامہ جنگ اور نیوز نے ایک خبر کی صورت میں شائع کیا ہے، جس کے مطابق پاکستان میں اپنی تنظیم سازی کے لیے داعش نے کوششیں تیز کر دی ہیں۔خط کے مطابق ولید الامہ نامی ایک ازبک شہری نے پاکستان میں داعش کے سربراہ کے لیے کہوٹہ کے ایک رہائشی عابد کہوٹ کو ذمہ داری سونپی ہے۔ خبر کے مطابق عابد کہوٹ نے ازبک شہری ولید الامہ کے ساتھ افغانستان میں ملاقات کی، جہاں ولید الامہ نے اسے پاکستان میں داعش کا سربراہ بننے کی پیشکش کی اور اس سے کہا کہ وہ تحریک طالبان سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرکے انہیں داعش میں شامل ہونے پر آمادہ کرے اور پاکستان میں داعش کے دفتر کے قیام کے لیے بھی مناسب جگہ تلاش کرے۔ خط کے مطابق
داعش، پاکستان چیپٹر کے دفتر کے لیے رائیونڈ کے قریب جگہ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
پاکستان کے شدت پسند حلقوں میں داعش کی شہرت اور مقبولیت ایسے حالات کا واقعہ ہے جب ایک طرف القاعدہ اپنے بچے کھچے وجود کو بچانے کی فکر میں ہے اور دوسری طرف تحریک طالبان شکست و ریخت کا شکار ہے۔ آپسی دشمنیوں کے نتیجے میں اس تنظیم کے کئی کمانڈر مارے جا چکے ہیں، جو بچ گئے ہیں وہ دھڑوں میں تقسیم ہیں۔آئے روز اس تنظیم سے ایک سے ایک نیا دھڑا نکلتا ہے جن میں سے ہر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہے۔تحریک طالبان کی اس ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں پاکستان میں قدرتی طور پر داعش کے لیے میدان ہموار ہو رہا ہے۔ اس کا آغاز تو گذشتہ ماہ پشاور اور گرد و نواح میں داعش کے ایک تنظیمی کتابچے کی تقسیم سے ہوا، جس میں لوگوں سے داعش کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا۔ پشتو اور دری زبان میں بارہ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ پشاور میں افغان امور پرکام کرنے والے بعض صحافیوں کو بھی بھیجا گیا۔ کتابچے میں کہا گیا تھا کہ خلافت کو خراسان (یعنی پاکستان، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا) کے ممالک تک پھیلایا جائے گا۔اس سے قبل اسی سال اگست میں تحریک طالبان سے الگ ہو کر جماعت الحرار کے نام سے بننے والے نئے دھڑے نے بھی داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تحریک طالبان کا شاید یہ پہلا دھڑا تھا جس نے واشگاف الفاظ میں داعش کی حمایت کا اعلان کیا۔ حزب التحریر اور خلافت کے قیام کے خواہش مند دیگر کئی گروہ بھی فطری طور پر داعش کی حمایت میں جائیں گے، ان کو ابھی تک اگرچہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا کیونکہ ملک کے شہری علاقوں میں موجود ان گروہوں کے حامی کچھ عرصے سے پس منظر میں ہیں۔ تاہم یہ خطرہ بہر حال موجود ہے کہ تعلیمی اداروں، سرکاری اداروں اور پڑھے لکھے نوجوانوں تک رسائی رکھنے والا یہ گروہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے داعش کے پیغام کو پھیلانے اور رائے عامہ کو اس شدت پسند گروپ کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتاہے
چونکہ داعش کی شدت پسندانہ پالیسی میں عقیدے کی بنا پر تشدد کا عنصر سب سے زیادہ ہے، اس لیے پاکستان میں اس تنظیم کے اثرورسوخ کے نتیجے میں فرقہ وارانہ تشدد اور اقلیتوں کے قتل کے واقعات بڑھنے کے خدشات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کے بقول داعش کی تکفیری سوچ اور عسکری سرگرمیاں بھی بعض شدت پسند گروہوں کے لیے انسپائریشن کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ جب دولت اسلامیہ نے عراق کی ایزدی اقلیت کی نسلی کشی کا ارتکاب شروع کیا، ٹھیک انہی دنوں بلوچستان میں ذکری اقلیت کے خلاف وال چاکنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ حیران کن طور پر یہ وال چاکنگ بھی لشکر خراسان نامی کسی گمنام گروہ کی طرف سے کی گئی تھی اور اگست کے آخری میں بلوچستان کے ضلع آواران میں ذکری اقلیت کی ایک عبادت گاہ پر حملے کا وقوعہ بھی پیش آ گیا جس میں چھ افراد مارے گئے۔
داعش کے پھیلاؤ سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث تنظیموں کونئی تحریک ملنے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ دنوں تحریک طالبان کے جن لیڈروں نے داعش میں شمولیت کا اعلان کیا ہے ان میں اورکزئی، کرم اور ہنگو کے کمانڈر بھی شامل ہیں۔ یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ قبائلی پٹی میں یہی علاقے ہیں جہاں شیعہ مکتبہ فکر کی کثیر آبادی ہے اور یہ علاقے فرقہ وارانہ تشدد کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ ایک عرصے تک ان علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد اس قدر سنگین صورت اختیار کر گیا تھا کہ کوہاٹ سے ہنگو، اورکزئی اور کرم ایجنسی کا واحد زمینی راستہ قریب تین برس ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہا۔اس سے قبل ان راستوں پر اپر کرم اور اورکزئی ایجنسی کے شیعہ قبائل کی گاڑیوں کو پے در پے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ماضی کے ان خونریز واقعات کوپیش نظر رکھیں تو ان علاقوں کے طالبان کی داعش میں شمولیت ان علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے نئے باب کھلنے کا اشارہ دیتی ہے۔مگر یہ کون کہہ سکتا ہے کہ داعش کی سرگرمیاں صرف قبائلی علاقوں تک محدود رہیں گی، ماضی میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قبائلی علاقوں میں بننے والا گروہ اندرون ملک اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب نہ رہا ہو۔ تحریک طالبان ہی کو لیں، اس گروہ کا مرکز اگرچہ قبائلی علاقوں میں تھا مگر کراچی سے لے کر پشاور تک اندرون ملک اس گروہ کی تنظیم اتنی مضبوط تھی کہ اندرون ملک اس کا صفایا کرنا قبائلی علاقوں سے بھی دشوار ثابت ہوا ہے۔اس صورتحال میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے لیے مستقبل قریب میں ملک کی داخلی سکیورٹی کو سنبھالنے کے لیے دیو ہیکل چیلنجز کھڑے ہیں۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ داعش کی شدت پسندی کی بنیاد محض عقیدے کے اختلاف پر نہیں، یہ ریاست کے وجود کی دشمن ہے۔ اس لیے داعش کے خطرے کو تحریک طالبان بلکہ القاعدہ کے خطرے سے بھی زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے سمجھنے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
http://humshehrionline.com/?p=7035#sthash.hpMwxuqE.hH9HfbWW.dpbs
پاکستان و افغانستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہان پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث ہیں۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دہنسنے سے خطرہ ختم نہ ہو جائے گا۔ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے مظالم اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔
شریعت اور اسلام کے احکامات کے مطابق الداعش اور اس کے پیرو کار خوارج ہیں۔ خوارج کی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو نظام اور/یا اسلام کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔
داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اُسے پاکستان و افغانستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے۔

Advertisements