دہشتگردی کے فروغ میں ملوث 102مدارس سیل


دہشتگردی کے فروغ میں ملوث 102مدارس سیل

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے فروغ میں ملوث 102مدارس کو سیل جبکہ کالعدم تنظیموں کے ایک ارب روپے منجمد کر لیئے گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو وزارت خارجہ نے ایک تحریری جواب میں قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ اب تک 102مدارس کو دہشتگردی اور انتہا پسندی کے فروغ میں ملوث ہونے پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ کالعدم عسکری تنظیموں کے ایک ارب روپے کے اثاثہ جات منجمد کر دیئے گئے ہیں ۔

پیپلزپارٹی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی کی جانب سے اسمبلی میں اٹھائے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی یا شدت پسندی کے پھیلا ﺅ میں ملوث مدارس کو سیل کردیا ہے ۔

imagesaaa
جواب میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس سکیورٹی اداروں نے سندھ میں 87،خیبر پختونخوا میں 13جبکہ پنجاب میں 2مدارس کووہاں پر زیرتعلیم طلبا کے کالعدم گروپوں سے روابط کا انکشاف ہونے پر سیل کیا ہے ۔علاوہ ازیں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے 190ایسے مدارس کا پتہ بھی چلایا ہے جنہیں بیرونی ممالک سے فنڈنگ کی جاتی ہے۔دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے سٹیٹ بنک اب تک 126ایسے اکاﺅنٹس منجمد کر چکا ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیموںسے تھا ۔

madrasa-7591
پاکستان میں بہت سے مدارس دہشت گردی کی نرسریاں بن چکی ہیں جہان بجائے بچوں کو مذہبی تعلیم دینے کے دہشتگردی کی تربیت دی جاتی ہے ہے اور آج کے یہ بچے کل کے دہشتگرد بن کر اپنے ہی ملک کی تباہی و بربادی کا باعث بنتے ہیں۔یہ مدارس جہل وفساد کا مرکز ہیں اور ان میں انتھا پسندی سکھائی جاتی ہے دہشت گردی کی نرسری کا درجہ رکھنے والی مساجد اور مدارس بدستور سرگرم ہیں۔.حال ہی میں لال مسجد سے تعلق رکھنے والے خواتین کے ایک مدرسہ کی سیکڑوں طالبات نے دہشتگرد گروہ داعش میں شمولیت کا اعلان بھی کیا تھا۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں طلبا کو مسلح تربیت دینے والا ایک مدرسہ بھی سیل کردیا گیا ہے۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلطان نے کہا کہ سیل کیا گیا مدرسہ اسلام آباد کی لال مسجد سے الحاق شدہ تھا، جس کے خطیب مولانا عبد العزیز نے داعش سے بیعت کر رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ داعش کے حوالے سے مولانا عبد العزیز کے بیانات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور کڑی نگرانی کی جارہی ہے کہ داعش کہیں صوبے میں قدم نہ رکھ دے۔

madrasa
اپریل 2014ء میں خفیہ اداروں کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق صرف راولپنڈی اسلام آباد میں دو درجن مدارس ایسے ہیں جہاں دہشت گردوں کو پناہ دی جاتی ہے، اسلحہ چھپایا جاتا ہے اور جہادی تیار ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں متعلقہ مدارس، ان کے ناظمین اور دہشت گرد گروہوں کے نام اور پتے تک بتائے گئے ہیں۔
“جنوبی پنجاب کی بستیوں’ گائوں اور قصبوں کا دورہ کریں تو آپ کو چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں کئی کئی مدارس دکھائی دیں گے۔ ان میں غالب اکثریت جہادی تنظیموں کے نظریات سے ہم آہنگ مدرسوں کی ہے۔ چونکہ مدرسوں میں غالب اکثریت غریب خاندانوں کے بچوں کی ہے اور جنوبی پنجاب میں غربت بہت زیادہ ہے اسی لئے جنوبی پنجاب انتہا پسندی کی نرسری ہے اور یہاں سے انتہا پسندی ملک کے دیگر حصوں میں برآمد کی جاتی ہے۔ یہ ایک تھیوری ہے انتہا پسندی کے فروغ کے حوالے سے ۔ لیکن اس تھیوری کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے نوجوانوں کا انتہا پسندی اور جذبہ جہاد کے ساتھ جہادی تنظیموں میں شمولیت کا عنوان بھی شامل ہوچکا ہے۔”
پاکستان میں 65 فیصد کے قریب مذہبی مدرسہ دیو بندی مذہبی مدرسہ ہیں۔پاکستان میں مذہبی مدرسہ جات کی تعداد میں اضافہ کی مرکزی وجہ غیر ملکی فنڈز کی فراہمی ہے۔

بےنظیر بھٹو پر قاتلانہ حملہ اور کامرہ بیس پر حملہ میں ملوث مدرسہ کے طالبعلم تھے۔ان حالات میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بعض مدارس دہشتگردی کے اڈے بن چکے ہیں۔( بینظیر بھٹو قتل کیس کے سرکاری گواہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم کے قتل میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طلبہ ملوث تھے۔
ادھر دارالعلوم کے ناظم نے اعتراف کیا کہ یہ دہشتگرد طلبہ ہمارے اکوڑہ خٹک سے ہی تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے ایک گرفتار دہشتگرد طالبعلم کے بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں وہ بھی ہمارے دارالعلوم کا ہی طالبعلم ہے۔کیونکہ اس نے کہا تھا کہ وہ اکوڑہ خٹک کا طالب علم نہیں ہے۔)
http://urdusach.blogspot.se/2015/02/blog-post_80.html
مگر دینی مدارس کی تنظیم  اس الزام کو نہ مانتی ہے۔
واضح رہے پاکستان کے وزیر داخلہ نثار علی خان نے بھی کہا تھا کہ فوج ان دینی مدارس کے خلاف کاروائیاں کرے گي جو دہشتگردوں کے اڈوں میں تبدیل ہوچکے ہیں
.دہشتگردی کا ہمیشہ کے لئےقلع قمع کرنے کے لئے ایسےمدارس کو بند کیا جا نا چاہے جو کہ دہشتگردی کے اڈے بن چکے ہیں اور ان کی فنڈنگ کے تمام ذرائع کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا چاہئیے۔

Advertisements