غیرت کے نام پر قتل


140529185623_pakistan_honour_crime_640x360__nocredit

غیرت کے نام پر قتل

غیرت کےنام پر قتل کرنے کا دستور بہت قدیم ہے ۔اکیسویں صدی میں اس طرح کے ظالمانہ رسم و رواج کا کوئی جواز نہ ہے اور یہ ہمارے آج کے مہذب  معاشرہ پر ایک سیاہ داغ ہے۔قانونی اور روایتی اعتبار سے اس طرح کے قتل کو عام قتل نہیں بلکہ غیرت کے نام پر قتل گردانا جاتا ہے۔ صوبہ سندھ میں اسے کارو کاری کہلاتی ہے، پنجاب میں کالا کالی، سرحد میں طورطورہ اور بلوچستان میں سیاہ کاری۔ نام کوئی بھی ہو ، قدیم روایات اور رسم ورواج طویل عرصے سے خواتین کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں ۔ کیونکہ اکثر اس رسم کی بھینٹ چڑھنے والی صرف خواتین ہوتی ہیں اور مردوں کی جان بچ جاتی ہے۔

news-1445057791-4001_large

خواتین اور غریب مردوں کو "غیرت” کے نام پر قتل کرنا جنوبی ایشیاءبھر میں صدیوں پرانا رواج ہے مگر برطانوی دور میں اس مشق پر قابو پالیا گیا تھا۔
پاکستان میں خواتین کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والے گروپ عورت فاﺅنڈیشن کا کہنا ہے کہ 2008 سے اب تک "غیرت” کے نام پر تین ہزار سے زائد قتل ہوچکے ہیں۔

news-1413355745-5746

316218-bodyfrompindi-1420528273-876-640x480

5469f26410eec

921F6D0A-EAA9-4E28-ACB3-ABB6A924425E_w900_r1_s

کاروکاری کے اسی فیصد قتال محلِ وقوع سے ہٹ کر ہوتے ہیں یعنی قتل کرنے والوں نے ملوثین میں سے کسی کو قابلِ اعتراض حالت میں نہیں دیکھا ہوتا تو پھر کیا انہیں بھی غیرت کے زمرے یا جذبات میں آکر قتل کرنا جیسا کہ بقول ہمارے قانون Sudden and grave provocationکہا جا سکتا ہے جبکہ قانون کی رو سے کہ اگر کوئی شخص اپنی رشتے دار عورت کو کسی غیرمرد کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے اور دیکھنے والے کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار یا تیز آلہ ہو جس سے وہ دونوں فریقوں یا دونوں میں سے کسی ایک کا قتل کردیتا ہے تو اس قتل کو جذبات میں آکرسرزد ہونا کہا جا سکتا ہے لیکن اگر دیکھنے والے کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں اوروہ فریقین کو دیکھنے کے بعد انہیں قتل کرنے کے لئے کوئی ہتھیار اٹھاتا کر لے آتاہے تو پھر قانون کے مطابق جذبات کی صورتحال تبدیل ہوجاتی ہے یعنی وہ اچانک جوش میں آنے والے جذبات نہیں رہتے۔
قتل کرنے کی وجہہ کوئی بھی ہو مگر نہ قانون میں ایسی کوئی گنجائش ہے موجود ہے نہ سماجی طور جذبات میں کہ کسی بھی انسان اس کے کسی گناہ کی پاداش میں قتل کیا جائے۔

women dead body
المیہ تو یہ ہے کہ تعلیم اور شعور رکھنے والے بہت سے گھرانے بھی ایسے ہیں جو اس فرسودہ رسم کو معیوب نہیں سمجھتے۔ کچھ لوگ بغیر گناہ کا ثبوت حاصل کیے معاشرے میں اپنی عزت بچانے کے لیے تو کچھ معاشرے کی لعن طعن کے آگے مجبور ہوکر اپنی گھر کی عورتوں کو روایات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے کسی الزام کی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی
افسوس کی بات یہ ہے کہ’عزّت کے نام پر جرائم’ عورتوں کے بارے میں منفی رویّوں کے علاوہ بنیادی طور پر اس لئے جاری ہیں کہ اس سلسلے میں مؤثر قوانین موجود نہیں ہیں اور جو قوانین موجود ہیں انہیں صحیح طرح نافذ نہیں کیا جاتا۔
اسلام اور پاکستانی قانوں کے مطابق شادی بیاہ کے معاملہ میں بالغ اور عاقل عورت کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اور اگر عورت نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی تو صرف اس بنا پر عزت یا غیرت کے نام پر قتل کا کوئی جواز نہ بنتا ہے۔
قانون اور عدالتوں کی موجودگی میں لوگوں کا خود ہی عدالت لگا کر خود ہی فیصلہ کر دینا اور پھر گھر کے لوگ خود ہی اس فیصلہ پر عملدارمد بھی کر دیتے ہیں ،جو کہ انصاف کے مروجہ تقاضوں کی توہین ہے۔ اس سے معاشرہ میں لاقانونیت کا رجحان بڑہتا ہے۔
تقریباً 200 سے زیادہ خواتین مذہبی علماء نے کہا ہے کہ عزت کے نام پر قتل کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔
تنظیم اتحاد امت کے زیراہتمام منعقدہ شیخ الحدیث کانفرنس میں شرکت کے لیے یہ علماء خواتین فیصل آباد، گوجرانوالہ، قصور اور سیالکوٹ کے علاوہ لاہور اور بڑی تعداد میں کراچی، حیدرآباد اور راولپنڈی سے آئی تھیں۔
کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلام ماں، بہن، بیٹی یا کسی دوسری خاتون کو عزت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلام ماں، بہن، بیٹی یا کسی دوسری خاتون کو عزت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
كسى مسلمان شخص كو ناحق قتل كرنا بہت عظيم اور بڑا جرم ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
اور جو كوئى كسى مومن كو قصدا قتل كر ڈالے اس کی سزا جہنم ہے، جس ميں وہ ہميشہ رہےگا، اس پر اللہ كا غضب ہے، اور اللہ تعالى نے اس پر لعنت كى ہے، اور اس كے ليے بڑا عذاب تيار كر ركھا ہے۔ [النساء : 93]
امام بخارى رحمہ اللہ نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” مومن اس وقت اپنے دين كی وسعت ميں ہے جب تك وہ کسی كا حرام اور ناحق خون نہيں بہاتا۔” (صحيح بخارى : 6355 )
شادى شدہ شخص كا زنا كرنا ايك ايسا سبب ہے جس کی بنا پر اس كا قتل مباح ہو جاتا ہے، ليكن زانی كو اس وقت تك قتل نہيں كيا جا سكتا جب تك دو شرطيں نہ پائى جائيں:
پہلی شرط:
وہ ” محصن ” یعنی شخص شادى شدہ ہو۔ زكريا انصارى رحمہ اللہ اس كا معنى بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:
” المحصن: ہر وہ مرد يا عورت جو مكلف اور آزاد ہو جس نے صحيح نكاح كے بعد وطئى اور ہم بسترى كى ہو۔ ” ( اسنى المطالب : 4 / 128 )
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” احصان کی پانچ شروط ہيں:
۔ جماع
۔ صحيح نكاح ميں ہو
۔ بالغ ہو
۔ عاقل ہو
5۔ آزاد ہو۔ (لشرح الزاد طبعہ مصريہ : 6 / 120 )
دوسرى شرط:
اس پر چار گواہوں کی گواہی سے حد ثابت ہو جائے اور وہ گواہی شرمگاہ كو شرمگاہ ميں ديكھنے کی گواہی ديں، يا پھر وہ خود اپنے اختيار سے بغير کسی جبر كے اعتراف كر لے۔
اور جب ايسےجرم كے مرتكب پر پردہ ڈالنا تا كہ وہ موت سے قبل توبہ كر لے اسے ذليل كرنے اور اس كے عيب كو ظاہر كرنے سے بہتر ہے، كيونكہ رسول كريم ﷺ كے سامنے جب ماعز اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ نے زنا كا اعتراف كيا تو آپ نے اس سے اعراض كر ليا، اور اسے چھوڑ ديا، حتى كہ ماعز نے كئى بار سامنے آ كر ايسا كيا تو رسول كريم ﷺ نے اس پر حد لاگو كى۔
اس بنا پر؛ جسے لوگ غيرت كى بنا پر قتل كا نام ديتے ہيں يہ زيادتى اور ظلم ہے، كيونكہ اس ميں اسے بھى قتل كيا جا رہا ہے جو قتل كا مستحق نہ تھا، جب كنوارى لڑكى زنا كرتى ہے تو غيرت سے اسے بھى قتل كر ديا جاتا ہے حالانكہ اس كى شرعى سزا تو ايك سو كوڑے اور ايك سال جلاوطنى ہے، نہ كہ اس كى سزا قتل تھى۔نبى كريم ﷺ كا فرمان ہے:
” جب كنوارہ كنوارى لڑكى سے زنا كرے تو ايك سو كوڑے اور ايك برس جلاوطنى ہے۔ ” (مسلم)
چنانچہ جس نے کنوارے یا کنواری کو قتل كيا اس نے ايك مومن نفس اور جان كو قتل كيا جس كا قتل اللہ نے حرام كيا ہے۔اور اس سلسلہ ميں شديد قسم كى وعيد بھى آئى ہے، كيونكہ سورۃ الفرقان ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
’’اور وہ لوگ جو اللہ كے ساتھ كسى دوسرے كو معبود نہيں بناتے اور كسى ايسے شخص كو جسے قتل كرنا اللہ تعالى نے حرام كيا ہے وہ بجز حق كے اسے قتل نہيں كرتے، اور نہ وہ زنا كے مرتكب ہوتے ہيں، اور جو كوئى يہ كام كرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائيگا۔اسے قيامت كے روز دوہرا عذاب ديا جائيگا، اور وہ ذلت و خوارى كے ساتھ ہميشہ اسى ميں رہيگا۔‘‘ (الفرقان : 68 – 69 )
اور اگر يہ فرض كر ليا جائے كہ يہ قتل كى مستحق تھى ( اگر شادى شدہ عورت زنا كرے تو ) تو پھر بھى اس حد كو صرف حكمران ہى جارى كر سكتا ہے۔ علاوہ ازیں بہت سارے حالات ميں يہ قتل صرف شبہ اور گمان كى بنا پر ہى كيا جاتا ہے، اور كسى بھى قسم كى تحقيق نہيں كى جاتى كہ آيا زنا ہوا بھى ہے يا نہيں۔
پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں غیرت کے نام پر 930 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ اعداد و شمار 2013 اور 2014 کے بتائے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ واقعات صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب میں پیش آئے ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر خیبر پختونخوا اور چوتھے نمبر پر بلوچستان ہے۔
خیبر پختونحوا میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں سال 2013 کی نسبت سال 2014 میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ سال 2013 میں صوبہ بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے میں 47 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ سال 2014 میں یہ تعداد 78 بتائی گئی تھی۔
سینیٹ نے متفقہ طور پر جس میں غیرت کے نام قتل کو ناقابل راضی نامہ جرم بنانے کا بل بھی شامل ہے۔
پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے دوران حراست تشدد اور موت کے ذمہ دار عناصر کو سزائیں دینے کے حوالے سے بھی بل کی منظوری دی ہے جبکہ ایک اور بل جنسی زیادتی کے متاثرین کو تیز ترین بنیادوں پر انصاف کی فراہمی پر مبنی ہے۔
سینیٹ نے پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈنینس میں ترامیم کا بل بھی منظور کیا ہے تاکہ اس عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
یہ تمام بل حزب اختلاف کی مرکزی جماعت پیپلزپارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے تھے جن میں تین صغریٰ امام نے پیش کیے جو گیارہ مارچ کو ریٹائر ہونے والے 52 سینیٹرز میں سے ایک ہیں۔
یہ بل بغیر کسی بحث کے منظور کرلیے گئے کیونکہ حکومت کی جانب ان کی مخالفت نہیں کی گئی تاہم ان پر متعلقہ قائمہ کمیٹیوں پر کافی بحث ہوچکی تھی جبکہ حکومت کی تجویز کردہ کچھ ترمیمی تجاویز کو بھی ان میں شامل کیا گیا۔
ان بلوں کو قانون کی شکل بننے کے لیے قومی اسمبلی اور صدارتی منظوری درکار ہوگی۔
غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل راضی نامہ جرم بنانے کے لیے بل میں کوڈ آف کرمنل پروسیجر (سی آر پی سی) 1898 میں ترامیم کی گئی ہیں۔
بل کی منظوری کے بعد رابطہ کرنے پر صغریٰ امام نے بتایا کہ غیرت کے نام قتل کے مقدمات میں خاندان کے اراکین ہی ملوث پائے جاتے ہیں اور ان میں سزاﺅں کی شرح لگ بھگ صفر کے قریب ہے کیونکہ بیشتر مقدمات میں ملزمان اسی خاندان کاے رکن ہوتے ہیں جنھیں مقتول کے ورثاءمعاف کردیتے ہیں۔
بل کے مطابق ” غیرت کے نام پر قتل پاکستان بھر میں عام ہیں اور ہر سال اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد مارے جاتے ہیں”۔
بل میں کہا گیا ہے کہ حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والے ادارے عورت فاﺅنڈیشن سے حاصل کردہ اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2012 میں غیرت کے نام پر 432 خواتین قتل ہوئیں، 2011 میں 705 ، 2010 میں 557، 2009 میں 604 اور 2008 میں 475 قتل ہوئے۔
بل میں کہا گیا ہے ” ان اعدادوشمار میں وہ واقعات شامل نہیں جو رپورٹ نہیں ہوئے یا وہ مرد جو خواتین کے ساتھ غیرت کے نام پر قتل ہوئے، موجودہ قوانین میں موجود جھول اور رخنوں کی روک تھام اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لیے ضروری ہے”۔

Advertisements