ملٹری پولیس پر دہشت گردانہ حملے


412347-mp-1449042643-457-640x480

ملٹری پولیس پر دہشت گردانہ حملے

کراچی میں ملٹری پولیس کے اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں شہید ہونے والے ملٹری پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد ضرب عضب کی پیشرفت روکنا ہے۔تاہم ایسی کارروائیاں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہمارے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔

 

1001789-MilitaryPolicepersonnelcar-1448967168-398-640x480

فوج کے میڈیا ونگ نے جنرل راحیل کا بیان جاری کیا ۔’دہشت گردی کے ایسے واقعات۔۔۔ ہماری سر زمین سے دہشت گردی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کے قومی عہد کو متاثر نہیں کرسکتے‘۔بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف نے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ادھر، وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے ۔

499410656

دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف، صدر ممنون حسین، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے اور دونوں اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جب کہ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے پر کورکمانڈر کراچی کو فون کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

download

طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ طالبان اور دوسرے دہشتگردگروپس   طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط  کرنے کے درپے ہیں. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ناجائز ہے۔دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔اپنے نفس کے خلاف لڑنے اور حیوانی خواہشات پر غلبہ پانے کو افضل جہاد کہا گیا ہے۔ جہاد کے لئے یا دفاع کے لئے اجازت دینا صرف قانونی وجود رکھنے والی ریاست کا اختیار اوراستحقاق ہے۔ کسی سنگل فرد یا تنظیم کو اسلامی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی قطعا اجازت نہ ہے۔ امید واثق ہے کہ دہشتگردی کے خاتمہ پر ملک میں امن و امان بحال ہوگا اور ترقی و خوشحالی کا ایک نیا  باب شروع ہوگا۔

news-1449057271-9562_large

آپریشن ضرب عضب نے زبردست و ہمہ گیر حملہ کر کے دہشت گردوں کو حیران و پریشان کر کے رکھ کر دیا اور عسکریت پسندوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی اور ان سے حملہ کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران یہ محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب تباہ ہو چکا ہے اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس دوران انہوں نے جو اِکا دُکا کارروائیاں کرنے کی کوشش کی ان میں انہیں مُنہ کی کھانا پڑی۔دہشت گردوں کے ٹھکانے اور ان کے نیٹ ورک تباہ کر دیئے گئے اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں، تو آج ان کی کمر ٹوٹ گئی، مُلک بھر میں پھیلا ہوا اُن کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا، وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر تِتر بتر ہو گئ۔

وزیرداخلہ چوہدری نثا ر علی خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ منطقی انجام کو پہنچے گی اور دہشت گرد جس کو نے کھدرے میں چھپے ہوں گے ان کا پیچھا کریں گے اور ان کا قلع قمع کریں گے۔ وزیرداخلہ حالیہ دنوں میں کراچی آپریشن میں تیزی کا عندیہ دے چکے ہیں۔ جس کے بعد رینجرز اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں ،سرپرستوں ،ہمدردوں اور معاونین کی گردن زدنی کےلئے جو اقدامات کئے اس سے نظر آتا تھاکہ دہشت گرد جو بہت زیادہ فرسٹریشن کا شکار ہیں اورخاص طور پر ان کے ذرائع آمدن پر قدغن لگنے سے انہیں شدید دبائو کا سامنا ہے۔ وہ کسی بھی مزاحمتی ردعمل کااظہار کرسکتے ہیں ۔ وزیرداخلہ نے درست تجزیہ کیا کہ اب ماضی کے وہ حالات نہیں رہے کہ دہشت گرد جب چاہتے اور جہاں چاہتے ہیں اپنی مرضی کا محاذ کھول دیتے۔ ایسے میں مایوسی اور گھبراہٹ میں شدت پسند سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے درپے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس در حقیقت قوم کےلئے ویک اپ کال سےکم نہیں کہ بزدل دشمن جو اہل پاکستان کے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو متزلزل کرنا چاہتا ہے لیکن سول و عسکری قیادت پہلے سے دلجمعی اور اتحاد کے ساتھ دہشت گردی کو بیخ و بن سے اکھاڑنے پرکمربستہ ہے۔کراچی میں رینجرز اورملٹری پولیس پر حملوں کے تناظر میں چوہدری نثار علی خان درست کہتے ہیں کہ آج ملک وقوم کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں یہ جنگ کسی ایک طبقے،گروہ، یا مذہبی و لسانی جماعت کی نہیں، پاکستان اور اس میں بسنے والے باشندوں کی بقا کی جنگ ہے۔ اسے کامیابی سے ہم کنار کروانا ہر شہری کا فرض ہے۔ داخلی سلامتی کو مستحکم بنانے کےلئے وزیرداخلہ نے نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کو جو تزویراتی لائحہ عمل دیا اس پر عملدرامد  کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

دہشت گرد بوکھلاہٹ میں ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ وارداتیں کررہے ہیں، مہمند ایجنسی جو ایک زمانے میں تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا کو شرپسندوں سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے اور علاقے میں اب ایک بھی نوگوایریا نہیں ہے۔ یہ اہم کارنامہ ہے۔ ایف سی حکام کے مطابق عمرخالد خراسانی کے علاوہ ٹی ٹی ایم کی تقریباً ساری مرکزی قیادت کو ماردیا گیا ہے اور سیکڑوں گرفتار ہیں ۔ تاہم ابھی شیر مرا نہیں کے مصداق آپریشن کا تسلسل اور ٹمپو اسی طرح برقرار رہنا چاہیے۔

Advertisements