افغان طالبان کے امیرملا اخترمنصور ہلاک


news-1449210889-1206_large

افغان طالبان کے امیرملا اخترمنصور ہلاک

افغان طالبان کے امیرملا اخترمنصور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے جب کہ طالبان ترجمان نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق طالبان دھڑوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے افغان طالبان کے امیرملااختر منصور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جب کہ چینی میڈیا نے افغانستان کے پہلے نائب صدرجنرل عبدالراشد دوستم کے ترجمان سلطان فیضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سربراہ ملا منصور ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہلاکت کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی رائے طالبان کے خلاف ہموار کرنے کے لئے افغان حکومت کی جانب سے بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں۔
واضح رہے کہ سابق طالبان سربراہ ملا عمر کی رواں سال جولائی میں طبعی موت کی خبر آنے کے بعد شوریٰ نے ملا اخترمنصور کو قیادت سونپی تھی جس کے بعد افغان طالبان دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے اور ملاعمر کے قریبی ساتھی ملا محمد رسول نے ملا اخترمنصور کی قیادت ماننے کی مخالفت کی اور اپنا نیا دھڑا بنا لیا۔
http://www.express.pk/story/412770/

افغان طالبان کے امیر ملااختر منصور کی ہلاکت کے بعد طالبان نے مولوی ہیبت اللہ اخوانزادہ کو قائمقام امیر مقرر کردیا۔چینی میڈیا کے مطابق طالبان کے امیر ملااختر منصور کی ہلاکت کے بعد مولوی ہیبت اللہ ا اخوانزادہ جو طالبان کے ڈپٹی چیف اور سپریم کونسل کے ممبر بھی ہیں کو طالبان کا قائمقام امیر مقرر کردیا گیا ہے ۔افغانستان میں ذرائع نے ایک تصویر بھی دکھائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملا منصور مرچکے ہیں تاہم اسکی تصدیق نہیں ہوئی افغان طالبان کے امیر ملامنصور کمانڈروں کے اجلاس کے دوران زبانی تلخ کلامی کے نتیجے میں ہونیوالی لڑائی کے دوران شدید زخمی ہوگئے تھے جو بعدازاں دم توڑ گئے ۔

ایک اور خبر کے مطابق افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا منصور اختر پاکستان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گئے ہیں۔
تاہم افغان طالبان کے ترجمان ان اطلاعات کی تردید کر رہے ہیں لیکن بدھ سے طالبان ذرائع ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔
جمعرات کو افغانستان میں صدر اشرف غنی کے بعد اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نواح میں دو دن قبل مسلح تصادم میں زخمی ہوئے۔
’افغان اور بین الاقوامی میڈیا نے طالبان کے ایک دھڑے کے سربراہ ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی رپورٹیں شائع کی ہیں۔ افغانستان کی حکومت ان اطلاعات کی تصدیق کرتی ہے کہ ملا منصور اختر زخمی ہوئے ہیں لیکن ان کی ہلاکت کی خبروں سے متعلق حکومت کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق افغانستان کے ایک ترجمان سلطان فیضی کا کہنا ہے کہ’ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ملا اختر ہلاک ہو گئے ہیں یا زندہ ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔‘بدھ کو طالبان ذرائع نے بتایا تھا کہ ملا منصور اختر فائرنگ میں شدید زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک میں پیش آیا۔ تاہم طالبان کے ایک ترجمان نے کسی مسلح جھڑپ اور ملا منصور اختر کے زخمی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب ملا اختر منصور کے زخمی ہونے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔
افغان طالبان کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک ملاقات میں بحث کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملا منصور اختر اس میں شدید زخمی ہو گئے۔
طالبان ذرائع کے مطابق بظاہر فائرنگ کا واقعہ اچانک ہی پیش آیا اور اس کی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔
طالبان کے دیگر کئی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملا منصور اختر اور ان کے محافظ ایک دوسرے عسکریت پسند عبداللہ سرحدی کے گھر موجود تھے جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ افواہیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ ملا منصور اختر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کے ساتھ کچھ نہیں ہوا۔‘
جولائی میں افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔
ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔
تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔
http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151203_mullah_mansour_wounded_zz

سینئر افغان طالبان رہنماؤں نے ملا اختر منصور کے جاری ہونے والے آیڈیو پیغام کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملا اختر منصورزندہ نہیں ہلاک ہوچکے ہیں،ملتی جلتی آواز میں آڈیو جاری کرنے کا مقصد گروپ کو اچانک صدمے سے باہر لانا اور نئے امیر کے انتخاب کیلئے وقت لینا ہے۔اتوار کو غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینئر افغان طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گروپ کی جانب سے ملا اختر منصور کی آواز سے ملتی جلتی آڈیو جاری کرنے کا مقصد نئے امیر کے انتخاب کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت لینا ہے۔ایک سینئر طالبان ذرائع نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ ملااختر منصور کی جاری ہونے والی آڈیو جعلی ہے مجھے یقین ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔مزید ثبوت فراہم کرنے کے اصرار پر ذرائع نے مزید بتایاکہ طالبان گروپ مزید وقت چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے امیر کی ہلاکت کے اچانک صدمے سے تنظیم کو باہرلاسکے اور نئے امیر کا انتخاب عمل لایا جاسکے۔ایک اور سینئر طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ملااختر کی آڈیو سننے کے بعد مطمین نہیں جبکہ ایک تیسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملااختر جمعرات کو ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک طالبان افغانستان کے رہنما ملا اختر منصور کا نیا آڈیو پیغام سامنے آیا تھا۔ جس میں انہوں نے اپنے زخمی یا مارے جانے سے متعلق خبروں کی تردید کی۔نئے آڈیو پیغام میں ملا اختر منصور نے طالبان کے درمیان اختلافات کی خبریں بے بنیاد قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں اور اپنوں کے درمیان ہیں، اْن کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ملا اخترمنصور نے کہا کہ طالبان میں نظریاتی اختلافات ہیں، اس کا حل جلد نکال لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ افغان  طالبان نے ملا عمر کی موت کی خبر کو بھی دو سال تک چھپائے رکھا تھا تھا۔ لہذا اس سلسلہ میں طالبان کا ریکارڈ کچھ اچھا نہ ہے۔

ملا منصور اختر کی ہلاکت کے بعد ایک دفعہ پھرافغان طالبان کی قیادت کے مسئلے پر اختلافات سنگین ہو جائیں گےاور افغان طالبان میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ اور طالبان قیادت ،طالبان کو متحد رکھنے میں ناکام ہو جائے گی۔اور افغان طالبان کے ڈھانچے میں دراڑیں پڑ جائیں گی ۔ اس نئی صورتحال کے باعث گروپ کے مزید تقسیم ہونے کے خدشات کو ظاہر کیا جارہے ہیں۔ طالبان میں دھڑے بندیوں کے باعث ،طالبان کے مختلف الخیال گروہوں کے درمیان آپس کی جنگ شروع ہونے کے امکان کو رد نہ کیا جا سکتا ہے۔ طالبان نہ ہی انسان ہیں اور نہ ہی مسلمان بلکہ انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔ مسلمان تو انکساری و عاجزی کے پیکر ہوتے ہیں،اور ایک دوسرے کی خیر خواہی کرتے ہیں۔ طبرانی کی روایت میں ہے : ”أحب عبادة عبدي إلي النصیحة “․ (المعجم الکبیر ، حدیث نمبر : 7880 ، حدیث عثمان بن أبي عاتکة)
” میرے بندے کی میرے نزدیک محبوب ترین عبادت دوسروں کے ساتھ نصح وخیر خواہی کرنا ہے ۔
مگر ان طالبان میں سوائے خون خواری کرنے،اپنے مسلمان بھائیوں اور ساتھیوں کی جان کے درپے ہونے اور دہشت پھیلانے کے کچھ نہ ہے۔
جو طالبان آپس میں بات چیت پر امن ماحول میں نہ کر سکتے ہیں اور بات بات پر بندوقیں نکال کر ایک دوسرے کی جان لینے کی کوشش کرتے ہیں وہ افغانستان کے عوام کو پر امن ماحول فراہم کرنے اور ملک سے خانہ جنگی ختم کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہیں اور نہ ہی ان لوگوں میں کوئی قائدانہ صلاحیتیں ہیں۔
مزید براں، جانشینی کےمسئلہ پر مزید دھڑابندی سے امن مذاکرات فی الحال، طالبان کی نئی قیادت کے آگے آنے تک، ختم ہو جائیں گے۔
طالبان ،امارت و اقتدار کی جنگ و رسہ کشی میں پڑ کر بری طرح تقسیم ہو کر پھوٹ اور دہڑے بندی کا شکار ہو جائیں گے۔ کچھ طالبان داعش سے بھی جا ملیں گے ۔ جو کہ طالبان کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔یہ صورت حال افغانستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرناک اور بہت تشویشناک ہے کیونکہ یہ صورت حال ، افغانستان کو ایک بار پھر داخلی جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہےجو کہ خطہ میں امن کے لئے کوئی نیک فال نہ ہے۔ دہڑے بندی اور تقسیم سے طالبان کمزور ہو جائیں گے اور طالبان ایک متحدہ اکائی و قوت کی حیثت کھو دیں گے اور اس طرح افغان حکومت اور عوام کے لئے ایک بڑا خطرہ نہ رہیں گے۔
مذاکرات کی صورت میں بھی طالبان کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی اور وہ اپنی مرضی کی شرائط منوانے کی پوزیشن میں نہ ہو نگے۔باہمی دہڑے بندی سے طالبان کو بہت بڑا دہچکا پہنچا ہے، جس سے افغانستان میں آخر کار خانہ جنگی ختم ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ۔تاہم اب امن مذاکرات کے شروع ہونے کے امکانات تقریبا ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔
افغانستان میں ہر روز بم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ اور معصوم مرد ، عورتوں اور بچوں کا ناحق قتل ہورہا ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ۔ مگر طالبان، اقتدار کی جنگ اور قیادت کے لئے رسہ کشی میں مصروف ہیںجس کی وجہ سےاس خانہ جنگی کے مستقبل قریب میں ختم ہونے کے بظاہر کوئی آثار دکھائی نہ دیتے ہیں۔

Advertisements

“افغان طالبان کے امیرملا اخترمنصور ہلاک” پر 2 تبصرے

  1. My spouse and I stumbled over here different web address and thought I might check
    things out. I like what I see so now i am following you. Look
    forward to finding out about your web page yet again.

تبصرے بند ہیں۔