قندھار ہوائی اڈے پرافغان طالبان کا حملہ


afghan-taliban-launches-attack-on-kandahar-airport-1449599209

قندھار ہوائی اڈے پرافغان طالبان کا حملہ

افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے ہوائی اڈے پر طالبان ے حملے کے نتیجے 37 افراد ہلاک جبکہ 35 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق ابھی بھی ایک حملہ آور مزاحمت کررہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 9 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں، ایک زخمی ہے جبکہ ایک ابھی بھی مزاحمت کررہا ہے

ان کے مطابق حملے کے دوران اب تک 37 افراد ہلاک جبکہ 35 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں شہریوں کی تعداد کتنی ہے.

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے قندھار کے صوبائی گورنر کے ترجمان ثمیم خپلواک کے حوالے سے بتایا ہے کہ عسکریت پسند ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان لڑائی ہوئی اور علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں.انھوں نے بتایا کہ واقعے میں عام شہریوں اور فوجیوں سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے.دوسری جانب قندھار کے ایک فوجی کمانڈر داؤد شاہ وفادار کے مطابق واقعے میں 18 افراد ہلاک ہوئے ۔

An aerial view of the Kandahar Airport in Kandahar, Afghanistan is shown on June 22, 2005. (U.S. Army photo by Specialist Jerry T. Combes) (Released)

151208192030_afghanistan_army_police_640x360_epa

وسیع و عریض علاقے پر پھیلا قندھار ایئر پورٹ سویلین اور عسکری حصوں میں تقسیم ہے.
ایک اور فوجی ترجمان محمد محسن کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں نے ہوائی اڈے کے اندر واقع ایک اسکول میں پوزیشنز سنبھال لیں، تاہم انھیں ہوائی اڈے پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا.
قندھار کے ہوائی اڈے پر طالبان کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان صدر اشرف غنی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں.
اشرف غنی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "افغانستان میں تنازع کی پہلی وجہ دہشت گرد گروپس ہیں جو صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی بڑا مسئلہ ہیں”

http://www.dawnnews.tv/news/1030412/

 قندھار پر طالبان کے حملے میں 9 حملہ آوروں سمیت 45 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جن میں سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 30 سے زائد طالبان حملہ آوروں نے پہلے قندھار ایئرپورٹ کے گیٹ پر حملہ کیا اور اندر داخل ہوئے جس کے بعد تمام دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا جس کے نتیجے میں 45 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ افغان وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہیں، حملہ آوروں نے ایئرپورٹ پر موجود خواتین اور کئی بچوں کو بھی یرغمال بنا لیا جب کہ ایئرپورٹ کے احاطے میں افغان اور نیٹو فورسز کا مشترکہ ہیڈ کوارٹر بھی قائم ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایئرپورٹ پرحملے سے ایک گھنٹے قبل طالبان نے قندھار کے ایک پولیس اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا۔

http://www.express.pk/story/414088/

5667d9870d52a
افغانستان کے شہر قندھار میں منگل کی شام ایک فوجی اڈے پر طالبان کے حملے کے بعد سے وہاں افغان سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ جاری ہے۔
نیٹو اور افغان فورسز کے فوجی اڈے کے فصیل بند احاطے میں جس میں قندھار ہوائی اڈہ بھی شامل ہے، جاری شدید لڑائی میں کم از کم نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے نو میں سے پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ طالبان نے ایک کنبے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
منگل کی شام ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ قندھار افغان طالبان کا اہم مرکز رہا ہے۔
صوبائی حکومت کے ایک ترجمان کا کہا ہے کہ حملہ آور کمپلیکس کے پہلے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
قندھار ہوائی اڈے میں نیٹو اور افغان افواج کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان سمیم خوپلوق نے خبررساں ادارے ای ایف پی کو بتایا کہ ’کئی باغیوں‘ نے حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کمپلیکس کے اندر ایک سکول میں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔
قندھار ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر احمداللہ فیضی نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ لڑائی کے دوران کچھ مسافر ہوائی اڈے کے اندر پھنس گئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں کے بارے میں قیاس ہے کہ فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں یا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق منگل کی شب رات گئے لڑائی بند ہوگئی ہے۔
ایک طالبان نواز گروہ کا ایک ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ انھوں نے یہ حملہ ’مقامی اور غیرملکی فوجوں‘ کے خلاف کیا ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/12/151208_aghanistan_taliban_kandhar_attack_sh

151208155847_kandahar_airport_640x360_bbc_nocredit

6e3721ccb9f24d31bdefc5cfebc60852_18

df6dfd4bc8a84f02bb29aa93a56b4a5d_18
خودکش حملے ،دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ بے گناہوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔
علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔
اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور اپنا ہی ملک تباہ کر رہے ہیں۔ اسلام کسی بے گناہ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔وہ غیر مسلموں کو بھی قتل کی کوشش سے روکتاہے۔اسلامی ریاستوں پر حملہ کرنے والوں کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
طالبان میں سوائے خون خواری کرنے،اپنے مسلمان بھائیوں اور ساتھیوں کی جان کے درپے ہونے اور دہشت پھیلانے کے کچھ نہ ہے۔ طالبان افغانستان کے عوام کو پر امن ماحول فراہم کرنے اور ملک سے خانہ جنگی ختم کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان کا موجودہ حملہ ،ملا اختر منصور کی ہلاکت سے پیدا ہونے والی بحث سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔

Advertisements