لاہور کے تعلیمی اور سرکاری اداروں میں دہشتگردی کا خطرہ


news-1449681524-8196_large

لاہور کے تعلیمی اور سرکاری اداروں میں دہشتگردی کا خطرہ

لاہور کے تعلیمی اور سرکاری ا داروں میں دہشتگردی کا خطرہ،خفیہ اداروں نے دہشت گردوں کی کال ٹریس کرلی۔ کال کے پکڑے جانے کے بعد تعلیمی اور سرکاری اداروں کی سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس اور تمام سیکیورٹی اداروں کو سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور ان کی ٹرانسپورٹ کے نقل و حمل کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔

imagesھگت

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حساس اداروں کی جانب سے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں متحرک دہشت گردگروپ کے نمائندے نے مخلص کے نام سے کسی کمانڈر کوکال کرکے دبئی کے ایک ہوٹل میں ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے پیشرفت کے متعلق معلومات لیتے سنا گیا ہے۔
جواب میں کمانڈرکی جانب سے کہا گیا کہ وہ آرمی پبلک اسکول ورسک روڈ پر حملے میں ملوث 4 ساتھیوں کو پھانسی پر لٹکانے کا بھرپور بدلہ لیں گے، اس مرتبہ ان کا اقدام پہلے اقدام سے کہیں بڑا اور سنگین ہوگا۔
مذکورہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی و نگرانی کو انتہائی فول پروف رکھنے کیلیے کہا گیا اور تنبیہ کی گئی ہے کہ ان اداروں کی انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کرکے انھیں باورکرایا جائے کہ معمول سے ہٹ کرکسی حرکت کو دیکھیں تو فوری طور پر پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو آگاہ کریں، اسی طرح اسکول وین اور بسوں کی سیکیورٹی کے لیے انتظامات کرنے کا کہا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں خبردار کی گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں لاہورکے تعلیمی اداروں پر دہشتگردی کاخطرہ ہے۔ صوبائی و وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق دہشتگرد سرکاری سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہشتگردوں کی جانب سے بڑے حملے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دہشتگرد کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ حساس اداروں کی جانب سے دہشتگردی کے خدشات کی اطلاع وزارت داخلہ کو دی گئی۔ لاہورکے تمام بڑے تعلیمی اداروں میں سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

پاکستان ایک عرصہ سے دہشتگردی کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ پاکستان کو اب تک دہشتگردی کی وجہ سے 107 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہوچکا ہے اور اس کے 62000 شہریوں نےدہشتگردی کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا ہے۔ پاکستانی قوم دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم میں پر عزم ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنا ہماری بقاکےلیے ضروری ہے۔آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔یہ جنگ ہرپاکستانی کی جنگ ہے۔ملک بھرسے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔پاکستان دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ شر پسند عناصر کے خلاف بھر پور کارروائی کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا سہرا حکومت پاکستان کے سر ہے، دہشتگرد پسپا ہورہے ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیاہے۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے ۔ دہشتگردوں کا تعلق اسلام سے نہیں، اسلام معصوم لوگوں کے قتل کی تعلیم نہیں دیتا. بیگناہ بچوں اور خواتین پر حملے کرنے والوں کا تعلق کسی بھی طرح اسلام سے نہیں ہوسکتا.طالبان کا طرز عمل اسلام اور اسلامی نظریات سے متصادم ہے۔ طالبان کو اسلام کی تشریح کا اختیار کس نے دیا ہے؟طالبان کو تو جہاد و قتال کے بنیادی تقاضوں کا بھی علم نہ ہے۔ طالبان کو علم ہونا چاہئیے کہ بدلہ لینا جہاد نہ ہے۔ جہاد تو اللہ کی رضا کے لئے کی جاتی ہے۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں قومی اتحاد کی ضرورت ہے، پاکستان فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے انشاء اللہ دہشت گردوں کو شکست ہو گی، شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو صوبہ خیبر پی کے میں تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی ۔ دہشت گردی کا شکار سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا، شہدا کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے نظریئے کو بھی ہر قیمت پر شکست دی جائے گی،ملک کے چپے چپے سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردوں، انہیں فنڈ ز اور سہولت دینے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا،دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے قومی اتحاد بہت ضروری ہے،اس جنگ میں پاکستانی عوام اور فورسز نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، یہ ہمارے حقیقی ہیروز ہیں اور ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں ۔وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کے ہر کونے اور چپے چپے سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی میں پاک سرزمین پر ایک بھی دہشت گرد کو باقی نہ چھوڑا جائے، پوری سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عسکری قیادت کی پشت پر کھڑی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان میں اب دہشت گردوں کی شکست کا آغاز ہو چکا ہےاور پاکستان کی سرزمیں دہشتگردوں کےلئے تنگ ہو گئی ہے۔
پاکستان کو یقین ہے کہ طالبان دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں، اُن کا کوئی وطن اور مذہب نہ ہے۔ دہشتگردوں کو انسانیت سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئے لڑ رہے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے، ہر دم چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Advertisements