پاراچنار دہماکہ میں خواتین و بچوں سمیت 25افراد جاں بحق


news-1449993489-9363_large

پاراچنار دہماکہ میں خواتین و بچوں سمیت 25افراد جاں بحق

اپرکرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار کی عیدگاہ ,لنڈا مارکیٹ میں دھماکے سے کم ازکم 25افراد جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کرناشروع کردیاگیا،زیادہ ترزخمیوں کے جسم کے بالائی حصوں پر زخم آئے ہیں جس سے شبہ ہے کہ دھماکہ خیزمواد کسی اونچی جگہ پر رکھاگیاتھا۔

566d5b6b264af

پولیس کے مطابق عید گاہ کے علاقے میں ہونیوالے دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیر ے میں لے لیا جبکہ موقع سے دومشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیاگیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 23شدید زخمیوں کو آرمی کے دو ہیلی کاپٹروں میں پشاور منتقل کیا گیا۔امدادی کارروائیوں میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 35کلو وزنی مواد استعمال کیا گیا جس کو عید گاہ کے قریب ہی ایک ٹھیلے میں نصب کیا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایاکہ ایجنسی ہیڈکوارٹرہسپتال پارہ چنار میں خون کی قلت اور مشینری کم پڑگئی ، زیادہ ترزخمیوں کے جسم کے بالائی حصے پر چوٹیں آئی ہیں ، ہسپتال میں سٹاف اور ادویات کی کمی کی وجہ سے زخمیوں کودیگرعلاقوں کے ہسپتالوں میں منتقل کیاگیا۔ عینی شاہدین نے بتایاکہ دھماکہ ویگنوں کے سٹینڈ میں موجود کچرے کے ڈھیر میں ہواہے ۔ طوری بنگش قبائل نے اس واقعہ کیخلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/national/13-Dec-2015/306843

415149-Untitled-1449994838-564-640x480
کرم ایجنسی کے علاقے پارا چنار میں لگائے گئے لنڈا بازار میں بم دھماکہ کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 25افراد جاں بحق اور 60سے زائد زخمی ہوگئے۔تمام افراد کا تعلق مقامی طوری بنگش قبائل سے ہے ۔
عسکریت پسند تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے کرم ایجنسی کے ایک مصروف بازار میں بم دھماکے  کی ذمہ داری قبول کر لی۔
تنظیم کے ’ترجمان ‘ علی بن سفیان نےمیڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل پیغام میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران اور بشار السد کی حمایت کرنے کا بدلہ لینے کیلئے بازار میں آئی ای ڈی کے ذریعے بم دھماکا کیا۔

130726163458_pakistan_blast_kurram_624x351_getty_nocredit
’ہم شیعہ والدین کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے بشار السد کی جنگ میں اپنے بچوں کو بھیجنے سے نہ روکا تو آئندہ بھی انہیں ایسے حملوں کا سامنا رہے گا‘۔
صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم نوازشریف، وزیر داخلہ چودھری نثار، سپیکر وڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، آصف زرداری، عمران خان، سراج الحق، طاہر القادری سمیت دیگر سیاسی رہنمائوں نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے جاںبحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ اسکے ملک سے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔ وزیرداخلہ چودھری نثار نے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تعطیل کے باعث بازار میں عمومی دنوں سے زیادہ لوگ تھے۔

566d4127e8dfc
پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا اور ان کی تدفین کر دی گئی ہے تاہم ساجد حسین توری کا کہنا ہے کہ سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس حملے میں نشانہ بنے۔
130424135238_parachina624_2
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سانحہ پارا چنار پر تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ مکتب تشیع اور بالخصوص پارا چنار کے عوام کو حب الوطنی کی سزا دی جا رہی ہے، صوبے اور وفاق ضرب عضب کی کامیابی میں سنجیدہ نہیں ہیں، سیاسی رسہ کشی میں آپریشن ضرب عضب کمزور پڑ رہا ہے۔ جب تک کالعدم جماعتوں پر صحیح طریقے سے ہاتھ نہیں ڈالا جاتا ضرب عضب کی کامیابی ناممکن ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے میں دو درجن ہلاکتوں کے خلاف تین روزہ سوگ کے پہلے دن پاڑہ چنار شہر کے تمام بازار اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف پاڑہ چنار میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔ساجد حسین توری نے بتایا کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی کوشش تھی کہ آرمی پبلک سکول کی پہلی برسی سے قبل خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہ ہو۔ ان کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے باعث شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن وہ مکمل طورپر ختم نہیں ہوئے اور اس واقعے سے بظاہر لگتا ہے کہ وہ بدستور متحرک ہیں جن کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘
آل عمران، 3 :
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں
يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.
’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘
اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔کسی بھی کلمہ گو کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام ہے اور اسلام تو اقلیتوں کے بھی جان و مال کے تحفظ کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔لشکر جھنگوی العالمی ( یہ لشکر جھنگوی سے علیحدہ ہونے والا ایک گروپ ہے) دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں خواتین اور بچوں کے قتل،دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اخوت، میل ملاپ اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ کسی بے قصور شخص کو مارنا یا قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے ۔مُحسنِ انسانیت نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں.
کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والےمسلمان نہیں ؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ۔اور بعض اوقات ہم حیوانیت کے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ مسلمان اور انسان کہلانے پر شرم محسوس ہوتی ہے۔ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں صرف شیعہ مسلمان ہی نہیں مارے جارہے بلکہ ان کے ہاتھ سنی مسلمانوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے داخلی دفاع کو شدید نقصان، فرقہ واریت نے ہی پہنچایا ہے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ دہشتگردگروپس طاقت کے بل بوتے پر اپنے سیاسی و مذہبی عقائد، پاکستان کے عوام پر زبردستی مسلط کرنے کے درپے ہیں ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان کی گئی ہے۔ اسلام برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پرکسی مسلمان کا قتل کسی طور جائز نہیں ۔

Advertisements