سانحۂ پشاور کی برسی


10247452_875886089123436_2343732881306060053_n

سانحۂ پشاور کی برسی

گزشتہ سال 16 دسمبر کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب آرمی پبلک اسکول پشاور میں طالبان  دہشتگردوں کی فائرنگ سے اساتذہ اور طلبا سمیت 150 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کو ایک برس پورا ہونے کو ہے لیکن اس حملے کا نشانہ بننے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کے گھاؤ ابھی بھرے نہیں ہیں۔ سانحہ پشاور کے کرب سے گزرنے والی ماؤں کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ سانحہ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں نے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ان کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔

CWUyZjOWsAIxtdn

CWVgHbnWUAAERt8

CWVRgWKWoAA3m8f

hall-of-blodd-825x510

CWQipiqWoAAYFGg.jpg large

CWQfiRpWoAExN3R

12369062_1533398286983181_2472051744158649181_n

CWVMCnzWEAAnD4H

CWVL5PKWUAANZ5L

پاکستان کی صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے گذشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کی پہلی برسی کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ سانحہ آرمی پبلک کے سکول کی پہلی برسی کے موقع پر مختلف غیر سرکاری تنظیموں اور فلاحی اداروں کی جانب سے تقاریب منعقد کی جائیں گی جس میں شہداء کی یاد میں شمعیں جلائی جائیں گی اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے قرآن خوانی اور اجتماعی دعائیں کی جائیں گی ۔

indexaa
اس واقعے کی دنیا بھر میں شدید مذمت کی گئی تھی جبکہ پاکستان میں سیاسی اور فوجی قیادت نے شدت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا۔

12316435_1528696974111496_8370128736358883118_n

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ وطن کیلئے قربانیاں دینے والوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں اور اقدامات پر ثابت قدم رہیں گے۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا گیااور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا گیا۔

peshawar-school-attack

10845814_10152993846477044_2895976260147849174_o

"جہل اورانتہاء پسندی کے راستے پرگامزن گمراہ گروہ کے شقی القب افراد نے گزشتہ برس پھول جیسے معصوم طلباوطالبات کوانتہائی سفاکانہ اور بے رحمانہ انداز میں قتل کیا،ایسا ظلم ایسی بربریت کا نظارہ چشم فلک نے کم ہی دیکھا ہوگا۔

تاریخ انسانی کاایک المناک سانحہ،جس کے مندرجات سننے یا دہرانے کی نہ تاب ہے اورنہ کسی صاحب دل میں ہمت ۔ ماؤں کے کلیجے شق ہوگئے،کیسی قیامت تھی جو ان پر ٹوٹ پڑی تھی، ہر آنکھ سے اشکوں کی لڑی جاری تھی ،جو رکنے کا نام نہ لیتی تھی ، یہ کاری وار اس لیے کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی رک جائے، جہل کا راج ہوجائے، ارض وطن کے پھول تعلیمی درسگاہوں میں علم وآگہی کی روشنی حاصل نہ کرسکیں، قوم کے حوصلے پست ہوجائیں، لیکن پہلے تو شہید بچوں کے والدین نے صبرکی انتہاء کردی ، جس ہمت ،جرات اور استقلال کا مظاہرہ ان معصوم شہیدوں کے ورثاء نے کیا، وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔”

http://www.express.pk/story/415823/

نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائیوں کے نتیجے میں ملک میں عمومی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے تاہم طالبان قیادت بدستور موجود ہے۔
اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے احمد نواز برطانیہ کے شہر برمنگھم میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی والدہ ثمینہ نواز بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔
ثمینہ نواز نے 16 دسمبر 2014 کو ایک ہی دن میں جہاں ایک بیٹا کھویا، وہیں دوسرا اب تک بسترِ علالت پر ہے جبکہ تیسرا بیٹا آج بھی اس دن کی خوفناک یادوں سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پا سکا۔
ہم بہت خوبصورت زندگی گزار رہے تھے، تین بچے، ایک اچھا وقت، لیکن ان دہشت گردوں نے ہماری زندگی تباہ کر کے رکھ دی۔‘
مینہ نواز کا کہنا تھا کہ ’میرا ایک بچہ شہید ہو گیا ہے اور ایک زخمی ہے اور سب سے چھوٹا کافی دنوں تک سکول نہیں جاتا تھا۔ لیکن اگر ہم ان دہشت گردوں کے ڈر سے اپنے بچوں کو گھر بٹھا دیں، تو ہمارے بچوں میں وہ شعور پیدا نہیں ہو گا۔’ہم چاہتے ہیں کہ علم اور تعلیم کے ذریعے ان بچوں میں شعور پیدا کریں تا کہ یہ ان دہشت گردوں سے علم کے ذریعے لڑ سکیں۔‘
دہشتگردی کا خاتمہ صرف فوج کے بس کی بات نہیں بلکہ اسے صرف اور صرف تعلیم کے فروغ سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔

Relatives mourn
اے پی ایس کے قیامت خیز سانحے کو کل ایک سال ہو جائے گا،اس دوران کئی دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا مگر شہید طلبا کے والدین کا دل اب بھی خون کے آنسو روتا ہے اور وہ ایسے سانحات کو روکنے کے لئے دہشتگردوں کی مکمل سرکوبی چاہتے ہیں۔

10868176_928892967151041_279867732520847110_n

پاک فوج کی جانب سے دہشتگردوں کی مکمل سرکوبی کیلئے جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا، آپریشن کے دوران پاک فوج کے جوانوں کی بھرپور کارروائیوں کے باعث طالبان دہشتگردوں کی کمر توڑی جا چکی ہے۔ ارض پاک کودہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کیلئے ملک کے کونے کونے میں بلاامتیازآپریشن کے سواکوئی چارہ نہیں۔ دہشت پسندقوتوں کے خلاف  ایک آپریشن ضرب غضب کے نام سے جاری ہے جس نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھد ی ہے اور دہشتگرد بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے لے کر اب تک چونتیس سو سے زائد دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔
قوموں کی زندگیوں میں بجا طور پر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ان ترجٰیحات کو بدل ڈالتے ہیں۔ سانحہ پشاور کو بھی اس سرزمین پر دہشت گردی کی ایسی کاروائی سے منسوب کیا گیا جس نے انتہاپسندی کے عفریت کو پوری طرح نے نقاب کر کے رکھ ڈالا۔ اس ضمن میں سیاسی اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اس پختہ عزم کا اظہار کیا جس کی ایک جھلک کسی نہ کسی شکل میں اب بھی نظر آرہی۔ اس میں شک نہیں کہ انتہاپسندی کے خلاف جن بیس نکات کو منظور کیا گیا اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوسکا مگر حکومت پر بجا طور پر یہ دباو موجود ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمہ کے مذید موثر اقدمات اٹھائے۔

CWQhuMoWsAAcO7-

CWQhyfZXAAAQYjj

طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ اسلامی شریعہ کے مطابق عورتوں اور بچوں کا قتل باقاعدہ جنگ میں میں بھی منع ہے۔طالبان نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان بلکہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
آج کے دن پوری پاکستانی قوم اس عزم کودہرائے گی کہ ہم دہشت گردی کی کسی بھی صورت کو برداشت نہ کریں گے ۔آج کے دن ہمیں تمام دنیاکویہ پیغام دیناچاہیں گے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی مانندہیں اس قوم کاہرجوان،ہربزرگ،ہرخاتون اورہربچہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے میں اپنے کردارکیلئے پرعزم ہے پوری قوم اپنی بہادراورجری افواج کی پشت پرہے۔ تمام پاکستانییوں کی ہمدردیاں شہیدہونے والوں کے ورثاء کے ساتھ ہیں ان میں ہرایک کاغم ان کاذاتی نہیں پوری قوم کاغم ہے شہیدہونے والے بچے اوراساتذہ اس ملک اور قوم کاقیمتی سرمایہ تھے ،ہیں اورتاقیامت رہیں گے۔

Advertisements