لاہورمیں خودکش حملوں کا خطرہ ہے


416495-Security-1450390923-450-640x480

لاہورمیں خودکش حملوں کا خطرہ ہے

سیکریٹری داخلہ پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے کہا کہ لاہور میں بدستور خودکش حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ایجنسیوں کی رپورٹ پر محکمہ داخلہ نے پورے صوبے میں سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں کو خبر دار کیا کہ جن شہروں میں خود کش حملوں کا خدشہ ہے وہاں حملہ آور پیدل، موٹر سائیکل یا موٹر کار پر سوار ہو گا اور عمر 20 سے23 سال تک ہو سکتی ہے، حملہ آور سر پر ہیلمٹ پہنے ہوئے، شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ میں ملبوس ہو سکتے ہیں۔

w460fff

سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی اور امن و امان کی صورت حال کو قابو میں رکھنے کیلیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں، 5 اضلاع لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، مظفر گڑھ اور راولپنڈی کو حساس قرار دیا گیا ہے، آج جمعے کے موقع پر پنجاب میں مساجد، امام بارگاہوں اور دربار کی حفاظت کے لیے پولیس کے جوان اور کمانڈوز تعینات ہوںگے، ہنگامی بنیادوں پر ٹریننگ کرنیوالے رنگروٹس کو بھی تعینات کیا گیا ہے ۔
http://www.express.pk/story/416495/

556bf28a592afaaa
طالبان کی دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ پاکستان ایک عرصہ سے طالبان کی دہشتگردی کے نشانہ پر ہے ۔ پاکستان کو اب تک دہشتگردی کی وجہ سے 107 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہوچکا ہے اور اس کے 62000 شہریوں نےدہشتگردی کا نشانہ بنے ہیں۔ پاکستانی قوم دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم میں پر عزم ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقاکےلیے ضروری ہے۔پاکستان آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھے گا ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔یہ جنگ ہرپاکستانی کی جنگ ہے۔ملک بھرسے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔پاکستان دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ شر پسند عناصر کے خلاف بھر پور کارروائی کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا سہرا افواج پاکستان کے سر ہے، دہشتگرد پسپا ہورہے ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیاہے۔
طالبان دہشتگردوں کا تعلق اسلام سے نہیں، اسلام معصوم لوگوں کے قتل کی تعلیم نہیں دیتا. بیگناہ بچوں اور خواتین پر حملے کرنے والوں کا تعلق کسی بھی طرح اسلام سے نہیں ہوسکتا.طالبان کا طرز عمل اسلام اور اسلامی نظریات سے متصادم ہے۔ طالبان کو اسلام کی تشریح کا اختیار کس نے دیا ہے؟طالبان کو تو جہاد و قتال کے بنیادی تقاضوں کا بھی علم نہ ہے۔ طالبان کو علم ہونا چاہئیے کہ بدلہ لینا جہاد نہ ہے۔ جہاد تو اللہ کی رضا کے لئے کی جاتی ہے۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے ۔خودکش حملے خلاف اسلام ہیں۔طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں قومی اتحاد کی ضرورت ہے، پاکستان فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے انشاء اللہ دہشت گردوں کو شکست ہو گی ۔ دہشت گردی کا شکار سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور معصوم شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا، شہدا کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے نظریئے کو بھی ہر قیمت پر شکست دی جائے گی،ملک کے چپے چپے سے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی میں پاک سرزمین پر ایک بھی دہشت گرد کو باقی نہ چھوڑا جائے، پوری سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عسکری قیادت کی پشت پر کھڑی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان میں اب دہشت گردوں کی شکست کا آغاز ہو چکا ہےاور پاکستان کی سرزمیں دہشتگردوں کےلئے تنگ ہو گئی ہے۔
طالبان دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں، اُن کا کوئی وطن اور مذہب نہ ہے۔ دہشتگردوں کو انسانیت سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئے لڑ رہے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے، ہر دم چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Advertisements