مردان میں خودکش حملہ،26 افراد شہید،50زخمی


news-1451381309-4494_large

مردان میں خودکش حملہ،26 افراد شہید،50زخمی

مردان میں دوسہری چوک میں نادراآفس کےاحاطے میں خودکش حملے کے نتیجے میں 26افرادشہیدجبکہ50 زخمی ہوگئے ہیں جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کرکے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔

568257749c68c
تفصیلات کے مطابق نادرا آفس کےاحاطے میں ہونیوالے خودکش حملے میں اب تک 26 افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں ایک بچہ اور خواتین بھی شامل ہیں ۔۔ شہید ہونے والوں میں نادرا آفس کا سیکیورٹی گارڈ اور کمپیوٹر آپریٹر بھی شامل ہیں۔

mardan-1
ڈی پی او مردان فیصل شہزاد کے مطابق موٹر سائیکل سوار دہشتگرد نے نادرا آفس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور ناکامی پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ خودکش حملہ آور کی ٹانگیں اور سر مل گیا ہے۔دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں ۔زخمیوں کو ضلعی ہسپتال اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ شدید زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا جارہا ہے۔

1018113-mardanmain-1451385788-681-640x480
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں 8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
اے آروائے نیوز کے مطابق ابتدائی طورپر ایک چھوٹا دھماکہ ہوا جس کے بعد قطاروں میں لگے شہری اور نادرا کا عملہ گیٹ کی طرف بھاگا تو گیٹ کے قریب ہی زور دار دھماکہ ہوا جس کی زد میں آکر بیشتر لوگ متاثر ہوئے ، دیوار کے قریب دھماکے کی جگہ پر تباہ شدہ ایک موٹر سائیکل بھی موجود ہے جبکہ عینی شاہدین کا کہناہے کہ لوگوں کے باہر نکلتے ہی خود کش حملہ آور نے اسی اثناٗء میں اپنی موٹرسائیکل دیوار سےٹکرادی ،کئی لوگ شیشے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں ۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا اور سیکیورٹی اداروں سے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی جبکہ چیئرمین نادرانے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور ڈی جی نادرا پشاور کو فوری طور پر مردان پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی صوبائی حکومت کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/mardan/29-Dec-2015/313375

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے مردان میں نادرا دفتر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ نادرا ایک ریاستی ادارہ ہے لہٰذا ایسے ادارے ان کے نشانے پر رہیں گے۔

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151229_mardan_nadra_blast_zs

asd

 جماعت احرار و طالبان کی دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ جماعت  احرار وطالبان  دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔جماعت احرار وطالبان نے پولیس اور دفاعی افواج پر براہ راست حملے کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔جماعت  احرار و طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے 62000 پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقتصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب  107ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے اور معیشت عدم استحکام کا شکار ہوئی ہے۔
اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔ جماعت احرار و طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق اور بچوں عورتوں کو  حالت جنگ میں بھی جنگ کا ایندہن نہ بنایا جا سکتا ہے۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔
جماعت  احرار و طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. مٹھی بھر دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا، دہشت گرد دہشت گرد ہی ہوتا ہے۔

Advertisements