ملا منصور کی ہلاکت کا معاملہ


931523-MullahAkhtarMansoor-1438597752

ملا منصور کی ہلاکت کا معاملہ
ملا منصور کی ہلاکت کا معاملہ افغان طالبان کی طرف سے انکے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبر کی تردید اور اس بارے میں متنازعہ خبروں کے سامنے آنے کے سبب یہ ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔ طالبان کے متعدد ذرائع یہ کہہ چُکے ہیں کہ ملا اختر منصور، جن کی لیڈرشپ کو طالبان ہی کے ایک حریف دھڑے نے مسترد کر دیا ہے، پاکستانی صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نزدیک ایک اور طالبان لیڈر کے گھر پر مسلح جھڑپ میں شدید زخمی ہوا تھا اور غالباً اُس کی موت واقع ہو چُکی ہے۔

563b6b9badf27

ملا اختر منصور کے بارے میں خبروں کو مبہم اور معمہ اس لیے بھی سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان کے بانی ملا محمد عُمر کی موت کے بعد بھی ایسی ہی پرسرار صورتحال سامنے آئی تھی۔ ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق اُس کے مرنے کے دو سال بعد گزشتہ جولائی میں ہوئی تھی۔اس لحاظ سے افغان طالبان کا گذشتہ ریکارڈ بالکل اچھا نہ ہے۔ معاملہ کو لٹکانے سے یہ مزید الجھے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز افغانستان میں ایک نامعلوم مقام پر طالبان کے 2 مخالف دھڑوں کے وفود کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں جانب سے آپس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کیا گیا ۔
اٖفغان طالبان کے مخالف دہڑے ،ملا محمد رسول اخوند کے نائب ملا عبدالمنان نیازی نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وفد کو طالبان امیر ملا اختر منصور سے ملنے نہیں دیا گیا، وفد کی ملاقات ملا اختر منصور کے نائب ہیبت اللہ اخوند سے کرائی گئی جس میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث ملا اختر منصور سے کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔
ملا عبدالمنان کا کہنا تھا کہ دوسرے لوگوں کی طرح ہمیں بھی خدشہ ہے کہ ملا اختر منصور ہلاک ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہیبت اللہ اخوند نے ہمارے وفد کو ملا اختر منصور سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ http://www.express.pk/story/424451/
سینئر افغان طالبان رہنماؤں نے ملا اختر منصور کے جاری ہونے والے آیڈیو پیغام کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملا اختر منصورزندہ نہیں ہلاک ہوچکے ہیں،ملتی جلتی آواز میں آڈیو جاری کرنے کا مقصد گروپ کو اچانک صدمے سے باہر لانا اور نئے امیر کے انتخاب کیلئے وقت لینا ہے۔
ملامنصور کی ہلاکت کی صورت میں افغان طالبان کی صفوں میں پہلے جیسا اتحاد قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ ملا منصور کی موت کی خبر کو چھپانا ایک دو دہاری تلوار ہے اور دونوں صورتوں میں طالبان کی صفوں میں اتفاق قائم کرنا مشکل ہوگا۔۔طالبان کے چند دھڑے پہلے ہی امن مذاکرات سے خو ش نہیں ہیںاور اب ملا منصور کے بارے میں ایسی خبروں سے مزید ابہام بڑے گا اور غیر یقینی کی صورتحال طول پکڑے گی ۔ یقیننا طالبان میں پیدا ہونے والے اختلافات اور اس مہم میں پڑنے والی دراڑیںافغان حکام کو سہولت میسر کریں گی طالبان عناصر کو امن کا قائل کرنے یا انہیں الگ تھلگ کرنے کےعمل میں۔
حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ ملا اختر منصور پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں اور طالبان ان کی موت کو ملا عمر کی موت کی طرح ، اپنا اتحاد برقرار رکھنے کیلئےچھپا رہے ہیں۔طالبان کب تک جھوٹ کے سہارے چلتے رہیں گے۔ سچ ایک دن ظاہر ہو کر رہے گا۔

Advertisements