جیش محمد، ایک دہشتگرد تنظیم


CYqwTQ7UkAAgFBo.jpg large

جیش محمد، ایک دہشتگرد تنظیم
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بہاولپور کے علاقے میں چھاپے مار کر جیش محمد تنظیم کے 13 افراد کے ہمراہ گرفتار کیا جن میں مولانا مسعود اظہر کے بھائی مفتی عبد الروف اصغر اور ان کےدیگر قریبی ساتھی شامل ہیں ۔ پاکستان بھر میں جیش محمد کے دفاتر کو سیل کردیا گیا ہے۔

CXsgp9QWEAA_Ql6
،مولانا مسعود اظہر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آجکل بہاولپور میں موجود نہیں تھے،سیکیورٹی اداروں نے انہیں کسی دوسرے مقام سے گرفتار کرنےکے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر کے پٹھان کوٹ حملے سے متعلق پوچھ گچھ شروع کردی ہے ۔واضح رہے کہ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس حملے کے پیچھے جیش محمد کا ہاتھ ہے اور مولانا مسعود اظہر مبینہ طور پر اس حملے کے ماسٹر مائینڈ ہیں، بھارت کی جانب سے15جنوری کو سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کو بھی مولانا مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری سے مشروط کیا جا رہا تھا۔ مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کو پٹھانکوٹ حملے کے تناظر میں پاکستان کی طرف سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

imagesvgy
جیشِ محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر بھی اپنے بیشتر ہم عصر شدت پسندوں کی طرح افغان جہاد کی پیداوار ہیں۔دہشتگرد تنظیم، جیش محمد مولانا مسعود اظہر نے بھارتی قید سے رہائی پانے کے بعد 2000 میں قائم کی تھی. طالبان کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات ہے۔ جیش محمد کو طالبان کی دوسری تنظیم بھی مانا جاتا ہے۔ جیش محمد والے اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کو اپنا امیر سمجھتے تھے۔ حکومت پاکستان نے جب جہادی تنظیموں پر پابندی عائد کی تو اس کا نام تبدیل کرکے خدّام اسلام کردیا گیا. جیش محمد کے الرحمت ٹرسٹ کی جانب سے ایک ہفت روزہ القلم شائع کیا جاتا ہے جو پاکستان بھر میں بھاری تعداد میں فروخت ہوتا ہے۔پٹھان کوٹ پر حملہ آور دہشتگردوں کا تعلق جیش محمد تنظیم سے ہے۔جیش محمد کے فرقہ ورانہ دہشتگرد تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ساتھ بھی لنکس ہیں۔ جیش محمد کے تعلقات القاعدہ، طالبان اور شمالی وزیرستان کے حقانی نیٹ ورک سے بھی ہیں بھارتی جیل سے رہائی کے بعد مولانا مسعود اظہر کچھ عرصہ افغانستان میں ہی رہے اور پھر تھوڑے عرصے جیش محمد کے نام سے نئی جہادی تنظیم قائم کی ۔بھارت نے 2001میں پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کا الزام بھی جیش محمد پر عائد کیا تھا ۔ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کی عمر تقریبا 50سال کے قریب ہے ،وہ کافی پڑھے لکھے انسان ہیں ،انہوں نے کراچی بنوریہ سے تعلیم حاصل کی ۔انہوں نے کہا کہ مسعود اظہر عربی زبان پر قدرت رکھتے ہیں اورانہوں نے جہاد پر کتابیں بھی لکھی ہیں ۔ مسعود اظہر اپنے لڑکپن میں افغان اور کشمیر جہاد میں بھی شریک رہے ۔سری نگر میں مجاہدین کے دو گروپس آپس میں ٹکر ار ہے تھے تو مسعود اظہر دونوں گروپوں کے درمیان صلح کروانے کیلئے سری نگر پہنچ گئے لیکن وہاں مخبری ہو گئی اور بھارتی سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا جس کے بعد انہوں نے تقربیا 5سال بھارتی جیل میں گزارے ۔اس کے بعد بھارت کا ایکجہاز اغواءہوا جسے افغانستان کے شہر کابل لا یا گیا اور یہاں پر بھارتی حکومت نے مجبور ہو کر مولانا مسعود اظہر کو چھوڑ دیا کیونکہ مسافروں کی زندگیاں خطرے میں تھیں ۔مولانا مسعود اظہر رہا ہونے کے بعد چوری چھپے پاکستان آ گئے۔
پاکستان واپسی پر انہوں نےمولانا فضل الرحمٰن خلیل کے ساتھ مل کر حرکت المجاہدین کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی۔۔ فضل الرحمٰن خلیل سے اختلافات کے باعث مولانا مسعود اظہر نے جیش محمد کے نام سے اپنی تنظیم کا اعلان کراچی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔

jaish_e_mohammed
بھارتی پنجاب کے ضلع پٹھانکوٹ میں بھارتی فضائیہ کی ایئربیس پر ہفتے کو صبح تین بجے کے قریب دہشت گردوں نے گھس کر حملہ کر دیا جس سے ابتدائی طور پر بھارتی ایئر فورس کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع ملی جب کہ فورسز کی جوابی کارروائی سے پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو سرچ آپریشن کے دوران بھی پٹھانکوٹ ایئر بیس پر دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں، سرچ آپریشن کے دوران گرنیڈ دھماکے سے ایک لیفٹیننٹ کرنل ہلاک اور تین سپاہی زخمی ہو گئے۔
ذرایع کے مطابق حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر لیفٹیننٹ کرنل سمیت گیارہ بھارتی فوجی ہلاک اور 18زخمی ہوئے ہیں۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس حملے کے بعد نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ پاکستان نے بھارتی شہر پٹھانکوٹ میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان پٹھانکوٹ میں دہشت گرد حملے جس میں کئی قیمتی جانیں ضایع ہوئیں‘ کی مذمت کرتا ہے، پاکستان بھارتی حکومت اور بھارتی عوام کے ساتھ دلی افسوس اور دکھ کا اظہار کرتا اور اس واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ انسانیت کے دشمنوں نے پٹھانکوٹ ائیر بیس پر حملہ کیا جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا.انسانیت کے دشمن بھارتی ترقی اور خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتے ۔
پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ بھارتی حکومت کو بھی اس امر کا ادراک ہو چکا ہے کہ اس کے اپنے ہاں بھی دہشت گردوں کے ایسے منظم گروہ موجود ہیں جو اس خطے میں امن اور خوشحالی نہیں چاہتے بلکہ ان کا ایجنڈا اسے عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
ادہر پاکستان میں دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے ایک ویب سائٹ پر پٹھان کوٹ میں ہوئے حملے سے متعلق کئی باتوں کا انکشاف کیا ہے۔ جیش محمد نے 2جنوری کو پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے ہوائی اڈے پر ہوئے حملوں کے بارے میں http://www.alqalamionline.com پر ایک آڈیو کلپ جاری کر کے بتایا ہے کہ دہشت گردوں نے کس طرح سے اسے انجام دیا ہے؟ مولانا مسعود اظہر کے ہوم ٹاؤن بہاولپور سے شائع ہونے والے ایک اردو اخبار میں 13 منٹ کے یہ آڈیو کلپ کوشائع کیا ہے۔ آڈیو کلپ میں کئی مقامات پر کہا گیا ہے کہ کس طرح سے اس کے لوگوں نے ’ہندوستانی ٹینک، فوج کی گاڑیوں اور ہیلی کاپٹرس پر فائرنگ کی۔‘ آڈیو کلپ میں بول رہا شخص پاکستانی حکومت کو ہندوستان کی جانب سے پیش کئے ثبوتوں کو قبول نہ کرنے کی تنبیہ دیتا ہے۔’پاکستان کے رہنما انڈیا کے الزام کے سامنے کیوں جھکتے ہیں؟ کیوں شرماتے ہیں؟ ‘ وہ مذاق اڑاتا ہے کہ کس طرح ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیاں چھ ’مجاہدین‘ سے نہیں نمٹ سکیں۔ وہ لیفٹیننٹ کرنل نرنجن کمار اور شوٹر فتح سنگھ کی شہادت کو بھی مسترد کرتے ہوئے وہ کہتا ہے،’بری طرح مارے گئے وہ لوگ۔ پہلے انہوں نے کہا کہ چھ مجاہدین ہیں۔ پھر کہا، پانچ ہے اور اس کے بعد، چار۔ اتنا بڑا ملک آنسوؤں میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ بزدلوں کی طرح الزام لگا رہے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 70کے لگ بھگ جہادی یا طالبان گروپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 گروپ ایسے ہیں جو کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اپنے نظریات بندوق یا تشدد کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ فکری یا سیاسی جدوجہد کی بجائے باقاعدہ جنگ کرتے آئے ہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 62ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنائے گئے جبکہ اب بھی یہ لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محققین کے مطابق جہادی تنظیموں یا گروپوں کی بنیادیں مختلف ادوار میں رکھی جاتی رہی ہیں۔

وزیر اعظم نوازشریف نےایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی وانتہا پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سرزمین بھارت سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی ۔وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پاکستان بھارت کے ساتھ رابطے میں رہے گا اور مکمل تعاون جاری رکھے گا ۔مگر

کالعدم تنظیم جیش محمد نے سماجی رابطے کے اپنے صفحے پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ کارکنوں کی گرفتاریوں سے تنظیم اور اس کے مقاصد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

فیس بک پر ’مکتب الامیر‘ نامی صفحے، جس پر جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے ذاتی پیغامات اور مضمون شائع کیے جاتے ہیں، اس صفحے پر جمعرات کی صبح شائع ہونے والے ایک پیغام میں کیا گیا ہے کہ ان گرفتاریوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’کافر اور منافق ہماری گرفتاری پر خوشیاں منا رہے ہیں، وہ گرفتاری جو ہوئی ہی نہیں، اور اگر ہو بھی جائے تو کیا فرق پڑے گا؟ کچھ بھی نہیں۔‘

اس مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ان گرفتاریوں سے تنظیم کے عزائم اور’جہاد‘ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

پاکستان خود ایک عرصہ سے دہشتگردی کا شکار ہے جس میں اس کے 62000 معصوم اور بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں اور پاکستان کی معیشت کو 107 بلین ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔دہشتگردوں اور دہشتگردی کے واقعات کی حمایت کسی صورت بھی پاکستان کے مفاد میں نہ ہے۔ جیش محمد جنوبی ایشیا کے استحكام اور خطہ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ دہشتگردی کے خاتمہ اور اس کو شکست دینے کے لئے خطے کے تمام ملکوں کو مل جل کام کرنا چاہئیے۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان اور علاقہ کا امن تباہ کرنے کرنے کےل ئے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. مٹھی بھر دہشت گردوں کو اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا، دہشت گردصرف اور صرف دہشت گرد ہی ہوتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پختہ عزم کرچکی ہے کہ پاکستان کی سرزمین بھارت اور افغانستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔دہشت گردی پاک کرنے کیلئے تمام متعلقہ ملکوں کا ایک دوسرے سے پوری نیک نیتی کے ساتھ تعاون ناگزیرہے، اس کے بغیر کوئی ملک بھی دہشتگردی کےاس عذاب سے نجات نہیں پاسکتا۔

علاقہ کے لوگوں اور حکومتوں کو دہشتگردی کے خطرات اور دہشتگردوں کے مذموم عزائم سے خبردار و ہو شیار رہنا چاہیے کیونکہ دہشت گرد نچلا نہیں بیٹھیں گے اور دوبارہ کوئی ایسی کارروائی کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ملکوں اور عوام کے درمیاں دشمنی کے شعلوں کو بڑھاوا دے کر نفرت اور کشیدگی کی دیوار کو برقرار رکھا جائے اور ان کو ایک دوسرے کے قریب نہ آنے دیا جائے۔پاکستان اور بھارت دہشتگردوں اور شرپسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بنیں گے۔

 

Advertisements