کارخانو مارکیٹ پشاور کے قریب خودکش حملہ ، طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی


435057-PB-1453183260-189-640x480

کارخانو مارکیٹ پشاور کے قریب خودکش حملہ، طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی کارخانو مارکیٹ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) فضل اللہ گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

12573222_463156927224043_2974990213066309832_n

ڈان نیوز کے مطابق دھماکے میں جمرود چیک پوسٹ کے قریب خاصہ دار فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے قریب کھڑی گاڑیوں میں بھی آگ لگ گئی.ہلاک ہونے والوں میں قبائلی یونین آف جرنلسٹس کے صدر محبوب شاہ اور اسسٹنٹ لائن آفیسر نواب شاہ بھی شامل ہیں ۔

BlastinPeshawarkills6_1-19-2016_211564_l
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھا کرنے شروع کردیے۔
کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور مبارک زیب خان نے بتایا کہ دھماکا کارخانو کے قریب خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں ہوا۔
خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹس میں دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی، تاہم بظاہر دھماکا خودکش لگتا ہے.
زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا، جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے.واضح رہے کہ کارخانو پشاور اور خبر ایجنسی کا سرحدی علاقہ ہے۔

news-1453181436-3444_large
خیبر ایجنسی افغان سرحد کے ساتھ واقع فاٹا کی سات ایجنسیوں میں سے ایک ہے جہاں پہلے دہشت گرد قبضہ جمائے ہوئے تھے، تاہم آپریشنز ‘خیبر ون’ اور ‘خیبر ٹو ‘ میں ایجنسی کو بڑی حد تک دہشت گردوں سے پاک کرالیا گیا ہے.
http://www.dawnnews.tv/news/1032227/

150611101628_peshawar_suicide_blast__640x360_epa_nocredit
ایس ایس پی انویسٹی گیشن مسعود خان خلیل نے کہا ہے کہ پشاور میں خاصہ دار کی چیک پوسٹ پر ہونے والا حملہ خودکش تھا۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے بتایا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا اور حملہ آور کا ہدف خاصہ دار کی چیک پوسٹ تھی۔
http://dailypakistan.com.pk/peshawar/19-Jan-2016/322636

دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو حیات آباد میڈیکل کمپیکس منتقل کردیا گیا جب کہ شہر کے تینوں سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے جب کہ 16 افراد کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خاصہ دار فورس کے 2 اہلکار اور ایک کم سن بچہ بھی شامل ہے۔

12438979_463156923890710_5074717513247741334_n
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے ۔
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
جنا ب رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرما یا صحا بہ کرام ؓ کو فلا ں شخص جو جہا د میں بڑی جر ات سے لڑتا ہے وہ جہنمی ہے صحا بہ ؓ حیران ہو ئے اور اس کا تعا قب شروع کر دیا کیا دیکھتے ہیں کہ وہ زخمی ہو گیا اور زخمو ں کی تا ب نہ لا کر خود اپنی تلوار اپنے سینے میں گھونپ دی اور مر گیا صحا بہ ؓ نبی ؑ کی با رگاہ میں حا ضر ہو ئے اور اسکی خبر دی تو سرکا رﷺ نے وا ضح کیا میرے صحا بہ اسلام میں خود کشی حرام ہے اور خود کشی کر نے والا جہنمی ہے ۔ جب کا فر و ں کے مقا بلے میں ایسا عمل حرام ہے تو مسلمانو ں کے خلا ف ایسا عمل کر نے والا جنتی کیسے ہو سکتا ہے ۔ لہذا دعوت فکر ہے ایسی سوچ کو کہ اسلامی روح پکڑے اپنے ان نو جوانو ں کو پیغام دینا ہے کہ جن کو جھو ٹی جنت کا لا لچ اور فریب دیکر بلیک میل کیا جا تا ہے ۔ اور انہیں خود کش حملہ کر نے کی تر غیب دی جا تی ہے وہ جا ن لیں کہ یہ عمل جنت میں جانے والا نہیں بلکہ سیدھا جہنم میں پہنچا نے والا ہے ۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے 62000 پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقتصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب 107ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے اور معیشت عدم استحکام کا شکار ہوئی ہے۔
اسلام میں انفرادی طور پر جہاد کا کوئی تصور نہ ہے اور نہ ہی اسلام انفرادی جہاد کی اجازت دیتا ہے۔یہ ڈیوٹی ریاست کی ہے کہ ریاست جہاد کا اعلان کرے۔اگر ریاست جہاد کا اعلان کر دے تو جہادتمام عوام پر فرض ہو جاتا ہے۔ اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو بےگناہوں کی گردنیں کاٹنے اور خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو، نام نہاد جہادی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے درمیان فساد فی الارض برپا کرنےکے ذمہ دار ہیں۔ جہاد کے پانچ مراحل ہیں جن میں روحانی، علمی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اور دفاعی جہاد شامل ہے. پاکستانی طالبان اور دوسرے نام نہاد جہادی پہلے چار مراحل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اسلام دشمنی میں آخری مرحلے کو پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ آخری مرحلے پر عمل صرف دفاعی صورت میں کیا جا سکتا ہے جس کی اجازت کسی جماعت یا تنظیم کو نہیں بلکہ صرف حکومت وقت کو ہے اور اس کی شرائط میں بھی دشمن کی خواتین، بوڑھوں، بچوں، سکولوں، چرچوں اور ہسپتالوں کو تحفظ کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ ویسے بھی قتال کی بڑی سخت شرائط ہوتی ہیں۔ جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔
بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق اور بچوں عورتوں کو حالت جنگ میں بھی جنگ کا ایندہن نہ بنایا جا سکتا ہے۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام امن،برداشت اور بھائی چارہ کا دین ہے۔دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ہے۔

Advertisements